قارئین بھی یہ سوچتے ہوں گے کہ یہ کالم گھسیٹ کس قسم کے قصے لے کر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی امریکہ کے میدانوں میں بے دریغ مارے جانے والے اَرنا بھینسوں کے قصے اور کبھی افریقہ میں مرنے والے سپر ٹسکر ہاتھیوں کی کہانی سنانے لگ جاتا ہے۔
ساری مخلوق کو خوش کرنا اور راضی رکھنا انسانی بس سے باہر کی بات ہے۔ اور مجھے تو اپنے کالموں کی مقبولیت کے بارے میں ویسے بھی کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ لیکن میں جب مسلسل سیاسی معاملات پر لکھتے لکھتے تنگ آ جاتا ہوں تو اس لاحاصل اور بے نتیجہ تحریروں سے تھوڑا فرار حاصل کرنے میں ہی عافیت سمجھتا ہوں اور سیاسی معاملات کی بے فیض گلی سے کہیں دور نکل جاتا ہوں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں مگر بہت سی باتیں صرف اس لیے نہیں لکھتا کہ جو چھپ ہی نہیں سکتیں‘ بھلا ان کے لکھنے کا فائدہ کیا؟ پہاڑوں‘ جنگلوں‘ میدانوں‘ ندی نالوں‘ جانوروں‘ پرندوں‘ جھیلوں اور قدرت کے ان تمام مظاہر پر لکھنا میرا شوق بھی ہے اور ان موضوعات میں لکھنے کی آزادی بھی میسر ہے۔ کسی معترض کو ان بے ضرر موضوعات سے نہ کوئی شکایت ہے اور نہ مجھے لکھنے میں کوئی رکاوٹ ہے لہٰذا میں شوق اور آزادی کو یکجا کرتا ہوں اور اس قسم کی تحریریں لکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے گمان ہے کہ یہ موضوعات بہت سے قارئین کیلئے غیر دلچسپ اور بور ہوں گے‘ تاہم مجھے یہ بھی یقین ہے کہ بہت سے قارئین جو اس قسم کے موضوعات سے دلچسپی رکھتے ہیں‘ وہ میری ان تحریروں کو ماحولیات کے تحفظ یا اس کے شعور کو فروغ دینے کی ایک کوشش سمجھتے ہوئے میری اس کاوش کو پسند بھی کریں گے اور اتفاق بھی۔
یہ مسافر دیارِ غیر میں بعض ایسی چیزیں دیکھنے کا شوقین ہے جو شاید عام طور پر مسافروں کی نظر میں نہیں جچتیں۔ وہ فلاڈیلفیا میں امریکہ کے سکے ڈھالنے والی سب سے بڑی منٹ ہو‘ امریکی جنگِ آزادی میں استقامت‘ قربانی اور عزم کی علامت رکھنے والا ویلی فورج میدان ہو یا فلاڈیلفیا کے وسط میں واقع متروک جیل ایسٹرن سٹیٹ پینیٹنشری (اصلاح خانہ) ہو‘ مسافر اس قسم کی جگہوں پر گھنٹوں گزار کر بھی بور نہیں ہوتا۔
تین چار سال قبل ہیوسٹن میں گزرتے ہوئے ایک بل بورڈ پر نظر پڑی جس پر ''Gun Show‘‘ کا اشتہار درج تھا۔ دو روز بعد وہ گن شو منعقد ہونا تھا۔ ''گن شو‘‘ کا نام پڑھ کر دل میں پرانا شوق انگڑائی لینے لگا اور مقررہ دن میں وہاں جا پہنچا۔ وہاں منعقدہ شو میں ہزاروں لوگ تھے اور ہزارہا قسم کے ہتھیار تھے۔ جدید ترین خودکار رائفلوں‘ پستولوں حتیٰ کہ مشین گنوں سے لے کر پرانے سنگل ایکشن ریوالور‘ متروک بندوقیں اور ایسے ایسے عجیب و نایاب کیلیبر دیکھنے کو ملے جن کے بارے میں صرف پڑھا یا سنا تھا۔ اس گن شو میں کمرشل اور انفرادی طور پر اسلحہ فروخت کرنے والوں کے سینکڑوں سٹال اور میزیں اسلحے سے بھری پڑی تھیں۔ خوردہ فروش دکاندار‘ ہول سیلرز‘ درآمد کنندگان‘ اسلحہ فروش اور اسلحہ بنانے والی کمپنیاں‘ غرض ہر قسم کے اسلحہ سے متعلق لوگ ادھر آئے ہوئے تھے۔ کچھ شوقین Gun Collectors اپنی اپنی کولیکشن لے کر آئے ہوئے تھے۔ میرے لیے یہی شوقین اس شو کی اصل جان تھے اور میری نظریں ادھر ہی لگی ہوئی تھیں۔
اسی گن شو میں بڑی عمر اور مضبوط کاٹھی کا ایک گورا‘ جینز اور جیکٹ پہنے‘ ایک چھوٹا سا سٹال لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے آٹھ دس بڑے بور کی بریک ایکشن‘ سنگل نالی اور دو نالی ایکسپریس رائفلیں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ سب بڑی جسامت کے شکار‘ یعنی Big Game کیلئے استعمال ہونے والی رائفلیں تھیں۔ اس کی اس نادر اور نایاب کولیکشن میں .375 ہالینڈ اینڈ ہالینڈ کی ایک ڈبل رائفل تھی‘ .400 اور .450 نائٹرو ایکسپریس کی دو رائفلوں کے ساتھ ایک .500 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل بھی موجود تھی۔ تاہم میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا مرکز اس کی .577 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل تھی۔ میں نے اس سے پوچھ کر یہ وزنی رائفل اٹھا کر بھی دیکھی۔ اس نے بتایا کہ یہ اس کو اپنے باپ سے ورثے میں ملی ہیں اور اس نے اپنی جوانی میں ان کے ساتھ افریقی جنگلی بھینسوں (کیپ بفلو) کا بہت زیادہ شکار کیا ہے اور چند ہاتھی بھی مارے‘ تاہم اس کے باپ نے ان رائفلوں سے بلامبالغہ افریقہ میں سینکڑوں بڑے جانور مارے تھے۔ مجھے اس رائفل کو دیکھنے کا ایک عرصے سے اشتیاق تھا۔ افریقہ میں بگ گیم ٹرافی ہنٹنگ کرنے والے شکاریوں نے اس رائفل سے جتنا قتلِ عام کیا اور افریقی حیاتِ جنگلی کو جتنا نقصان پہنچایا‘ شاید کسی ایک بور کی رائفل نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا ہو گا۔ 1890ء میں ایجاد ہونے والے اس بور نے‘ جو پہلے سے موجود بڑے بور کی دوسری رائفلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور اور جاں لیوا کارتوس پر مشتمل تھی‘ ہاتھی کے شکاریوں میں بہت جلد مقبولیت حاصل کر لی۔
ممکن ہے میرا یہ خیال درست نہ ہو اور بعد میں آنے والے مزید بڑے بور کی رائفلوں مثلاً .600 اور .700 نائٹرو ایکسپریس کے ساتھ اس سے بھی زیادہ ہاتھی‘ گینڈے اور جنگلی بھینسے مارے گئے ہوں لیکن میری نظر سے اب تک جو کچھ گزرا ہے اس کے مطابق سب سے زیادہ ہاتھی غالباً اسی .577 نائٹرو ایکسپریس سے مارے گئے۔ صرف چار معروف شکاریوں کے ریکارڈ‘ کتابیں اور واقعات پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ گورے شکاریوں نے افریقہ میں جس انداز سے ہاتھیوں‘ گینڈوں اور جنگلی بھینسوں کا شکار کیا وہ محض شکار نہیں بلکہ باقاعدہ قتلِ عام تھا۔ ایک ایک شکاری نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں بگ فائیو کا شکار کیا۔ افریقہ میں بگ فائیو سے مراد ہاتھی‘ گینڈا‘ جنگلی بھینسا‘ شیر اور چیتا ہیں۔
مشہور شکاری جیمز ایچ سُدرلینڈ نے .577 نائٹرو ایکسپریس ڈبل رائفل سے 1300 سے 1600 کے درمیان ہاتھی مارے۔ اسی طرح ڈیف بینک نے اسی رائفل سے ایک ہزار سے زیادہ ہاتھیوں کا شکار کیا۔ کوئنٹن جارج اور جون اے ہنٹر نے ایک ایک ہزار سے زائد گینڈوں کا شکار کیا جبکہ پیٹ پیئرسن نے تو حد ہی کر دی۔ اس نے .577 نائٹرو ایکسپریس سے 2000 ہاتھی مارے۔ اندازہ لگائیں کہ یہ صرف پانچ شکاریوں کا ذکر ہے۔ ابھی انہی شکاریوں نے اس دوران جو بھینسے‘ شیر اور چیتے مارے ہوں گے ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ آج گورے تحفظِ جنگلی حیات کیلئے جتنے سرگرم ہیں اس کے پیچھے ایک احساسِ ندامت ہے جس کا وہ کفارہ ادا کر رہے ہیں کہ روئے ارض پر بہت سے جانور صرف انہی کے اندھا دھند شکار‘ شیر اور چیتے کی کھالوں کے کاروبار‘ ٹرافی ہنٹنگ‘ ہاتھی کے دانت اور گینڈے کے سینگ اکٹھا کرنے اور بیچنے کی لالچ نے تقریباً تقریباً نیست ونابود ہونے کے قریب پہنچا دیے۔ امریکہ میں نابود ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کے مسکن محفوظ رکھنے کیلئے Endangered Species Act of 1973 نامی قانون تھا۔ یہ قانون خطرے سے دوچار جانوروں کے محفوظ مسکن کو تحفظ دیتا تھا۔ اب اس قانون میں ٹرمپ ایڈمنسٹریشن نے تبدیلی کرتے ہوئے یہ قرار دیا ہے کہ جانوروں کے تحفظ سے مراد اُن کو مارنے یا شکار کرنے سے روکنا اور پابندی لگانا ہے۔ ان کے محفوظ مسکن کی تباہی ان کے تحفظ کے آڑے نہیں آتی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب خطرے سے دوچار جانوروں کے مسکن ہی محفوظ نہ رہے تو رہنے والے کہاں محفوظ رہتے ہیں؟ یہ حال انسانوں اور جانوروں پر یکساں لاگو ہے۔ ٹرمپ کے آنے کے بعد بعض معاملات میں امریکہ کا حال بھی ہمارے جیسا ہو گیا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved