تحریر : نسیم احمد باجوہ تاریخ اشاعت     31-07-2026

عالمی سطح کا ریاضی دان

تحریک کا نام خاکسار تھا اور اس کی بنیاد اپنے عہد کے ممتاز ریاضی دان عنایت اللہ خان مشرقی نے رکھی۔ وہ 25 اگست 1888ء کو امرتسر کے ایک علمی اور متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ سید جمال الدین افغانی جب پنجاب کے سفر پر امرتسر آئے تو ان کی میزبانی اسی خاندان نے کی۔ 1904ء میں جب ان کی عمر صرف سولہ برس تھی‘ انہوں نے ریاضی میں ایم اے کی ڈگری اوّل پوزیشن کے ساتھ حاصل کی۔ گورنر پنجاب نے انہیں اپنے گھر چائے پر مدعو کیا اور اعلیٰ سرکاری عہدے کی پیشکش کی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے اعلیٰ تعلیم کیلئے انگلستان جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں کیمبرج یونیورسٹی کے کرائسٹ کالج میں داخل ہوئے اور ایک بار پھر اوّل پوزیشن حاصل کی۔ انہیں فاؤنڈیشن سکالرشپ ملا‘ انجینئرنگ‘ ریاضی‘ طبیعیات اور دیگر سائنسی علوم میں متعدد اعزازات ملے۔ برطانوی اخبارات نے ان کی غیر معمولی ذہانت کو سراہا گیا اور وہ دورِ طالب علمی ہی میں بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے اولین ہندوستانی طلبہ میں شمار ہونے لگے۔ بعدازاں انہوں نے سینٹرل گورنمنٹ آف انڈیا میں محکمہ تعلیم کے انڈر سیکرٹری کا عہدہ قبول کیا۔ 1924ء میں انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ''تذکرہ‘‘ لکھی جس نے انہیں علمی دنیا میں ممتاز مقام دلایا۔ جدید افکار پر مبنی اس کتاب میں مسلمانوں کو جمود سے نکل کر اجتہاد اور انقلاب کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دی گئی اور قرآنِ مجید کی تشریحات جدید علوم کی روشنی میں پیش کی گئیں۔ اس میں قدامت پرستی اور ملائیت پر سخت تنقید کی گئی۔
جب میں 1956-59ء کے دوران پنجاب یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم تھا تو ایک سال لاء کالج اور آخری سال اورینٹل کالج کے ہاسٹل میں رہا۔ وہاں اشرف پہلوان بھی مقیم تھے جو نہ صرف کشتی کے اچھے کھلاڑی تھے بلکہ خاکسار تحریک کے کارکنوں میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ علامہ مشرقی کی وفات کے بعد وہ تحریک کے ایک دھڑے کے سربراہ بھی بنے۔ انہی کی وساطت سے ایک شام مجھے علامہ مشرقی سے ان کے گھر (غالباً اچھرہ ) میں ملاقات کا موقع ملا۔ بدقسمتی سے ان دنوں علامہ مشرقی اپنی تحریک کے زوال کے باعث شدید مایوسی اور دل گرفتگی کا شکار تھے۔ وہ ہماری آمد پر زیادہ خوش نہ دکھائی دیے اور زیادہ تر سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے۔ میرے چند سوالوں کے جواب بھی مختصراً اور بے دلی سے دیے۔ یہ سردیوں کا موسم تھا اور ان کی سرد مہری نے ماحول کو مزید سرد کر دیا۔ طویل انتظار کے بعد جو چائے ملی وہ بھی ٹھنڈی تھی۔ آخرکار میں نے اجازت چاہی جو فوراً ہی مل گئی۔ واپسی پر میں نے اشرف پہلوان کی دلجوئی کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے آدمی کی زیارت بھی غنیمت ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑی شخصیت سے ہر ملاقات خوشگوار ہی ثابت ہو‘ خصوصاً جب وہ اس پر مسلط کر دی گئی ہو۔ اس ملاقات کے کوئی چار پانچ برس بعد 27 اگست 1963ء کو علامہ مشرقی نے 75 برس کی عمر میں وفات پائی اور لاہور میں سپردِ خاک ہوئے۔ جوانی میں وہ وسط ایشیائی ٹوپی پہنتے اور مونچھیں رکھتے تھے۔ بڑھاپے میں انہوں نے داڑھی رکھ لی تھی۔ 1931ء میں انہوں نے صرف تاریخ لکھنے یا اس پر خطبات دینے کے بجائے خود تاریخ کا کردار بننے کا فیصلہ کیا اور خاکسار تحریک کی بنیاد رکھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے متحدہ پنجاب کے شمالی اضلاع میں خاکی وردیاں پہنے‘ کندھوں پر بیلچے اٹھائے ہزاروں نوجوان فوجی نظم و ضبط کے ساتھ پریڈ کرنے لگے۔ آغاز صرف 90 کارکنوں سے ہوا مگر چند ہفتوں میں مزید تین سو افراد شامل ہو گئے۔ Roy Jackson نے2011ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1942ء تک خاکساروں کی تعداد چالیس لاکھ تک جا پہنچی تھی۔ تاہم مجھے یہ اندازہ مبالغہ آمیز معلوم ہوتا ہے۔ جنگل کی آگ کی طرح یہ تحریک بالخصوص نچلے متوسط طبقے کے نوجوان مسلمانوں میں پھیل گئی۔ اس سے زیادہ ڈرامائی آغاز شاید ممکن نہ تھا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران علامہ مشرقی نے برطانوی حکومت کو چالیس ہزار تربیت یافتہ افراد فوج اور پولیس کیلئے فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی مگر حکومت نے قبول نہ کی۔ خاکسار تحریک کا مقصد ہندوستان کو انگریز کے اقتدار سے آزاد کرا کے ایسی حکومت قائم کرنا تھا جس میں ہندو اور مسلمان مل کر رہیں۔ خاکسار بننے کیلئے مذہب‘ ذات پات‘ سماجی حیثیت‘ تعلیم یا پیشے کی کوئی قید تھی۔ ہر نوجوان کیلئے دروازہ کھلا تھا۔ ''تذکرہ‘‘ کے بعد علامہ نے اپنے نظریات کی مزید وضاحت کیلئے ''عشرت‘‘ لکھی جو تحریک کی فکری اساس بنی۔ وہ سیاسی آزادی‘ سماجی انصاف اور تمام مذاہب کے پیروکاروں کے مساوی حقوق کے داعی تھے اور انقلابی زبان میں اپنا روایت شکن پیغام عام کرنے لگے۔19 مارچ 1939ء کا دن خاکسار تحریک کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ خاکساروں اور پنجاب پولیس‘ جس کے اعلیٰ افسر انگریز تھے‘ کے درمیان خونریز تصادم میں ایک انگریز افسر اور تقریباً تین سو خاکسار مارے گئے۔ بچ نکلنے والے بہت سے خاکسار شاہی محلے میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ علامہ مشرقی کو بغیر مقدمہ قید کر لیا گیا۔ انہوں نے جیل میں بھوک ہڑتال کی اور جب حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی تو19 جنوری1942ء کو رہا کر دیے گئے۔ اس کے بعد پنجاب‘ جو تحریک کی جنم بھومی تھا‘ میں خاکسار برائے نام رہ گئے البتہ جنوبی ہند خصوصاً موجودہ تامل ناڈو میں یہ تحریک کسی حد تک باقی رہی۔
خاکسار تحریک تقسیمِ ہند کی مخالف تھی۔ 1942ء کے قحطِ بنگال میں اسی جماعت نے متاثرہ علاقوں میں خوراک پہنچانے کے لیے کافی کام کیا جبکہ 1947ء کے فسادات میں مسلمانوں‘ ہندوؤں اور سکھوں کی جانیں بچانے کی بھی کوشش کی۔ راولپنڈی میں ایک خاکسار رضاکار صرف اپنا بیلچہ لے کر محصور سکھوں کو بچانے پہنچ گیا لیکن قتل کر دیا گیا۔ چار جولائی 1947ء کو علامہ مشرقی نے تحریک کو باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اکتوبر 1947ء میں انہوں نے ''اسلام لیگ‘‘ کے نام سے نئی جماعت قائم کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکی۔ ان کی وفات کے بعد چند پیروکاروں نے خاکسار تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ اشرف پہلوان نے بھی اسی نام سے ایک متوازی تنظیم بنائی۔ آج دونوں تاریخ کا حصہ ہیں۔ علامہ کے واحد پوتے فرحان مشرقی ان کے خانوادے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اپنے عروج کے دور میں خاکسار تحریک ''الاصلاح‘‘ کے نام سے اپنا جریدہ بھی شائع کرتی تھی۔ 30 جولائی 1943ء کو بمبئی میں قائداعظم پر ان کے گھر میں قاتلانہ حملہ ہوا جو ناکام رہا۔ علامہ مشرقی نے اس حملے کی مذمت کی۔ اس کے بعد افواہ اڑی کہ حملہ آور خاکسار تھا مگر بمبئی ہائیکورٹ کے جسٹس Sir John Basil Blagden نے چار نومبر 1943ء کے فیصلے میں قرار دیا کہ اس الزام کے حق میں کوئی شہادت موجود نہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد علامہ مشرقی کم از کم چار مرتبہ گرفتار ہوئے۔ 1958ء میں ان پر مغربی پاکستان کے وزیراعلیٰ عبدالجبار خان کے قتل کی سازش اور 1962ء میں جنرل ایوب خان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی منصوبہ بندی کا الزام لگا مگر دونوں مقدمات میں عدالت نے انہیں بری کر دیا۔1957ء میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ تین لاکھ رضاکاروں کے ساتھ لائن آف کنٹرول عبور کر کے کشمیر آزاد کرائیں گے مگر حکومتِ پاکستان نے رضاکاروں کو واپس بھیجنے میں کامیابی حاصل کر لی۔
علامہ مشرقی آٹھ کتابوں کے مصنف تھے جبکہ ان پر درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ آج علامہ مشرقی ہماری جدید تاریخ کی بھولی بسری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر خاکسار تحریک جماعت احرار کی طرح قائداعظم اور مسلم لیگ کی اتحادی بن جاتی تو شاید اس کا انجام مختلف ہوتا۔ البتہ عوام دوستی‘ سامراج دشمنی‘ خدمتِ خلق‘ محنت کی قدر اور انقلابی جذبہ اس تحریک کی نمایاں خصوصیات تھیں مگر سیاست میں ایک بڑی غلطی کبھی کبھی پوری تحریک کا مقدر بدل دیتی ہے۔ علامہ مشرقی شہابِ ثاقب کی طرح افق پر نمودار ہوئے‘ سولہ برس تک پوری آب و تاب سے چمکے اور پھر تاریخ کا حصہ بن گئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved