کبھی کبھی ایسی ایسی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ابھی دو تین دن پہلے سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس تھا‘ جس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن کر رہے تھے۔ ایجنڈے پر نیپرا تھا‘ اور اجلاس میں بجلی گھروں‘ بجلی کے بلوں اور دیگر ایشوز پر بریفنگ دی جانی تھی۔ کئی مواقع آتے ہیں جب آپ کو اپنے نمائندوں پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ یہ اجلاس بھی اُن میں سے ایک تھا‘ جب سینیٹرز نے اپنی ذہانت سے ملکی بیوروکریسی اور افسران کا پوسٹ مارٹم کیا اور انہیں لاجواب کیا۔ وہ منظر قابلِ دید تھا۔ رانا محمود الحسن تیاری کے ساتھ آتے ہیں۔ اس کمیٹی کے ممبران بھی بڑے تگڑے ہیں۔ سینیٹر ایمل ولی خان‘ سیف اللہ ابڑو‘ سینیٹر عبدالقادر اور سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے اُس دن بجلی کے بحران پر ایسی خوبصورت گفتگو کی کہ سن کر مزہ آ گیا۔
مجھے یاد پڑتا ہے‘ ایاز امیر نے قومی اسمبلی میں طالبان کے ساتھ معاہدے کے خلاف کی ایک جاندار تقریر کی تھی‘ اس دن میں وہاں موجود تھا۔ وہ تقریر یاد رکھی جائے گی۔ تقریباً پورا ہال طالبان کے ترجمان مسلم خان کی دھمکی سے دبکا بیٹھا تھا کہ اگر کسی نے مالاکنڈ اور سوات میں ایک متوازی ریاست بنانے کی مخالفت میں ووٹ دیا تو اس کی خیر نہیں۔ سب کے چہرے خوفزدہ تھے۔ اکیلے ایاز امیر تھے‘ جو اٹھے اور نہایت بہادری سے اس معاہدے کی مخالفت میں دلائل کے انبار لگا دیے۔ وہ کسی سے نہیں ڈرے۔ میرے دل میں ان کی عزت ہمیشہ کیلئے بڑھ گئی۔ اسی طرح 2014ء میں سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس تھا۔ دفتر خارجہ کے بڑے بڑے افسران موجود تھے۔ اس اجلاس میں جس طرح سینیٹر صغریٰ امام نے نیٹو سپلائی کو مفت راستہ دینے پر سب کی خبر لی تھی اور ان کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں‘ وہ بھی کمال کا منظر تھا۔ موجودہ سینیٹ میں انوشہ رحمن بہت ذہین ہیں جبکہ بہادری میں پلوشہ خان سب سے آگے ہیں‘ جو اہم ایشوز کو بغیر خوف اور ڈر کے سامنے لاتی ہیں۔ کبھی میں شیری رحمان صاحبہ کی ذہانت اور بہادری کا بڑا قائل تھا لیکن جس طرح انہوں نے اسلام آباد میں ماحول کی بربادی اور درختوں کی کٹائی پر ذمہ داران کو کلین چٹ دی‘ اس سے دل ٹوٹ گیا کہ اکثر ہمارے لیے شہروں کی بربادی اور ماحول سے زیادہ تعلقات اہم ہو جاتے ہیں۔
میں 2000ء سے پارلیمانی کمیٹیوں کو کور کر رہا ہوں‘ ان پچیس‘ چھبیس برسوں میں بہت کچھ سنا اور دیکھا ہے لیکن ہر دفعہ کچھ نہ کچھ نیا نظر آتا ہے۔ اب کی دفعہ ہی دیکھ لیں۔ اجلاس میں پتا چلا کہ ملک میں 108آئی پی پیز ہیں اور ان میں سے کچھ صرف بیس فیصد پر چل رہے ہیں اور کچھ بالکل بند ہیں ‘ لیکن ادائیگی سو فیصد کی جا رہی ہے۔ اس اجلاس سے اگلے روز سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یہ بجلی گھر انکم ٹیکس بھی نہیں دیتے اور انہیں ''ٹیکس ہالیڈے‘‘ حاصل ہے۔ اندازہ کریں‘ 1994ء سے ان کا ٹیکس ہالیڈے چل رہا ہے۔ اس اجلاس میں جو دستاویزات پیش کی گئیں ان کے تحت صرف پچھلے چار برسوں میں سات ہزار ارب سے زیادہ کی ادائیگیاں ان آئی پی پیز کو صرف کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں کی گئی ہیں۔ کپیسٹی پیمنٹ کا مطلب ہے کہ یہ پلانٹ چلیں یا نہ چلیں‘ آپ ان سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں‘ ادائیگی آپ نے انہیں پوری کرنی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان آئی پی پیز کا آڈٹ بھی نہیں ہوتا‘ نہ مالی اور نہ ہی کارکردگی کا۔ اس سے بڑھ کر دلچسپ بات یہ ہے کہ ملکی خزانے پر اس قدر بھاری بوجھ کے ہوتے ہوئے بھی نیپرا چیئرمین کو لگتا ہے کہ ان کی تنخواہ کم ہے لہٰذا انہوں نے تنخواہ میں اضافے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے کہ کابینہ سے اس کی منظوری لے لیں۔ کابینہ نے منظوری نہیں دی تو چیئرمین اور ممبران نے خود ہی اپنی تنخواہیں بڑھا لیں کہ کابینہ کی خاموشی کو اقرار ہی سمجھا جائے۔ لہٰذا چیئرمین نے اپنی تنخواہ 32 لاکھ روپے مقرر کر لی۔ باقی ممبران اور افسران نے بھی اپنی اپنی تنخواہیں بڑھا لی ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی رانا محمود الحسن نے بڑا دلچسپ جملہ کہا کہ لگتا ہے نیپرا نے بھی وہی کام کیا جو ہمارے معاشرے میں کیا جاتا ہے کہ باپ بیٹی سے شادی کا پوچھنے جاتا ہے کہ فلاں سے کر دیں‘ کوئی اعتراض تو نہیں؟ اگر وہ خاموش رہے تو اسے رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہی کچھ نیپرا کے چیئرمین اور ممبران نے کیا کہ وزیراعظم کو سمری بھیجی گئی جواب نہ آیا تو اسے رضامندی سمجھ کر خود ہی تنخواہ بڑھا لی۔ آپ بتائیں‘ اس سے بہتر ملک اور کہاں ہوگا؟
اس سے پہلے ایس ای سی پی نے بھی یہی کیا تھا اور بقول انوشہ رحمن‘ انہوں نے ایک ارب روپے سے زیادہ کا مالی فائدہ خود کو تنخواہوں اور مراعات کی صورت میں دیا۔ سترہ مہینے پیچھے سے تنخواہیں اور الاؤنسز بڑھا کر چیئرمین سمیت ایک ایک کمشنر اور افسر نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے لیے تھے۔ وہ سب مال سمیٹ کر پتلی گلی سے نکل گئے۔ دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ یہاں نیپرا میں تو ایک ایک پیسے پر اربوں روپے دائیں بائیں ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین نیپرا‘ جو سرکاری افسر تھے اور ان کو سابقہ نوکری سے ریٹائر کرا کے اس حالت میں چیئرمین لگایا گیا کہ وہ بیمار تھے اور ان کی کیموتھراپی چل رہی تھی‘ ذرا ان کے پہلے اور موجودہ گوشوارے منگوائے جائیں۔ اس پر سیکرٹری کابینہ ڈٹ گئے کہ وہ نیک نام شریف افسر ہیں‘ ان کی بدنامی ہو گی۔ یہ میرے لیے نئی بات تھی کہ گوشوارے منگوانے سے افسران کی بدنامی ہوتی ہے۔ میرے خیال میں تو ایماندار افسران کو خود اپنے گوشوارے کمیٹی میں پیش کرنے چاہئیں تاکہ ان کی نیک نامی میں اضافہ ہو۔ لیکن سیکرٹری کابینہ کو علم ہے کہ یہ روایت پڑ گئی تو کل کو کوئی ان کے گوشوارے بھی منگوا سکتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے بڑی سمجھداری سے اس کی مخالفت کر کے بات ٹال دی۔
ساہیوال میں جو کوئلے کا پلانٹ لگا ہے‘ اس پر ابڑو صاحب نے سوالات اٹھائے کہ کیسے اوور انوائسنگ دکھا کر 700ملین ڈالر کا چونا لگایا گیا۔ اسی طرح پورٹ قاسم پر بھی کوئلے کے پاور پلانٹ سے 800 ملین ڈالر کا چھکا لگایا گیا ہے۔ ذہن میں رہے‘ ساہیوال پلانٹ میں حکمرانوں کے قریبی افراد کے شیئرز ہیں۔ پورٹ قاسم پلانٹ ایک سابقہ رشتے دار کا ہے‘ جو ایک خلیجی ملک میں ہوتے ہیں۔ سب کچھ فیملی اینڈ فرینڈز پیکیج پر چل رہا ہے۔ سینیٹرز حیران تھے کہ بھلا کوئلے کا پلانٹ ساہیوال میں لگانے کی کیا تُک تھی؟ یہ تو ساحلی علاقوں میں لگتے ہیں۔ کمیٹی اجلاس میں کوئی نام لینے کی جرأت نہیں کر رہا تھا کہ یہ کس کی ملکیت ہے اور اسے کیوں پنجاب میں ہی لگانا تھا۔ لیکن مزے کا کام کچھ اور ہوا۔ جب نیپرا کے ایک افسر نے ہاتھ اٹھایا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ پتا چلا وہ نیپرا میں آئی پی پیز کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کرتا ہے۔ وہ کیا کہتا‘ الٹا سیف اللہ ابڑو اور ایمل ولی خان نے اس سے پوچھ لیا کہ آپ مانیٹرنگ کرتے ہیں‘ پاکستان میں کل کتنے آئی پی پیز ہیں؟ جواب دیا: 108۔ پوچھا گیا کہ وہ کب سے اس پوسٹ پر ہیں؟ جواب دیا: چھ سال ہو گئے ہیں۔ اس پر ابڑو صاحب نے پوچھا کہ ان چھ سالوں میں آپ نے کتنی دفعہ ان پلانٹس کا وزٹ کیا کہ وہ واقعی موجود ہیں‘ چل رہے ہیں یا آپ کو ہر ماہ بل بھیج کر اربوں روپے لے رہے ہیں؟ یہ سوال کئی بار ان سے پوچھا گیا مگر وہ ٹالتے رہے‘ جس کا مطلب تھا کہ انہوں نے کبھی کسی پلانٹ کو وزٹ نہیں کیا۔ اندازہ کریں کہ انسپکشن افسر نے چھ برسوں میں اُن 108 بجلی گھروں کو وزٹ نہیں کیا‘ جو حکومت سے ماہانہ اربوں وصول کرتے ہیں لیکن اپنی تنخواہ ان سب نے لاکھوں روپے فوراً بڑھا لی ہے۔ اب آپ ہی فرمائیں کہ ایسے مزے اور کہاں ملتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved