جین زی کی جدوجہد جدید دور کی ایک ایسی شعوری تحریک ہے جو طاقتور قوت بن کر معرضِ وجود میں آئی ہے۔ پاکستان کے عوام اُس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جب جین زی ایسے سوال‘ ایسا شعور اور ایسی جوابدہی کا ماحول پیدا کرے کہ ان فیصلہ سازوں کے آنسو نکلیں‘ جنہوں نے خود کو احتساب سے محفوظ سمجھ رکھا ہے۔ قوم کے نوجوان حلقے سیاسی جماعتوں کی قیادت سے سوال کریں گے کہ اگر اقتدار میں آ کر آپ اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں اور اقتدار سے باہر آ کر اسی نظام پر تنقید کرتے ہیں تو یہ کھیل آخر کب تک؟ آخر کب تک طاقتوروں کے سویلین سہولت کار بن کر عوام کو صرف وعدے اور نعرے سناتے رہیں گے؟ نظام اداروں اور حکمرانی کی مستقل اصلاحات پر ہی منحصر ہے۔ بھارت میں جین زی کی کامیابی کے پاکستانی جین زی پر گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ خبریں یہی آ رہی ہیں کہ بعض رائے ساز حلقے نوجوان طبقے کو بنگلہ دیشی‘ سری لنکن اور نیپالی جین زی جیسی تحریک پر آمادہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں جین زی کی تحریک شروع ہونے سے بلوچستان اور خیبر پختونخوامیں شرپسندوں کی جارحانہ کارروائیاں دم توڑ جائیں گی۔ بلوچستان میں شرپسندوں کا مقابلہ پاک فوج کر رہی ہے‘ اگر بلوچستان میں ایس پی اور اس سے اوپر کے رینک کے افسران کا تقرر میرٹ پر کیا جائے تو پولیس آسانی سے ان شرپسندوں کی سرکوبی کر سکتی ہے۔ جین زی کے بارے میں حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھارت میں جین زی کے احتجاج کے سامنے نریندر مودی حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔ بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے نے مودی کا غرور خاک میں ملا دیا۔ بین الاقوامی حالات بھی اس رخ پر جا رہے ہیں کہ جین زی خاموش رہنے والی نسل نہیں۔ یہ فرسودہ سوچ‘ بند کمروں کے فیصلوں اور فرسودہ نظام کو فکری طاقت‘ ٹیکنالوجی اور عوامی شعور سے ہلا کر رکھ دے گی۔ مستقبل ان کا نہیں جو اقتدار کے متمنی ہوں بلکہ ان کا ہے جو وقت کے ساتھ خود کو بدل لیں۔ خود کو نہیں بدلو گے تو نئی نسل بدلنا جانتی ہے۔
پاکستان میں ''جین زی‘‘ کی ایک جھلک مارچ 2007ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی اور بعد ازاں ان کی بحالی کی تحریک میں ہمارے سامنے آ چکی ہے۔ جب 15 مارچ 2008ء کو قافلہ گوجرانوالہ ہی پہنچا تھا تو مقتدرہ کی مداخلت سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کرنا پڑا۔ اُس وقت جین زی کا تصور تو نہیں تھا لیکن ماحول وہی تھا جو اَب جین زی کی تحریک کے مناظر میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسی طرح مارچ 1977ء کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے خلاف تحریک شروع ہوئی تھی۔ بھارت میں جین زی کا احتجاج صرف سڑکوں پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل سپیس میں بھی بڑھ رہا تھا۔ پہلے احتجاج کی کامیابی کا انحصار ٹیلی ویژن کیمروں پر ہوتا تھا مگر آج ہر موبائل فون ایک نیوز روم ہے۔ ہر نوجوان خود رپورٹر‘ خود کیمرہ مین‘ خود ایڈیٹر اور خود براڈ کاسٹر ہے۔ اس لیے ریاست اگر کسی آواز کو خاموش بھی کر دے تو ہزاروں نئی آوازیں بیک وقت ابھر آتی ہیں اور مزاحمت کا بیانیہ کسی مخصوص میڈیا ہاؤس تک محدود نہیں رہتا بلکہ لاکھوں افراد کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی کرنا ہو گی ورنہ جب جین زی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سامنے آئے گا تو انہیں سمجھ آ جائے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف نوجوانوں کو متحرک کرنے کے خواہشمند ہیں اور بڑی سیاسی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے وزیراعظم ہاؤس میں اپنے لیے دفتر قائم کر لیا ہے۔ وہ وزیراعظم کے برابر والے کمرے میں براجمان ہوں گے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے مسائل بھی دیکھیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اراکینِ اسمبلی حمزہ شہباز کے ذریعے وزیراعظم سے رابطے میں رہیں گے‘ اپنے مسائل وزیراعظم تک پہنچائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ یوتھ پروگرام اور حکومتی گورننس پر بھی نظر رکھیں گے۔
ادھرکشمیر کے پہلے مرحلے کے انتخابات بغیر کسی جوش وخروش کے مکمل ہو گئے۔ پہلے مرحلے کے نتائج کو دیکھتے ہوئے یہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو دیگر سیاسی جماعتوں پر مجموعی طور پر برتری حاصل رہے گی۔ مرحلہ وار انتخابات کا ایک اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کے اثرات دیگر حلقوں پر بھی پڑتے ہیں۔ کشمیر میں جو احتجاجی تحریک چل رہی ہے اسے ذہن میں رکھتے ہوئے خیال آتا ہے کہ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کیا ہو گا۔ سوشل میڈیا پر اپنی اپنی سیاسی جماعتوں سے وابستگی کے حوالے سے ٹرن آؤٹ کے بارے میں متضاد خبریں مل رہی ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ٹرن آؤٹ کم ہے لیکن ایسی صورتحال بھی نہیں کہ لوگوں نے بالکل ہی ووٹ نہ دیے ہوں۔ دراصل غیر جانبدار ذرائع سے جو خبریں موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق میرپور ڈویژن کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 25 فیصد سے متجاوز رہا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کشمیر برادریوں اور قبیلوں میں جکڑا ہوا ہے اور جو امیدوار انتخابی میدان میں اترے ہیں‘ ان کا تعلق انہی برادریوں سے ہے۔ اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے میرپور میں ووٹنگ کی شرح مناسب ہے جبکہ اردگرد کے اضلاع میں احتجاجی تحریک جاری ہے اور پولیس نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں۔ تقریباً 22 ہزار پولیس اہلکار اس وقت ڈیوٹی پر ہیں۔
آزاد کشمیر میں اقتدار کی جنگ نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے حکومتی کارکردگی کے حوالے سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اندرونی کیفیت یہ ظاہر کر رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ووٹ کے لیے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کر رہی ہیں لیکن حقیقت میں دونوں ایک ہی صف میں دکھائی دیتی ہیں۔ آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں بھی مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہوتی ہے تو بلاول بھٹوزرداری ممکن ہے‘ وفاقی اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں۔ ایسی صورت میں وفاق میں شہباز شریف کی حکومت برقرار رہے گی کیونکہ انہیں موجودہ سیٹ اَپ میں 169 ارکانِ قومی اسمبلی کی حمایت حاصل ہے تاہم اگر پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ ہو کر وفاقی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لاتی ہے تو حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں دونوں صوبوں کی گورنرشپ اس کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے اور صدرِ مملکت کے لیے بھی اپنے منصب پر برقرار رہنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر اس کے بعد حکومت اپنے اتحادیوں کی مزید حمایت سے بھی محروم ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت مع قومی اسمبلی‘ تحلیل ہو سکتی ہے اور ملک میں نگران سیٹ اَپ کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
پاکستانی معاشرہ شاید موجودہ نظام سے اس قدر مایوس ہو چکا ہے کہ آج وہ اپنے روایتی حریف بھارت کی مثالیں دینے پر مجبور دکھائی دیتا ہے اور نوجوانوں کے احتجاج کو مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جب ایک قوم اپنے حریف کے مثبت پہلوؤں کو اپنے حکمرانوں کے لیے مثال بنانے لگے تو یہ صرف تقابل نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سوال بھی ہے کہ کیا ہماری قیادت عوام کو ایسی مثالیں دینے میں ناکام ہو گئی ہے؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved