''میرے پاس وڈیوز آئیں۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ ہم نے یعنی بھارتی پنجاب نے گیارہ سو کروڑ کا تھرمل پلانٹ خریدا۔ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری نے گیارہ سو کروڑ کا جہاز لیا۔ تو پھر فائدہ کس کو ہوا؟‘‘۔ یہ انتہائی احمقانہ سوال بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب بھگونت مان کا ہے۔ جواب بچے کو بھی معلوم ہے کہ فائدہ پاکستانی پنجاب کی مکھ منتری کو ہوا۔ عوام کو ترجیح دینا‘ دیانتداری‘ پبلک کی فلاح و بہبود‘ یہ سب کتابی باتیں ہیں۔ ہاں! کسی زمانے میں یہ درست تھا مگر اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب گیدڑ کی سو سالہ زندگی شیر کی ایک دن کی زندگی سے کئی گنا بہتر ہے۔ اب اصول اسے کہتے ہیں جس سے کچھ وصول ہو۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ اقتدار اور اختیار ملے تو پہلے اپنے ذاتی آرام و آسائش کا خیال رکھو۔ پھر اپنے پیاروں کا۔ پھر خاندان بھر کا۔ اس کے بعد بھی قدرت موقع دیے رکھے اور رسی دراز رہے تو اپنے قبیلے‘ ذات برادری کا۔ عوام کی باری اس کے بعد آتی ہے۔ یہ بھارتی پنجاب کے مکھ منتری مجھے مکمل غیرعقل مند لگ رہے ہیں۔ ان کی حرکت دیکھیے کہ مکھ منتری بنتے ہی وی آئی پی کلچر پر حملہ کر دیا۔ 122سابق ممبرانِ اسمبلی اور وزرا سے پولیس پروٹوکول ہٹوا دیا۔ 384پولیس اہلکاروں کو‘ جو اُن گردن بلندوں کی سکیورٹی پر مامور تھے‘ واپس اپنے اصل محکموں میں بھیج دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا کہ پولیس عوام کے کاموں کیلئے ہے نہ کہ وی آئی پی کی حفاظت کیلئے۔ کر لیا نا اتنے سارے سیاستدانوں کو اپنے خلاف! کل ان سے کام پڑ گیا تو بھائی صاحب کیا کریں گے؟ اس کے مقابلے میں ہمارے پنجاب کی وزیراعلیٰ زیادہ حقیقت پسند اور Pragmatic ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ان کے صاحبزادے کہیں جا رہے تھے۔ آگے پیچھے پروٹوکول کی گاڑیاں تھیں۔ ایک گاڑی سے ٹریفک قانون کی خلاف ورزی سرزد ہوئی تو ٹریفک پولیس نے اس کا چالان کر دیا۔ قانون کی اس ''پاسداری‘‘ پر وزیراعلیٰ نے پولیس کی تعریف کی اور ''عوام‘‘ نے بھی۔ بات واقعی قابلِ تعریف تھی کہ وزیراعلیٰ کے صاحبزادے کی پروٹوکول گاڑی کو بھی قانون نے معاف نہیں کیا۔ یہ گاڑی میڈیا کے مطابق صاحبزادے کے سکیورٹی پروٹوکول کا محض حصہ تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ گاڑیاں اس ڈیوٹی پر اور بھی مامور ہوں گی۔ یعنی کئی گاڑیاں! یہاں یہ سوال اٹھتا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص‘ جس کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے‘ اس سرکاری پروٹوکول کا حقدار ہے جس کے اخراجات سرکاری خزانہ برداشت کر رہا ہو؟ ظاہر ہے کہ نہیں! کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں کسی حکمران کی اولاد کو سرکاری پروٹوکول نہیں ملتا کیونکہ وہ تو ایک عام شہری ہے۔ لوگوں کو متاثر کرنے کیلئے چالان کرنے والی پولیس کی تعریف کا فائدہ یہ ہوا کہ ''عقلمند‘‘ عوام نے خوب واہ واہ کی۔ یہ کسی نے نہ پوچھا کہ بھئی! سرکاری پروٹوکول گاڑیاں ایک عام شہری کو فراہم کیوں کی گئیں؟ اس کے مقابلے میں مغرب کے بے وقوف حکمرانوں کا رویہ نوٹ کیجیے۔ مارگریٹ تھیچر جب برطانیہ کی وزیراعظم تھیں تو کسی سے اپنا دکھ شیئر کیا کہ وہ اپنے پوتوں پوتیوں کے ہجر میں بے قرار رہتی ہیں جو امریکہ میں رہ رہے تھے۔ تھیچر کا بیٹا بزنس مین تھا۔ دی ٹائمز لندن کے مطابق تھیچر نے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا تعارفی خط دیا جو بیٹے نے عمان کے سربراہ کو پیش کیا۔ وہاں تھیچر کے بیٹے کو بزنس کے مواقع ملے۔ تھیچر نے بیٹے کو حکم دیا کہ برطانیہ چھوڑ کر امریکہ چلا جائے تاکہ حکومت کو اس کی مدد کرنے کا طعنہ نہ ملے! ہے ناں حماقت!! ہمارے حکمرانوں کے اعزہ و اقارب اپنے مقتدر رشتہ داروں کا خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں اور کروڑوں اربوں کماتے ہیں!!!
وزیراعظم کے صاحبزادے جناب حمزہ شہباز شریف بھی اکھاڑے میں اُتر چکے ہیں۔ انہیں وزیراعظم کے دفتر میں چھٹے فلور پر آفس دیا گیا ہے۔ جانشینی کی جنگ پاکستانی سیاست میں ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔ افضل منہاس کا شعر یاد آگیا اگرچہ اس کا پورا اطلاق یہاں ہو بھی نہیں ہو رہا:
وہ جنگ زرگری ہے کہ محشر بپا ہوا
ہر شخص ایک عمر سے اگلی صفوں میں ہے
پاکستانی جمہوریت کا نشانِ امتیاز یہ ہے کہ اقتدار نسل در نسل چلتا ہے۔ اقتدار سے مراد صرف حکومت نہیں پارٹی کی سیادت بھی ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اصل سرداری تو پارٹی کی قیادت ہی میں مخفی ہے۔ اقتدار اس سرداری کا ایک چھوٹا سا کرشمہ ہے۔ پارٹی کی قیادت یہاں موروثی ہے۔ جوان قیادت کے سامنے سفید سر‘ عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ سیاستدان جب خمیدہ سروں کے ساتھ ریشہ خطمی ہوتے ہیں تو جمہوریت کا مزہ ہی آجاتا ہے۔ مریم نواز‘ بلاول اور مولانا اسعد محمود پہلے ہی میدان میں ہیں۔ مونس الٰہی اگرچہ پیش منظر سے ہٹے ہوئے ہیں مگر جانشینی ان کی محفوظ ہے۔ رکشوں کے پیچھے عجیب و غریب جملے لکھے ہوتے ہیں جن میں سے اکثر عامیانہ ہو چکے ہیں۔ ایک دوست نے ایک رکشے کے پیچھے جو فقرہ لکھا دیکھا وہ عجیب تر تھا اور کثیر الاستعمال! ''نیز انجن ادھر بھی نیا ہے‘‘۔ لگتا ہے صاحبزادے کو میدان میں اتارنے سے پہلے یہ کہا گیا ہو گا کہ ''نیز انجن ادھر بھی نیا ہے‘‘! ہمارے ایک دوست نے‘ جنہیں اصل جمہوریت کا بقول کسے ہیضہ ہے‘ اس خبر کا بہت برا منایا۔ کہنے لگے: حمزہ شہباز آخر کس حیثیت میں وزیراعظم کے دفتر میں فرو کش ہوں گے؟ ان کے پاس تو کوئی سرکاری عہدہ نہیں۔ ایسا تو موروثی بادشاہتوں میں ہوتا ہے۔ پہلے ہی وزیراعظم کے دائیں بائیں ''نامنتخب‘‘ حضرات کا حصار بندھا ہے۔ میں نے اس دوست کو غور سے دیکھا اور ہنسا! کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یورپ یا آسٹریلیا میں بیٹھے ہیں۔ اس دوست کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کل شام کو تو پیدا نہیں ہوئے کہ پاکستانی جمہوریت سے ناواقف ہوں۔ دیکھ نہیں رہے کہ کئی دہائیوں سے پارٹیوں پر اور حکومتوں پر خاندانوں کا قبضہ ہے۔ اگر مریم نواز‘ اسعد محمود اور بلاول اپنے اپنے والدِ گرامی کے جانشین ہو سکتے ہیں تو بہتی گنگا میں حمزہ کیوں نہ ہاتھ دھوئے؟ اس دوست کو شورش کاشمیری کا یہ شعر بھی یاد دلایا:
یار لوگوں کو شکایت ہے کہ نافرمان لوگ
خاندانوں سے الجھنے آ گئے شیطان لوگ
یہ خاندان مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہیں۔ ان بنیادوں میں زمانوں کا سیمنٹ اور بجری بھری ہے۔ رعایا منتظر ہے کہ چشم فلک اگلا منظر کیا دکھاتی ہے؟ کون وزیراعظم ہو گا؟ کس کا نورِ نظر ہو گا یا کس کا جگر گوشہ ہو گی؟ جو بھی ہو گا یا ہو گی خاندان ہی میں سے ہو گا یا ہو گی۔
رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے عجز صدیوں کا
رعیت آج بھی اک بادشاہ مانگتی ہے
میرے اس مدلل جواب سے دوست کے جمہوری ہیضے کو افاقہ ہوا تو اس نے ایک اور اعتراض جَڑ دیا۔ کہنے لگا: آزاد کشمیر کے حوالے سے میاں نواز شریف صاحب کیلئے مناسب نہیں تھا کہ وہ خود بلاول کو مخاطب کرتے۔ اس کام کیلئے مریم موزوں تھیں یا پارٹی کا کوئی اور رکن! اور تین بار وزیراعظم رہنے کے بعد بڑے میاں صاحب کا ''لاہور ہیری ٹیج ایریا ریوائیول بورڈ‘‘ کی سربراہی قبول کر لینا بھی عجیب بات ہے۔ قانونی طور پر وہ اب چیف منسٹر‘ متعلقہ وزیر اور متعلقہ سیکرٹری کے ماتحت ہوں گے۔ میں نے اپنے دوست کو جواب دیا کہ میاں صاحب ذہنی طور پر اپنے آپ کو لاہور ہی کا حکمران سمجھتے رہے۔ ان کے چار ہی تو ٹھکانے ہیں۔ لاہور‘ مری‘ لندن اور جنیوا!!! اللہ بس باقی ہوس۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved