تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     30-07-2026

مزاحمت اور تشدد

مزاحمت اور تشدد ہم معنی نہیں ہیں۔ یہ بات اگر پاکستان میں درست ہے تو بھارت میں بھی درست ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ہو یا افریقہ‘ اس کا اطلاق دنیا کے ہر خطے پر ہوتا ہے۔
ہم فلسطین سے لے کر مقبوضہ کشمیر تک ہر پُرتشدد تحریک کے حامی ہیں لیکن جب بات گھرکی ہوتی ہے تو خاموشی کے حصار میں پناہ لے لیتے ہیں۔ اگر کبھی اس چادر کو سرکا کر‘ ایک آنکھ سے باہر کا منظر دیکھتے اور پھر زبان کھولتے ہیں تو ریاست کے فضائل و برکات بیان کرتے ہیں۔ اس کے خلاف کھڑا ہو نے کے مضمرات پر گفتگو فرماتے ہیں اور پھر اسی چادرِ عافیت کو اوڑھ لیتے ہیں جو بسا اوقات ریاست ہی کی عطا ہوتی ہے۔
بارِ دگر عرض ہے کہ مزاحمت اور تشدد کو اگر کسی نے ہم آہنگ قرار دیا ہے تو وہ بیسویں صدی میں اٹھنے والی انقلابی تحریکیں ہیں‘ جو نظریاتی تھیں۔ اس میں سرخ و سبز کا کوئی امتیاز نہیں۔ انقلابی سوچ میں خود سے کئی گنا بڑی طاقت سے ٹکرا جانا مزاحمت کا اعلیٰ ترین مظہر قرار پایا۔ شہادت کو مطلوب و مقصود بنا لیا گیا۔ موت کو زندگی سے زیادہ گلیمرائز کیا گیا۔ جہاں جہالت غالب رہی‘ وہاں یہ بیانیہ انتہاؤں کو چھونے لگا۔ اگر یہ لوگ کچھ پڑھ لکھ گئے تو انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو انہی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ نیورو سائنسز کی ڈگری کے ساتھ القاعدہ کے کیمپ جا پہنچے۔ میں حیران ہوتا ہوں جب لندن اور دوسرے ترقی یافتہ شہروں میں بیٹھے ہمارے کشمیری بھائی پُرتشدد رویوں کی تحسین کر رہے ہوتے ہیں۔ سادہ سی بات ہے کہ سر حد کے اُس طرف اگر بھارت بیٹھا ہے‘ جہاں ہمارے کشمیری بھائی پہلے ہی حالتِ جنگ میں ہیں اور ہر کشمیری کا دل کسی نہ کسی شہید کی یاد کا مسکن ہے توکیا یہ عقل کی بات ہے کہ ریاستِ پاکستان کے خلاف نفرت آمیز بیانیے کو فروغ دیا جائے؟ کیا کشمیریوں کا مفاد اسی میں ہے؟ کیا سرحد کے دونوں اطراف بیٹھی کشمیری قیادت کا کام شہادتوں کے سرٹیفکیٹ بانٹنا ہے؟ کیا اسمبلی کی چند نشستوں کیلئے لاشیں گرانا ضروری تھا؟ کیا اس مقصد کو پُرامن طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا؟ کیا آزاد کشمیر میں سیاسی عمل معطل ہو چکا تھا؟ کیا وہاں سیاسی جماعتیں نہیں ہیں؟ کیا وہاں انتخابات نہیں ہو رہے؟ جب سیاسی عمل جاری ہے تو اس کا سہارا کیوں نہیں لیا گیا؟ اس سے مطالبہ تسلیم کرانے میں دیر ہو جاتی لیکن لاشیں تو نہ گرتیں۔ جو نوجوان اس آگ میں جھونک دیے گئے‘ کیا ان کو پھر سے زندہ کرنا کسی انسان کے بس میں ہے؟ جس گھر کا چراغ بجھ گیا‘ کیا وہاں کبھی چراغاں ہو سکے گا؟ اگر ان سوالات پر پہلے غور کر لیا جاتا تو آج آزاد کشمیر اس صورتحال سے دو چار نہ ہوتا جس نے ہم سب کو اداس کر دیا ہے۔ کاش ریاست بھی اس معاملے کو سیاست کی نظر سے دیکھتی۔ شرپسندوں اور ان کی باتوں میں آنے والے سادہ شہریوں میں تمیز کرتی۔ کاش کشمیر کی سیاسی قیادت اپنا کردار ادا کرتی۔ جب کسی قوم کے پاس صرف 'کاش‘ کا لفظ رہ جائے تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حالات اس کے قابو میں نہیں ہیں۔
اہلِ کشمیر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مطالبات کیلئے آواز اٹھائیں۔ ان کے بہت سے مطالبات تسلیم بھی کیے گئے۔ جو باقی تھے وہ بھی مان لیے جاتے۔ مسئلہ مگر اس انقلابی سوچ نے پیدا کیا جو مزاحمت اور تشدد میں فرق نہیں کرتی اور جس کا خیال ہے کہ انقلاب کیلئے خون دینا پڑتا ہے۔ آتشِ نمرود میں سوچے سمجھے بغیر کود جانا عزیمت قرار پاتا ہے۔ اس میں پھر کم علمی کا دخل ہے جو آتشِ نمرود کو سمجھ سکی نہ حکمِ خداوند ی کی علت کو اور نہ شاعرِ مشرق کی بصیرت کو۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ چند نشستوں سے کون سا انقلاب آ جانا تھا؟ انقلابی نفسیات میں مگر سوچنا منع ہے۔ ایسے سوالات کو انقلاب سے غداری سمجھا جاتا ہے‘ اس لیے کوئی نہیں اٹھاتا۔
ان نظریاتی تحریکوں سے روشنی پانے والوں میں مگر ایک طبقہ ایسا ہے جو سوچتا سمجھتا ہے اور جس نے علم سے اپنا ناتا نہیں توڑا۔ اسے یہ احساس ہے کہ جہاں ایک آئینی ریاست موجود ہو وہاں مزاحمت کیلئے پُرتشدد طریقے استعمال نہیں کیے جاتے۔ اس کی ایک مثال بھارتی نوجوان ہیں۔ ان کی قیادت بائیں بازو کے طلبہ و طالبات کر رہے ہیں۔ وہ اگرچہ بھگت سنگھ اور مولانا حسین احمد مدنی کے حوالے دے رہے ہیں مگر یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک بدیشی سامراج سے نبرد آزما تھے اور یہ ایک آئینی ریاست کے دائرے میں اپنے حق کیلئے اٹھے ہیں۔ مولانا مدنی بھی آخری دور میں سیاسی جد وجہد ہی کے قائل ہو گئے اور انہوں نے جمعیت علمائے ہند کے محاذ سے سیاسی جنگ لڑی۔ شیخ الہند اور انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ آج اٹھنے والے نوجوانوں کو اپنی ریاست سے شکایات ہیں اور اس میں شبہ نہیں کہ مودی رجیم فاشسٹ ہے۔ اس کے باوصف انہوں نے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔
آزاد کشمیر میں جو لوگ کھڑے ہوئے ہیں‘ ان کا کوئی نظر یاتی پس منظر نہیں۔ انہیں کچھ خبر نہیں کہ انسانی جان کی کیا قیمت ہے اور ریاست کیا ہوتی ہے۔ پاکستان کی طرح وہاں بھی نیم خواندہ لوگوں نے عوامی جذبات کو بھڑکایا اور اسے شعور کا نام دے دیا۔ اس جذباتیت اور نیم خواندگی کے نتائج ہم ان لاشوں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں جس نے ہم سب کو دکھی کردیا ہے۔اس تحریک کا حاصل صرف وہ لاشیں ہیں جنہوں نے کئی گھروں کی فضا کوہمیشہ کیلئے سو گوار بنا دیا ہے۔ان کو اب پاکستانی انقلابیوں کی حمایت بھی میسر نہیں جو مزاحمت اور تشدد کولازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔وہ عافیت کی چادر اوڑھے ریاست کی اہمیت ا ور اس کے فضائل بیان کر رہے ہیں۔
سیاست راستہ نکالنے کا نام ہے۔آئین انسان کی سینکڑوں سالہ شعوری تاریخ کا حاصل ہے جس نے لوگوں کویہ بات سکھائی کہ پُرامن اجتماعیت کیلئے ایک عمرانی معاہدے کی ضرورت ہو تی ہے۔جنگ و جدل سے مسائل حل نہیں ہو تے۔اس تہذیبی سفر میں انسانی جان کی حرمت مستحکم ہوئی۔ مذہب اس حرمت کا سب سے بڑا علمبر دار ہے جس نے ناحق ایک جان لینے کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا۔جس نے یہ نصیحت کی کہ صلح کو جنگ پر ترجیح دی جا ئے۔ یہ بات ریاست کیلئے بھی قابلِ غور ہے کہ قوت کا ہونااس کے استعمال کو لازم نہیں کر تا۔ ریاست کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرے۔جرم ہو تو قانون کو حرکت میں لائے تا کہ عام آدمی کو تحفظ کا احساس ہو کہ کوئی ہے جو اسے فتنہ و فساد سے بچا سکتا ہے۔ اہلِ دانش کو سماج کی تربیت کرنا ہو گی کہ جب سیاسی حل کا ایک فیصد امکان بھی موجود ہو‘تشدد اور ریاست سے ٹکراؤ کے راستے کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔سیاسی جماعتیں ‘ معلوم نہیں ان حالات کے بعد اپنے وجود کیلئے کیا جواز رکھتی ہیں۔کیا ان کا کام صرف انتخابات میں حصہ لینا ہے؟ کیا کشمیر میں اس تصادم کو روکنا ان کا کام نہیں ؟
ریاست ہو یا کوئی ایکشن کمیٹی مسائل کا حل مذاکرات اور مکالمے میں ہے‘تصادم میں نہیں۔آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو یہ بات فریقین تک پہنچانی اور انہیں قائل کرنا ہے۔ یہی کام اہلِ دانش کا بھی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved