ایک وزیر کے استعفے پر اپنا احتجاج ختم کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی جسے اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے‘ میری نظر میں وہ اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس حوالے سے میرا استدلال یہ ہے کہ جب پورے بھارت کے نوجوانوں کی ترجمان یہ پارٹی پورے نظام کو تبدیل کرنے کی استعداد کی حامل ہے تو محض ایک وزیر کے استعفے پر اکتفا کیوں کیا گیا؟ کیا بھارت میں نوجوانوں کو ان کے پورے حقوق ملنا شروع ہو گئے ہیں؟ کیا وہاں اقلیتوں کے ساتھ اکثریتوں کے ناروا سلوک کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے؟ کیا بھارت میں عوامی سطح پر میرٹ پوری طرح لاگو ہو گیا ہے؟ کیا بھارت میں سرکاری سطح پر ہونے والی کرپشن کا گراف نیچے آ گیا ہے؟ کیا بھارت میں مودی حکومت کے اللے تللے اور حکمرانوں کی عیش کوشیاں اور عیاشیاں عنقا ہو چکی ہیں؟ کیا بھارت میں غربت و افلاس کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ کیا مودی سرکار نے عوام کُش بجٹ بنانا ترک کر دیے ہیں؟ کیا بھارت میں اقربا پروری کا مکمل سد باب کیا جا چکا ہے؟ کیا بھارت میں مہنگائی‘ چور بازاری اور مافیا ازم کا مکمل تدارک کیا جا چکا ہے؟ اگر یہ سب کچھ نہیں ہوا تو پھر کاکروچ جنتا پارٹی کو اپنا احتجاج وسیع کرنا چاہیے تھا یا انقلابی مظاہرے ترک کر کے واپس آ جانا چاہیے تھا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا محض وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے سے بھارت میں تعلیمی نظام میں پائی جانے والی کرپشن‘ دو نمبری اور میرٹ کی خلاف ورزیاں بند ہو گئی ہیں؟ کیا ایک وزیر کے استعفیٰ دینے سے اب پرچے آؤٹ ہونا بند ہو جائیں گے؟ کاکروچ جنتا پارٹی اگر پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتی تھی تو کم از کم بھارت کے تعلیمی نظام میں اصلاحات ہی یقینی بنا لیتی تاکہ آئندہ کوئی پرچہ آؤٹ نہ ہو سکتا‘ آئندہ کوئی تعلیمی شعبے میں میرٹ کی خلاف ورزیاں نہ کر سکتا‘ آئندہ تعلیم سے فارغ ہونے والے تمام بھارتی نوجوانوں کیلئے نوکریوں کا بندوبست ہو سکتا اور آئندہ کوئی بھارتی جج بے روزگاروں کیلئے کاکروچ جیسا غلیظ لفظ استعمال کرنے کی ہمت نہ کر سکتا۔ ایسے جج کو چوراہے پر عوام کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا جانا چاہیے کہ اس بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا ذمہ دار کون ہے؟ اور جو ذمہ دار ہے یا جو ذمہ دار ہیں بطور ایک منصف کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا اس جج کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟ یہ کام صرف اور صرف کاکروچ جنتا پارٹی کر سکتی تھی جو نہیں کیا گیا۔
رواں ماہ بھارت کے دارالحکومت دہلی میں جنریشن زی اور طالب علموں نے میڈیکل کے لاکھوں طلبہ کو متاثر کرنے والے امتحانی پیپرز کے مسلسل لیک ہونے‘ امتحان کے نتائج منسوخ ہونے پر طلبہ کی خود کشیوں‘ نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کے خلاف پارلیمنٹ کی طرف مارچ کیا تو احتجاج کا ایک ایسا مومینٹم بن چکا تھا جس میں بھارتی معاشرے کے دیگر طبقات بھی شامل ہو گئے تھے حتیٰ کی وکلا اور بھارتی اداکار بھی اس تحریک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ احتجاج کا یہ سیلِ رواں مودی حکومت کا سب کچھ بہا لے جاتا‘ لیکن ایک محدود مطالبے کو ہی کافی سمجھ لیا گیا جسے پورا کرنے میں مودی حکومت کو کوئی تامل نہ ہوا۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کسی بھی تحریک کا مومینٹم بار بار نہیں بنتا‘ جب بنا ہو تو اس سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
ایسا نہیں کہ اس سے پہلے ایسا ہوا نہیں۔ بنے ہوئے بھرپور مومینٹم سے سو فیصد اہداف حاصل کرنے کے معاملات پرانے نہیں ہیں‘ یہ ماضی قریب کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ ابھی دو سال بھی نہیں گزرے کہ بنگلہ دیش میں طلبہ نے ایک ایسی بھرپور تحریک چلائی کہ وزیراعظم حسینہ واجد کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔ وہاں بھی معاملات بھارت سے مختلف نہیں تھے۔ بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک کے بنیادی اسباب میں سرکاری نوکریوں میں 56فیصد مخصوص کوٹہ سرفہرست تھا۔ اس کوٹے کا بڑا حصہ (30 فیصد) 1971ء کی جنگ لڑنے والوں کے اہلِ خانہ کیلئے مختص تھا‘ جس کے باعث میرٹ پر آنے والے نوجوان شدید متاثر اور محروم ہو رہے تھے۔ میرٹ اور اہلیت ہونے کے باوجود اعلیٰ سطح کی نوکریوں تک عام بنگلہ دیشی کی رسائی محدود‘ بے حد محدود بلکہ ناممکن ہو چکی تھی۔ اس بے انصافی کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران سابق وزیراعظم حسینہ واجد کے متنازع بیانات‘ جن میں انہوں نے مظاہرین کو غدار اور رضا کار قرار دیا‘ نے عوام کے جذبات کو مزید مشتعل کر دیا تھا۔ پُرامن طلبہ احتجاج کو کچلنے کیلئے حکومتی جماعت کی طلبہ وِنگ (چھاترا لیگ) اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے شدید تشدد کیا گیا‘ آنسو گیس اور گولیوں کے استعمال سے کئی طلبہ ہلاک ہوئے جس سے تحریک مزید پھیل گئی۔ عوامی بے روزگاری اور معاشی بحران بھی اس تحریک کے کامیاب ہونے کی ایک وجہ تھی۔
اسی طرح اب سے ایک سال پہلے نیپال میں آٹھ ستمبر 2025ء کو شروع ہونے والی نوجوانوں کی عوامی تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی کو نو ستمبر کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ ان کے ساتھ وزیر دفاع‘ وزیر داخلہ اور دوسرے وزرا کو بھی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونا پڑا تھا۔ حکومت بر طرف کر دی گئی تھی۔ ہنگاموں کے نتیجے میں مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس‘ پارلیمنٹ اور دوسری سرکاری املاک کو نذرِ آتش کیا تھا‘ توڑ پھوڑ کی تھی اور کئی وزرا کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
اس سے بھی پہلے سری لنکا میں اسی طرح عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ 2022ء کے اوائل میں سری لنکا کو بدترین معاشی بحران کا سامنا تھا۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کے باعث ملک میں ادویات‘ ایندھن اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو چکی تھی۔ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے مسلسل طوفانوں نے عام آدمی کی زندگی مفلوج کر کے رکھ دی تھی۔ لاکھوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کیلئے مارکیٹ میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ عوام کا کہنا تھا کہ راجا پاکسا خاندان کی غلط پالیسیوں اور کرپشن نے ملک کو دیوالیہ ہونے کی حد تک پہنچا دیا ہے‘ چنانچہ مارچ 2022ء میں صدر گوٹابایا راجا پاکسا کی رہائش گاہ کے باہر پُرامن مظاہروں سے اس تحریک کا آغاز ہوا جو پھر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں طلبہ‘ کسان‘ مزدور اور عام شہری بھی شامل ہوتے گئے۔ ملک بھر میں ہڑتالیں ہوئیں اور احتجاجیوں کی جانب سے ایک متحدہ اور مشترکہ نعرہ بلند کیا گیا کہ سب کو استعفیٰ دینا ہو گا۔ تحریک چلتی رہی اور زور پکڑتی رہی۔ بالآخر نو جولائی 2022ء کو لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نے تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے دارالحکومت کولمبو میں صدر اور وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہوں پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین کے شدید دباؤ کے باعث صدر گوٹابایا راجا پاکسا پہلے ملک سے فرار ہوئے اور پھر انہوں نے 14جولائی کو سنگا پور سے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے بھیجا۔ وزیراعظم رانل وکرما سنگھے نے بھی عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
اس ساری تمہید کا مقصد یہ بیان کرنا ہے کہ بھارت‘ بنگلہ دیش‘ نیپال‘ سری لنکا اور انڈونیشیا میں یا کسی بھی ملک میں اگر حکمرانوں کے محل محفوظ ہیں تو عوام کی وجہ سے اور وہ حکمرانوں کیلئے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں تو اس کی وجہ حکمرانوں کی جانب سے عوام کُش پالیسیاں مرتب کرنا اور اقدامات کرنا ہے۔ یہ ستر اور اسی کا زمانہ نہیں ہے‘ 2026ء چل رہا ہے۔ سوشل میڈیا نے عوام کو ایک نئی طاقت فراہم کر دی ہے۔ اب کچھ بھی خفیہ نہیں رکھا جا سکتا‘ سب کچھ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ عوام کو اپنی استبدادی پالیسیوں سے دبانے کی کوشش کرنے والے دوسرے ممالک کے حکمرانوں کیلئے ان عوامی تحریکوں میں سیکھنے کیلئے بہت کچھ پوشیدہ ہے‘ اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں تو!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved