تحریر : امیر حمزہ تاریخ اشاعت     31-07-2026

پاکستان اور توازن کا میزان

قرآن مجید کی ایک سورت ہے الغافر۔ اس کا ایک نام ''المومن‘‘ بھی ہے‘ یعنی جس سے انسانیت کو امن ملے اسے ''مؤمن‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ فرشتے جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ فرشتے جو عرش کے گرد ''سبحان اللہ اور الحمد للہ‘‘ کا ورد کرتے ہیں‘ سورۃ المومن بتاتی ہے کہ وہ فرشتے مومنوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں: '' اے ہمارے رب! آپ کی رحمت اور علم نے ہر چیز کو گھیرے میں لیا ہوا ہے لہٰذا ان لوگوں (مومنین) کو معاف فرما دے جو (غلطی اور گناہ کی صورت میں) واپس پلٹتے ہیں اور آپ کے راستے کو اختیار کرتے ہیں۔ از راہِ کرم! ایسے لوگوں کو جہنم کی سزا سے محفوظ فرما دیں‘‘ (المومن: 7)۔
کوئی بھی مومن اپنے اللہ کی رحمتوں کا نظارہ کرنا چاہے تو ''سورۃ الرحمن‘‘ کی تلاوت کرے مگر ترجمہ اور تفہیم کے ساتھ۔ ایسی تفہیم کہ جس سے علم حاصل ہو۔ فرمایا: قسم ہے آسمان کی (کہ اللہ نے) اس کو بلند کیا اور میزان قائم کر دیا۔ (اے انسانو!) میزان میں طغیانی نہ کرنا‘‘ (الرحمن: 7 تا 8)۔ پاک وطن کی سیاسی اور عسکری قیادت گزشتہ چند ماہ سے عالمی توازن کو میزان میں رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسلم ممالک کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ہم نے آپس میں لڑنا نہیں ہے۔ امریکہ جیسی سپر پاور کہ جس کی عسکری تاریخ جنگوں اور جاپان پر ایٹم بموں کے حملوں سے عبارت ہے‘ اسے بھی سمجھانے کی بے حد کوشش کی کہ دنیا اب ایک کے بجائے متعدد پاوروں (ملٹی پولر) کی حامل بن چکی ہے لہٰذا جنگوں سے گریز کیا جائے۔ جنگ میں شہری آبادی اور اس کی ضروریات کے تحفظ کا اہتمام کیا جائے۔ عورتوں اور بچوں کے لیے رحمت و راحت کے پہلو کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ پاکستان کی قیادت اس میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔ حالیہ جنگ بندی میں بھی اسلام آباد کی پُرامن یادداشت کو مان کر آگے بڑھنے کی بات کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاک وطن کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے کہ اس کی مصالحانہ کاوشیں قابلِ قدر ہیں۔
زمین پر موجود دوربینیں ہوں یا وہ جو زمین کے مدار میں گردش کر رہی ہیں‘ ایک دوربین جس کا نام معروف خلائی سائنسدان جیمز ویب کے نام پر ہے اور وہ اب تک کی پہلی دوربین ہے جو سورج کے مدار میں بھیجی گئی ہے۔ زمین کے مدار میں جو سب سے بڑی دوربین ہے وہ ''ہبل سپیس‘‘ ہے۔ آسمان کی وسعتوں میں ان دوربینوں نے اربوں‘ کھربوں سیاروں کو کھنگال مارا مگر کہیں بھی زمین جیسا سیارہ نہیں مل سکا کہ جہاں زندگی کے آثار ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہماری زمین ایک نہایت قیمتی گھر ہے جس کو ہم انسان تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ جی ہاں! مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ میرا پاک وطن اس کو بچانے کے لیے تلا ہوا ہے۔ خراجِ تحسین ہے ان اہلِ دانش کو جو امن کی اس جدوجہد میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ یہی مؤمن ہیں۔ ان ہمدردانِ انسانیت کے لیے عرش اٹھانے والے فرشتوں کی دعائیں ہیں۔ ایسے اہلِ علم کے لیے عرش کے ارد گرد جو فرشتے ہیں ان کی دعائیں ہیں اور اس زمین پر ان ننھے معصوم فرشتہ نما بچوں کی دعائیں بھی اللہ کے عرش کو ہلانے والی ہیں کہ جو اپنے ماں باپ اور اپنے جیسے بچوں کے پرزے اڑتے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ وہ سہمے ہوئے بچے امن اور محبت کے حقدار ہیں۔
ہماری زمین سمیت کوئی درجن بھر سیاروں کا ایک خاندان ہے جس کا سربراہ سورج ہے۔ ہر سیارے کے اپنے چاند بھی ہیں۔ کسی کا ایک ہے اور کسی کے دو ہیں۔ زحل کے چاند کی تعداد 274 بتائی جاتی ہے۔ یہ سب اسی خاندان کے افراد ہیں۔ جو چٹانیں اور پہاڑ نظامِ شمسی کے مداروں میں گھوم رہے ہیں‘ وہ بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ سورج کی سلطنت جہاں ختم ہوتی ہے‘ اس بارڈر پر بھی ایسے لا تعداد 'پہاڑ‘ موجود ہیں‘ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اپنے مدار سے باہر نکلتے ہیں تو لگتا ہے کہ ان کا رُخ ہماری زمین کی جانب ہے۔ اگر کوئی ایک بھی دیوہیکل دمدار ستارہ ہماری زمین سے ٹکرا گیا تو زمین کا گولہ خلائوں میں بکھر جائے گا۔ تب نہ کوئی ملک رہے گا نہ کوئی تاریخ اور نہ کوئی تہذیب۔ مگر خلائی سائنسدان کہتے ہیں کہ مشتری نام کا ایک سیارہ کمال کا کام کرتا ہے۔ یہ ہماری زمین سے کروڑوں کلو میٹر دور ہے اور نظام شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہے۔ یہ سارے کا سارا گیس کا بنا ہوا ہے۔ اس کے اندر اس قدر کشش ہے کہ یہ ان دمدار ستاروں کو اپنی گرفت میں لے کر اپنے اندر چھپا کر گیس بنا ڈالتا ہے جو زمین کی جانب بھاگے جاتے ہیں تاکہ زمین کو تباہ کر دیں۔ ہمالیہ جیسے سائز کے پہاڑوں اور دیگر چٹانوں کو بھی اپنے اندر کھینچ کر یہ گیس بنا ڈالتا ہے جو زمین کی جانب بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ایسا بھی کرتا ہے کہ Comets(دمدار ستارے) وغیرہ کو نظام شمسی کی حدود سے باہر پھینک ڈالتا ہے۔ قارئین کرام! حیرت کی بات یہ ہے کہ مندرجہ بالا سارا سائنسی علم ہم لوگوں کو ایسے ترقی یافتہ ملکوں سے مل رہا ہے جو انسانیت کو یہ علم بھی دے رہے ہیں اور انتہائی مہلک بموں کی ایجاد سے انسانی بستیوں کو اجاڑ بھی رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت عطا فرمائے اور پاک وطن کی جدوجہد کو امن سے نوازے۔
ہمارے نظام شمسی میں جتنے بھی چاند ہیں‘ وہ سب اپنے اپنے سیاروں کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں۔ ان کے برعکس زمین کا چاند واحد ایسا چاند ہے جو زمین کے سائز کے تناسب میں باقی نظامِ شمسی کے مقابلے میں کافی بڑا ہے۔ چاند کا قطر (Diameter) زمین کے قطر کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ جی ہاں! یہ اتنا بڑا نہ ہوتا تو زمین پر زندگی کا وجود ممکن نہ ہوتا۔ اسی لیے تو ساری انسانیت کیلئے سرا سر رحمت بن کر آنے والے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ نے پہلی تاریخ کے چاند کو مخاطب کرکے فرمایا: ''اے اللہ! اس چاند کو ہم پر امن اور ایمان کے ساتھ طلوع فرما دے‘ سلامتی اور اسلام کے ساتھ روشن فرما دے‘ اے چاند! میرا اور تیرا رب اللہ ہے‘‘ (سنن ترمذی)۔ اللہ اللہ! رحمتِ دو عالمﷺ نے ساری انسانیت کو امن و سلامتی کی دعا میں شامل فرمایا۔ چاند ساری زمین پر چمکتا ہے۔ اس کے چمکنے کی ہر جگہ کو حضورﷺ نے اپنی دعا کے مبارک اور پُرنور لفظوں سے منور کرکے رب العالمین کے دربار میں پیش کیا۔ یاد رہے! اگر چاند ذرا سا بھی چھوٹا ہوتا یا وہ زمین سے تھوڑا سا بھی دور ہوتا تو ہماری زمین خلا میں ڈگمگانا شروع کر دیتی۔ سمندروں کا پانی ابلنے لگ جاتا اور زمین برف کا گولہ بن جاتی۔ یوں سب کچھ ختم ہو جاتا۔ اسی طرح چاند اور سورج کے سائز میں بہت بڑا فرق ہے مگر یہ ان کا زمین سے فاصلہ ہے کہ جس کے سبب یہ دونوں ہمیں ایک جیسے نظر آتے ہیں۔ اس فاصلے میں بھی اگر کچھ فرق آ جائے تو زمین سے چاند اور سورج کا ایک جیسا نظر آنا ناممکن ہے۔ جی ہاں! زمین ہو یا چاند‘ سورج یا دیگر سیارے! سب کو میزان میں رکھ کر بنانے والے نے توازن کے ساتھ بنایا ہے۔ اسے سائنسی زبان میں Fine Tuningکہا جاتا ہے‘ یعنی یہ ایسا باریک ترین توازن ہے جسے کسی ہستی نے قائم کیا ہے۔ اس توازن کو دیکھ کر فرینک ڈریک (Frank Drake)‘ کارل سیگن (Carl Sagan)اور سٹیفن ہاکنگ جیسے سینکڑوں سائنسدان پکار اٹھے‘ اور یہ پکار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ کوئی تو ہے جو اس نظامِ ہستی کو چلا رہا ہے! وہی اللہ ہے۔ وہی رحمان ہے کہ جس کے حبیب حضور کریمﷺ نے ریاستِ مدینہ میں پُرامن‘ پُرعدل نظام‘ میزان میں رکھ کر نافذ کیا۔ بین الاقوامی قوانین بھی انسانیت کو عطا فرمائے۔ میری دعا ہے کہ میرے پاک وطن کی بدولت دنیا کو امن ملے۔ ملک کے اندر بھی پاک وطن کو میزان ملے کہ دونوں کے ملنے ہی سے عزت دوبالا ہو گی اور پائیدار بھی ہوگی۔ان شاء اللہ تعالیٰ!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved