وزیراعلیٰ بزدار کو نو نکات پر مشتمل فہرست پکڑانے کے بعد اخلاقی طور پر میں اپنی ذمہ داری پوری کر چکا تھا۔ اس سے آگے کا دائرہِ کار سرکار کے ذمہ تھا۔ تاہم میں اپنے شہر کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی طبیعت کے برخلاف نہ صرف عثمان بزدار سے ملاقات کی بلکہ بعد میں وزیراعلیٰ آفس میں اپنے ایک مہربان دوست کو بھی یہ کاغذ بھجوا دیا۔ عام سرکاری افسروں کے برعکس وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں اہم جگہ پہ بیٹھا یہ دوست ایسے کاموں کو دھکا لگانے اور ان کا پیچھا کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ وہ دوست مجھے ان نو معاملات کے سلسلے میں ہونے والی پیشرفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرتا رہا۔ کچھ معاملات میں پیشرفت صفر تھی‘ تاہم دو معاملات میں باقاعدہ پیشرفت دکھائی دینا شروع ہو گئی۔ ملتان تا ہیڈ محمدوالا روڈ‘ جو ستر‘ اسی کلومیٹر کے فاصلے کو کم کر کے محض پندرہ سولہ کلومیٹر کر دیتی تھی‘ اس پر کام شروع ہو گیا۔
جب میں نے یہ فہرست عثمان بزدار کو پکڑائی تب ہنس کر وزیراعلیٰ کو کہا کہ ہیڈ محمدوالا روڈ کا پوائنٹ سب سے پہلے اس لیے لکھا ہے کہ آپ بذاتِ خود اس سڑک میں ہونے والی بہتری سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں میں ہوں گے۔ آپ وزیراعلیٰ ہوں یا نہ ہوں‘ تونسہ سے ملتان آنے جانے کیلئے آپ بہرحال یہی راستہ استعمال کریں گے۔ تاہم آپ کے ساتھ ساتھ مخلوقِ خدا بھی اس سڑک میں ہونے والی توسیع اور بہتری سے بہرہ مند ہو گی۔ عثمان بزار میری بات سن کر مسکرائے اور کہنے لگے: بات تو آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔سب سے پہلی پیشرفت بھی اسی سلسلے میں دکھائی دی اور سڑک کی توسیع کیلئے جو ایک سرکاری طریقہ کار ہے‘ اس کے مطابق اس سڑک کی دوسری لین بنانے کا پی سی ون تیار ہوا‘ پھر ٹینڈر ہوا‘ ٹینڈر کھلا‘ پھر اس پر باقاعدہ پیشرفت ہوئی اور بالآخر کام شروع ہو گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس سڑک کی چوڑائی میں اضافہ کرنے کیلئے سرکار کو اردگرد کی نجی زمین کے حصول کی ضرورت ہی پیش نہ آئی کیونکہ ابتدائی طور پر جب یہ سڑک بنی تو اس کے دونوں جانب مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زمین پہلے سے ہی خرید لی گئی تھی۔ ہمارے ہاں سرکاری کاموں میں عموماً ایسی دور اندیشی دکھائی نہیں دیتی تاہم یہ قدم مستقبل میں سڑک کو چوڑا کرنے کے سلسلے میں بہت کارآمد ثابت ہوا۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ عام طور پر مزید زمین کی خریداری پر ہی جا کر معاملہ اٹک جاتا ہے جیسا کہ اس وقت ملتان کے بوسن روڈ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ شہر سے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی جانب جانے والی یہ سڑک شہر کے دوسری جانب ہونے والی تمام تر توسیع کے ساتھ رابطے کی واحد سڑک ہے۔ ملتان کی اس مرکزی سڑک پر روزانہ گھنٹوں ٹریفک پھنسی رہتی ہے اور مستقبل میں اس سڑک پر ٹریفک کے دباؤ میں بے تحاشا اضافہ متوقع ہے۔ اس سڑک کو فی الوقت چوڑا کرنے کیلئے دونوں اطراف کی زمین کی خریداری کیلئے درکار گیارہ ارب روپے کی رقم کا سُن کر ہی سرکار کان لپیٹ کر بھاگ گئی ہے۔ ہاں! اگر یہ معاملہ لاہور کا ہوتا تو علیحدہ بات تھی۔ خیر بات کہیں اور چلی گئی۔ ان نو نکات میں سے کئی پر تو رتی برابر پیشرفت نہ ہوئی‘ تاہم دو نکات پر ہونے والی پیشرفت کافی حوصلہ افزا تھی۔ ایک یہی ملتان تا ہیڈ محمدوالا سڑک کو دو رویہ کرنے والا معاملہ تھا۔ تاہم صورتحال یہ ہے کہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا اور اس سڑک میں دو تین جگہیں نہایت ہی معمولی سے کام کی وجہ سے تکمیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ امریکہ روانگی سے چند روز پہلے اس سلسلے میں کمشنر ملتان سے بات ہوئی تو انہوں نے متعلقہ محکمے کو اس سلسلے میں سختی سے ہدایت کی کہ اس مسئلے کو اب مکمل کر کے یہ باب بند کیا جائے۔ اب واپس جا کر دیکھوں گا کہ یہ سڑک سو فیصد مکمل ہو گئی یا نہیں۔
دوسرا معاملہ جس پر تب پیشرفت شروع ہوئی وہ ملتان میں پیٹ سکینر کی تنصیب تھی۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں متعلقہ محکمے کو فیزیبلٹی بنانے اور دیگر درکار مراحل طے کرنے کا حکم دیتے ہوئے پیٹ سکینر کی خریداری اور تنصیب کے مرحلوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اب یہاں مسئلہ یہ آن پڑا کہ ملتان میں نیوکلیئر میڈیسن کا جو ادارہ کام کر رہا تھا (مینار) اور جس کے پاس پیٹ سکینر کو چلانے کی صلاحیت موجود تھی‘ وہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام تھا اور پنجاب حکومت اس ادارے میں اپنا پیٹ سکینر نصب نہیں کر سکتی تھی۔ حکومت پنجاب نے اس انتہائی قیمتی مشین کو نشتر ہسپتال میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سارے معاملے میں وزیراعلیٰ آفس میں تعینات ہمارا دوست نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں مجھے باخبر بھی رکھ رہا تھا‘ بلکہ وہ اس سلسلے میں درپیش سرکاری اور تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پورا زور بھی لگا رہا تھا۔ مجھے جب علم ہوا کہ اس انتہائی حساس اور تکنیکی طور پر پیچیدہ مشین کو اس کے اصل مقام پر نصب کرنے کے بجائے محض مرکزی اور صوبائی حکومت کے زیر اہتمام اداروں کو مسئلہ بناتے ہوئے نشتر ہسپتال میں نصب کیا جا رہا ہے تو مجھے تشویش ہوئی کہ اس ڈیڑھ‘ دو ارب سے زائد مالیت کی مشینری کو اگر ناتجربہ کار ہاتھوں میں دے دیا گیا تو نہ صرف یہ کہ اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکے گا بلکہ تکنیکی ماہرین کی عدم موجودگی کے باعث اس مشین کے خراب ہونے اور اس صورت میں غیر معینہ مدت تک بند رہنے کی وجہ سے اس خطے کے عوام کا اس ساری سہولت سے جزوی طور پر محروم ہو جانے کا خدشہ ہے‘ جسے فراہم کرنے کی غرض سے حکومت اربوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں مَیں نے اپنے دوست کے توسط سے ایک نوٹ بھیجا جس میں بتایا کہ پیٹ سکینر کو چلانا بہرحال نیوکلیئرمیڈیسن کا کام ہے نہ کہ اونکالوجی (کینسر) والوں کا۔ یہ دونوں بالکل علیحدہ علیحدہ کام ہیں اور پیٹ سکینر کو چلانے کیلئے بالکل مختلف تکنیکی مہارت درکار ہے۔ تب بھیجا گیا نوٹ من وعن درج ذیل ہے۔
''مینار اور انمول کے پیٹ سکینرز تو اٹامک کمیشن کے ماتحت ہیں لیکن آغا خان کا پیٹ سکینر وہاں نیوکلیئر میڈیسن کے ماتحت کام کر رہا ہے۔ جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل سنٹر میں بھی پیٹ سکینر نیوکلیئر میڈیسن اور ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت کام کر رہا ہے۔ شوکٹ خانم لاہور جو مکمل طور پر کینسر کے علاج کا ہسپتال ہے‘ وہاں بھی یہ دو مشینیں نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی کے ماتحت ہیں اور پشاور والی مشین بھی اسی طریقہ کار سے چل رہی ہے۔ شوکت خانم میں اس کے بیک اَپ کو نیوکلیئر انجینئرنگ اور نیوکلیئر فزکس والے دیکھتے ہیں۔ آغا خان‘ شوکت خانم اور جناح ہسپتال میں سے کہیں بھی یہ انکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت نہیں ہے۔ آرمی کا ایک ادارہ ہے جس کا نام آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف ریڈیالوجی اینڈ امیجنگ (AFIRI) ہے۔ وہاں پیٹ سکینر لگا تو یہ معاملہ آن پڑا کہ یہ کس شعبہ کے ماتحت ہوگا۔ دوسال بعد ایک کافی لمبی تحقیق کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اسے نیوکلیئر میڈیسن اینڈ ریڈیالوجی والے چلائیں گے۔ پیٹ سکینر وغیرہ کو دنیا بھر میں زیادہ تر نیوکلیئر میڈیسن والے اور کہیں کہیں ریڈیالوجی والے آپریٹ کرتے ہیں لیکن انکالوجی والے کہیں بھی پیٹ سکینر نہیں چلا رہے۔ یہ سراسر اور سوفیصد نیوکلیئر میڈیسن کا کام ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اسے نیوکلیئر فزیشن ہی چلاتے ہیں نہ کہ انکالوجی والے۔ حتیٰ کہ پاکستان میں اس کو چلانے کیلئے لائسنس بھی پاکستان نیوکلیئر ریگو لیٹری اتھارٹی (PNRA) دیتی ہے۔ شیخ زید ہسپتال کے مریض انمول کی پیٹ سکین سہولت استعمال کرتے ہیں۔ انمول اور شیخ زید ہسپتال کے درمیان طے ہونے والے ایم او یو کی طرز پر نشتر ہسپتال اور مینار کے درمیان بھی ویسا ہی معاہدہ ہو سکتا ہے‘‘۔میری تمام تر کوششوں اور دلائل کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین حائل انتظامی اور تکنیکی مسائل کے باعث پیٹ سکینر کی نشتر ہسپتال میں تنصیب شروع ہو گئی ہے۔ ان شااللہ یہ کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا اور یہ پیٹ سکینر عنقریب کام شروع کر دے گا۔ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved