تحریر : شاہد صدیقی تاریخ اشاعت     29-07-2026

جامعات میں ا ضافہ، سکولوں میں کمی

اکنامک سروے 2025-26ء کا بغور مطالعہ پاکستان کی تعلیمی حکمتِ عملی میں ایک حیران کن تضاد سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف حکومت جامعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے تو دوسری طرف اسی سرکاری دستاویز میں یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کہ ملک میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور ہزاروں سکول اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا پاکستان کی تعلیمی ترجیحات ان بنیادوں سے دور ہوتی جا رہی ہیں جن پر ایک مضبوط تعلیمی نظام استوار ہوتا ہے؟
اکنامک سروے کے مطابق اس وقت ملک میں 278جامعات ہیں جن میں 163سرکاری اور 115نجی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت پورے ملک میں صرف دو جامعات تھیں۔ بظاہر یہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ایک قابلِ ذکر پیش رفت دکھائی دیتی ہے لیکن جب سروے میں دوسرے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو ایک مختلف اور تکلیف دہ تصویر سامنے آتی ہے۔ ملک میں پرائمری اور مڈل سکولوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ 2022-23ء میں سرکاری شعبے میں پرائمری سکول ایک لاکھ 68 ہزار 241 تھے‘ جو 2023-24ء میں کم ہو کر ایک لاکھ 58 ہزار 713 ہو گئے جبکہ 2024-25ء میں ان کی تعدادمزید کم ہو کر ایک لاکھ 54 ہزار 964 رہ گئی۔ مڈل سکول بھی اسی رجحان کا شکار ہیں۔ ان کی تعداد 51 ہزار 33 سے کم ہو کر 43 ہزار 931 رہ گئی ہے۔ صرف دو برسوں میں پاکستان میں تیرہ ہزار سے زائد سرکاری پرائمری اور سات ہزار سے زیادہ مڈل سکول ختم ہو گئے جبکہ اسی عرصے میں جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔یہ صورتحال اُس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب دوسرے اعداد و شمار کو بھی ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ ایک طرف پرائمری سکول کم ہو رہے ہیں‘ دوسری طرف پرائمری سطح پر داخلوں کی تعداد 2 کروڑ 46 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 57 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ لیکن پرائمری اساتذہ کی تعداد پانچ لاکھ چھ ہزار انیس سے کم ہو کرچار لاکھ 31 ہزار 492 رہ گئی ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ کلاسیں مزید بھری ہوں گی‘ اساتذہ پر بوجھ بڑھے گا اور تدریسی معیار متاثر ہوگا۔ اگرچہ سروے اس نتیجے کو خود بیان نہیں کرتا لیکن اعداد و شمار آپ اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سروے سکولوں کی تعداد میں کمی کی کوئی وضاحت پیش نہیں کرتا۔ کیا یہ سکول دوسرے اداروں میں ضم کر دیے گئے؟ کیا پرائمری سکولوں کو مڈل اور مڈل سکولوں کو ہائی سکول کا درجہ دیا گیا؟ یا پھر کم داخلوں کی وجہ سے انہیں بند کر دیا گیا؟ ممکن ہے ان میں سے کوئی یا یہ تمام وجوہ درست ہوں لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ حکومت کی سب سے اہم سالانہ تعلیمی رپورٹ اس بارے میں مکمل خاموش ہے۔ جب تک اس کمی کی وجوہات واضح نہ کی جائیں‘ یہ جاننا ممکن نہیں کہ یہ صرف انتظامی تبدیلی ہے یا واقعی سکولوں کے نظام میں سکڑاؤ آ رہا ہے۔
اگر سکولوں کی تعداد سے آگے بڑھ کر ان کی حالت دیکھی جائے تو صورتحال مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے۔ ملک بھر کے 65 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی دستیاب ہے‘ جبکہ بلوچستان میں یہ شرح 21 فیصد ہے۔ پینے کے صاف پانی کی سہولت قومی سطح پر 76 فیصد سکولوں میں موجود ہے‘ مگر بلوچستان میں صرف 29 فیصد سکول اس سہولت کے حامل ہیں۔ ہزاروں سکول اب بھی بیت الخلا اور چاردیواری جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ معمولی خامیاں نہیں بلکہ وہ بنیادی شرائط ہیں جن پر بچوں کی محفوظ‘ صحتمند اور مؤثر تعلیم کا انحصار ہوتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ جامعات کا قیام غیر ضروری ہے۔ پاکستان نوجوان آبادی والا ملک ہے جہاں اعلیٰ تعلیم کی طلب بڑھ رہی ہے۔ نئی جامعات کی ضرورت بھی ہے اور ان کا قیام خوش آئند بھی۔ اصل سوال ترجیحات کے توازن کا ہے۔ کوئی بھی جامعہ ایسے طلبہ کو عملی زندگی میں زیادہ کامیاب نہیں بنا سکتی جو کمزور سکولوں سے تعلیم حاصل کر کے آئے ہوں۔ اگر سرمایہ کاری اور توجہ کا زیادہ حصہ اعلیٰ تعلیم کی طرف منتقل ہو جائے اور بنیادی تعلیم اور سکول کا نظام کمزور ہوتا جائے تو پورا تعلیمی ڈھانچہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ 2002ء میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام کے بعد پاکستان میں جامعات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا‘ خصوصاً نجی شعبے میں۔ لیکن صرف جامعات کی تعداد بڑھانا تعلیمی ترقی کی ضمانت نہیں۔ اصل سوالات تعلیمی معیار‘ فارغ التحصیل طلبہ کے روزگار کے حصول‘ تحقیقی پیداوار‘ اساتذہ کی استعداد اور جامعات کے نظام سے متعلق ہیں۔ اکنامک سروے ان اہم پہلوؤں پر تقریباً خاموش ہے۔نئی جامعات کے چارٹر دینے کے عمل پر بھی وقتاً فوقتاً سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ضابطے کے مطابق کسی نئی جامعہ کے قیام سے پہلے جامع فزیبلٹی سٹڈی‘ تدریسی صلاحیت اور دیگر ضروری تقاضوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے لیکن میڈیا میں متعدد مرتبہ ایسی اطلاعات آتی رہی ہیں کہ بعض جامعات کو ناکافی انفراسٹرکچر‘ محدود تدریسی وسائل اور غیر مکمل منصوبہ بندی کے باوجود چارٹر دے دیے گئے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر تعلیمی معیار سے زیادہ سیاسی مصلحتیں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ جامعات کی جغرافیائی تقسیم بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ نئی جامعات کا بڑا حصہ پنجاب‘ سندھ اور وفاقی دارالحکومت میں قائم ہوا جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وہ علاقے جہاں تعلیمی پسماندگی سب سے زیادہ ہے‘ نسبتاً نظر انداز رہے۔ یہی وہ خطے ہیں جہاں شرحِ خواندگی سب سے کم ہے اور معیاری سکولوں تک رسائی بھی محدود ہے۔ اگر منصوبہ بندی حقیقی ضرورت کی بنیاد پر ہوتی تو سرکاری سرمایہ کاری کا رخ پہلے ان علاقوں کی طرف ہونا چاہیے تھا۔پاکستان کے مجموعی تعلیمی اشاریے بھی اسی تشویش کو تقویت دیتے ہیں۔ اکنامک سروے کے مطابق متوقع تعلیمی مدت صرف 7.9سال ہے جبکہ اوسط تعلیمی مدت محض 4.3سال‘ جو جنوبی ایشیا میں کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ شرحِ خواندگی اگرچہ 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے لیکن صوبائی‘ صنفی اور دیہی و شہری تفاوت اب بھی نمایاں ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا اصل تعلیمی چیلنج صرف جامعات کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ سکول کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مزید جامعات بنانی چاہئیں یا نہیں۔ یقینا بنانی چاہئیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ تعلیم کی توسیع نے سکول کی تعلیم کی مضبوطی کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جامعات طلبہ کو ڈگریاں دیتی ہیں لیکن طلبہ کی اصل بنیاد سکول بناتے ہیں۔ یہ عدم توازن صرف عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی معیار پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر طلبہ کمزورسکولوں‘ کھچا کھچ بھری ہوئی کلاسوں اور بنیادی سہولتوں سے محروم ماحول سے گزر کر جامعات تک پہنچیں گے تو صرف جامعات کی تعداد بڑھانے سے بہتر تعلیم حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس صورت میں ڈگریاں تو بڑھ سکتی ہیں لیکن سیکھنے کا معیار نہیں۔پاکستان کو ایک زیادہ متوازن تعلیمی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ نئی جامعات کے قیام کے فیصلے شفاف فزیبلٹی سٹڈیز‘ علاقائی ضروریات اور سخت تعلیمی معیارات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ سیاسی مصلحتوں پر۔ اسی کے ساتھ پرائمری اور مڈل سکولوں کے تحفظ‘ نئے سکولوں کے قیام‘ اہل اساتذہ کی بھرتی‘ بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ہر بچے کیلئے محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے۔جامعات کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ناگزیر ہیں لیکن وہ سکولوں کے بنیادی اور مضبوط نظام کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ کاش ہم دنیا کے کامیاب تعلیمی تجربات سے سیکھ سکیں جہاں دنیا کے بہترین تعلیمی نظام پہلے مضبوط سکول بناتے ہیں‘ پھر عالمی معیار کی جامعات وجود میں آتی ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved