تحریر : محمد حسن رضا تاریخ اشاعت     29-07-2026

انتخاب کا پہلا مرحلہ،نیا امتحان

انتخابات جمہوریت کا حسن ضرور ہوتے ہیں مگر کسی بھی معاشرے کی اصل کہانی انتخابی نتائج سے نہیں بلکہ ان نتائج کے بعد لکھی جاتی ہے۔ جلسوں کی رونق‘ نعروں کی گونج‘ مخالفین پر تنقید‘ وعدوں کی بارش اور کامیابی کے دعوے چند دنوں میں ماضی بن جاتے ہیں۔ پھر ایک خاموش صبح آتی ہے جب بیلٹ بکس بند ہو چکے ہوتے ہیں‘ حتمی فیصلے سامنے آ چکے ہوتے ہیں اور اقتدار کی ذمہ داری منتخب نمائندوں کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ وہیں سے سیاست ختم اور حکمرانی شروع ہوتی ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہو چکے۔ مسلم لیگ (ن) اپنی کامیابی کو عوامی اعتماد کا مظہر قرار دے رہی جبکہ پیپلز پارٹی نے متعدد حلقوں میں مبینہ دھاندلی‘ انتظامی بے ضابطگیوں‘ سرکاری وسائل کے استعمال اور سیاسی ترغیبات کے الزامات عائد کیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں عوامی مینڈیٹ کا فیصلہ قرار دے رہی ہے۔ ایسے میں متعلقہ آئینی اور انتخابی اداروں پر لازم ہے کہ ہر اعتراض کا شفاف اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے کیونکہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے سے نہیں بلکہ انتخابی عمل پر تمام فریقوں کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا پہلا مرحلہ ہی متنازع بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ردِعمل نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ اگر پہلے مرحلے سے متعلق اعتراضات کا بروقت‘ شفاف اور غیر جانبدارانہ ازالہ نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ انتخابی عمل کا دوسرا مرحلہ بھی تنازعات اور بداعتمادی کی زد میں آ سکتا ہے۔ یہی وہ صورتحال ہے جس سے انتخابی اداروں کو ہر قیمت پر بچنا ہوگا تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رہے۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی پوری سیاسی اور تنظیمی قوت میدان میں اتاری۔ نواز شریف نے انتخابی مہم کی قیادت کی‘ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مسلسل عوامی رابطہ مہم چلائی جبکہ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے انتخابی حکمت عملی اور میڈیا کے محاذ کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے بھی بھرپور انتخابی مہم چلائی اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت سیاسی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات کا مقصد صرف اقتدار کا حصول ہے یا ریاستی ترجیحات کا تعین بھی؟ یہی وہ سوال ہے جو الیکشن کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔
آزاد کشمیر قدرتی حسن‘ زرخیز زمین‘ سیاحتی مقامات‘ پن بجلی اور مضبوط اوور سیز کمیونٹی جیسے بے شمار وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کے باوجود اگر نوجوان روزگار کیلئے ہجرت پر مجبور ہوں‘ سیاحت اپنی معاشی صلاحیت سے محروم ہو اور تعلیم و صحت مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ سکیں تو مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ حکمرانی اور ترجیحات کا ہے۔ اس لیے نئی حکومت کے سامنے سڑکیں بنانے سے پہلے ادارے مضبوط کرنا سب سے بڑا امتحان ہے۔ تعلیم‘ صحت‘ سیاحت‘ ماحولیات‘ بلدیاتی نظام اور نوجوانوں کی مہارت کو ترقی کی بنیاد بنانا ہوگا‘ ورنہ انتخابی کامیابی محض ایک سیاسی واقعہ بن کر رہ جائے گی۔ آزاد کشمیر کی معیشت کی سب سے بڑی امید سیاحت ہے مگر سیاحت صرف خوبصورت مناظر کا نام نہیں بلکہ محفوظ سڑکوں‘ جدید ریسکیو سروس‘ معیاری رہائش‘ تربیت یافتہ گائیڈز‘ ٹریفک نظم اور ماحول دوست منصوبہ بندی کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ نیلم‘ لیپہ‘ شاردہ‘ کیل‘ پیر چناسی‘ باغ اور راولا کوٹ عالمی سیاحتی مراکز بن سکتے ہیں اگر منصوبہ بندی عالمی معیار کی ہو۔ اوور سیز کشمیری بھی اس خطے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر حکومت انہیں واضح سرمایہ کاری پالیسی دے تو ان کا سرمایہ سیاحت‘ آئی ٹی‘ زراعت‘ صنعت اور فنی تعلیم میں نئی معاشی سرگرمیوں کو جنم دے سکتا ہے۔ تعلیم میں اصل سرمایہ جدید نصاب‘ معیاری اساتذہ‘ تحقیق اور ڈیجیٹل مہارت ہے جبکہ صحت کے شعبے میں ٹیلی میڈیسن‘ جدید ضلعی ہسپتال‘ فعال بنیادی مراکز صحت اور مؤثر ایمرجنسی نظام ناگزیر ہیں۔
آج کا ووٹر پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ نعروں سے زیادہ کارکردگی کا جائزہ لیتا ہے‘ اور آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر وعدہ عوامی احتساب کا حصہ بن جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے اس الیکشن میں اپنی سیاسی اور تنظیمی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے مگر پہلے مرحلے میں کامیابی کیساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ عوام اب تقاریر نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ایسی حکمرانی درکار ہے جو اداروں کو مضبوط اور انصاف کو یقینی بنائے‘ نوجوانوں کیلئے مواقع پیدا کرے اور عوامی اعتماد کو مزید مستحکم کرے۔ قوموں کی ترقی آخرکار جلسوں کی تعداد یا انتخابی اکثریت سے نہیں بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ ایک بچہ کس معیار کے سکول میں پڑھتا ہے‘ ایک مریض کو علاج کتنی آسانی سے ملتا ہے‘ ایک نوجوان کو روزگار کے کتنے مواقع میسر ہیں اور ایک شہری کو قانون پر کتنا اعتماد ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب اصل فیصلہ نئی حکومت نے کرنا ہے کہ وہ اس مینڈیٹ کو ایک مخصوص مدت تک اقتدار کی لذت سمجھتی ہے یا آنیوالی نسلوں کے مستقبل کی امانت۔ اگر ترجیح اداروں کی مضبوطی‘ تعلیم وصحت‘ سیاحت‘ معیشت‘ شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو دی گئی تو یہ انتخاب ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے لیکن اگر سیاست پھر صرف اگلے الیکشن تک محدود رہی تو تاریخ ایک اور ضائع ہونے والے موقع کا نوحہ ہی لکھ پائے گی۔ اقتدار حاصل کرنا ہر سیاستدان کیلئے کامیابی کی ایک علامت ہو سکتا ہے مگر تاریخ صرف انہی حکمرانوں کو یاد رکھتی ہے جو وعدوں کو پالیسی میں اور عوام کے اعتماد کو قومی ترقی میں بدل دیتے ہیں۔ یہی آزاد کشمیر کی نئی قیادت کا اصل امتحان ہو گا۔
آزاد کشمیر میں ترقی کے سفر کو پائیدار بنانے کیلئے صرف بڑے ترقیاتی منصوبے ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ گڈ گورننس کو بھی ریاستی پالیسی کا بنیادی ستون بنانا ہوگا۔ جدید دنیا میں کامیاب حکومتیں وہی سمجھی جاتی ہیں جو فیصلوں میں شفافیت‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم‘ ڈیجیٹل گورننس‘ احتساب اور عوامی شرکت کو یقینی بناتی ہیں۔ سرکاری اداروں کی کارکردگی کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا‘ خدمات کی آن لائن فراہمی‘ شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام اور مالی معاملات میں شفافیت نہ صرف عوامی اعتماد میں اضافہ کرتے بلکہ سرمایہ کاری کیلئے بھی سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان آبادی کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کے ہزاروں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار کے مناسب مواقع سے محروم ہیں۔ اگر حکومت فنی تعلیم‘ ڈیجیٹل سکلز‘ آئی ٹی پارکس‘ فری لانسنگ‘ چھوٹے کاروباروں کیلئے آسان قرضوں اور کاروباری معاونت کے منصوبوں پر توجہ دے تو نوجوان روزگار تلاش کرنے والے نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بن سکتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ بھی نئی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پہاڑی علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بے ہنگم تعمیرات‘ جنگلات کی کٹائی‘ لینڈ سلائیڈنگ اور آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ مستقبل کیلئے سنجیدہ خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ترقیاتی منصوبوں میں ماحول دوست پالیسیوں‘ جنگلات کے تحفظ‘ جدید ویسٹ مینجمنٹ اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔
آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انتخابی نتائج کے حوالے سے جاری احتجاج کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا فطری حصہ ہے مگر اس کا پائیدار حل آئینی طریقہ کار‘ برداشت اور بامعنی مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں‘ اداروں اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ عوامی تحفظات کو سنجیدگی سے سنیں‘ شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے لائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔ جمہوریت کی اصل کامیابی مخالفین کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اختلافات کو آئین‘ قانون اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے میں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved