امام احمد رضا قادری کا ایک عظیم کارنامہ ''کنزالایمان‘‘ کے عنوان سے ترجمۂ قرآن ہے۔ عربی میں ایک لفظ کے کئی معانی ہوتے ہیں اور ایک معنی کیلئے کئی الفاظ آتے ہیں‘ اس جامعیت میں دنیا کی کوئی زبان عربی کے ہمسر نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں آیاتِ مبارکہ نازل ہوئی ہیں۔ امامِ اہلسنّت سے پہلے اردو زبان میں کافی تراجم موجود تھے‘ لیکن آپ کا ترجمۂ قرآن انفرادیت کا حامل ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے بعد دیگر مکاتبِ فکر کے علما کے جو تراجم آئے ہیں‘ انہوں نے مخصوص مقامات کے حوالے سے اپنے اکابر کے تراجم کو ترک کرکے امامِ اہلسنت کے ترجمے یا اس کے قریب تر مفہوم پر مشتمل ترجمے کی طرف رجوع کیا۔ دراصل امامِ اہلسنت نے ترجمہ کرتے وقت ناموسِ باری تعالیٰ اور ناموسِ انبیائے کرام علیہم السلام کا پاس رکھا اور ترجمے میں ایسا اسلوب اختیار کیا کہ متنِ قرآن کے قریب رہتے ہوئے قرآن کی ترجمانی ہو جائے۔ اس کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
(1) سورۂ یوسف: 110 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) ''یہاں تک کہ جب ناامید ہونے لگے رسول‘ اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا‘ پہنچی ان کو ہماری مدد‘‘۔ (ب) ''یہاں تک کہ پیغمبر اس بات سے مایوس ہو گئے اور ان پیغمبروں کو گمانِ غالب ہو گیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی‘‘۔ (ج) ''یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہو گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت کے بارے میں) جو بات انہوں نے کہی تھی (اس میں) وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی‘‘۔ (د) ''(پہلے بھی مہلتیں دی جا چکی ہیں) یہاں تک کہ پیمبر مایوس ہی ہو گئے ہیں اور گمان کرنے لگے کہ ان سے غلطی ہوئی (کہ اتنے میں) انہیں ہماری مدد آ پہنچی‘‘۔ ان تراجم میں مندرجہ ذیل باتیں شانِ رسالت کے منافی ہیں: ''نبی کا مطلقاً ناامید ہونا‘ ان کا یہ خیال کرنا کہ العیاذ باللہ! عذابِ الٰہی کی وعید کی بابت ان سے جھوٹ کہا گیا تھا یا نبی کا یہ گمان کرنا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی اور اُن کا یہ گمان کرنا کہ وہ نصرتِ الٰہی کے نزول کے وعدہ کے بارے میں سچے نہیں تھے یا نبی کا یہ گمان کرنا کہ اُن سے غلطی ہوئی ہے‘‘۔ نبی تو امت کو امید دلانے کیلئے تشریف لائے‘ وہ خود کیسے اللہ کی نصرت سے ناامید ہو سکتے ہیں‘ نصرت کا وعدہ تو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا‘ نبی کیسے یہ خیال کر سکتا ہے کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا۔ ابلاغِ دین میں نبی کا فہم‘ اُن کا نُطق اور اُن کا فعل معصوم ہوتا ہے‘ پس وہ کیسے گمان کر سکتے ہیں کہ ''ہمارے فہم نے غلطی کی یا اُن سے وعدۂ الٰہی کو سمجھنے میں غلطی ہوئی‘‘۔ اس نظریے کے تحت تو نبی کی عصمت اور وحی کی حقانیت مشتبہ قرار پائے گی‘ حاشا وکلّا! ایسا نہیں ہو سکتا‘ چنانچہ امامِ اہلسنت نے ترجمہ کیا: ''یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا‘ اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا‘‘۔ اس میں اللہ کی نصرت سے ناامیدی نہیں ہے بلکہ ظاہری اسباب کی بابت ناامیدی کا اظہار ہے اور اس میں کوئی شرعی خرابی لازم نہیں آتی۔ اسی طرح یہ گمان کرنا کہ اُن سے جھوٹ کہا گیا تھا‘ اس کی نسبت ان انبیائے کرام کی اُمّت یا مخاطَبین کی طرف ہے‘ نبی کی طرف نہیں ہے‘ وہ لوگ گمراہ تھے اور اپنے عقیدے میں ایسا ہی سمجھتے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے یہ ترجمہ کیا ہے: ''یہاں تک کہ جب رسول لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ ان کو ایمان نہ لانے پر جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں تو اُن رسولوں کے پاس ہماری مدد آ گئی اور جس کو ہم نے چاہا عذاب سے بچا لیا‘ کیونکہ ہمارا عذاب مجرموں سے لوٹایا نہیں جاتا‘‘۔ اس ترجمے میں بھی عیاں ہے کہ نبی اللہ کی نصرت سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنے عہد کے لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوئے اور (نصرتِ الٰہی کی وعید کی بابت) یہ گمان کہ ایمان نہ لانے پر انہیں جھوٹی دھمکیاں دی گئی تھیں۔ اس قول کی نسبت نبی کی طرف نہیں ہے‘ بلکہ اُس عہد کے بدنصیب اور شقی القلب کفارکی طرف ہے۔
(2) سورۃ الانبیاء: 87 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) اور مچھلی والے کو جب چلا گیا غصہ ہو کر‘ پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اس کو۔ (ب) اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہوکر غصے کی حالت میں چل دیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ (ج) مچھلی والے (حضرت یونس علیہ السلام) کو یاد کرو‘ جبکہ وہ غصے سے چل دیا اور خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے۔ امام احمد رضا قادری: ''اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب چلا غصے میں بھر ا توگمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے‘‘۔ علامہ غلام رسول سعیدی: ''اور ذوالنون کو (یاد کیجیے) کہ جب وہ (راہِ حق میں) غضبناک ہوکر نکلے تو انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان پر ہرگز تنگی نہ کریں گے‘‘۔ پہلے تین تراجم سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اُس وقت کے نبی کی رائے یہ تھی کہ اللہ اُن پر قابو نہ پا سکے گا‘ انتہائی درجے کی جسارت ہے‘ حالانکہ ایسا عام مومن کے بارے میں بھی نہیں سوچا جا سکتا‘ جیساکہ ان تراجم سے ظاہر ہے: (الف) ''پھر سمجھا کہ ہم نہ پکڑ سکیں گے اس کو‘‘ (ب) ''خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں‘‘ (ج) ''خیال کیا کہ ہم اسے نہ پکڑ سکیں گے‘‘۔ حالانکہ وہ تو ''عَلیٰ کُلِّ شَیْی ئٍ قَدِیْر (جو چاہے اس پر قادرہے)‘‘ اور ''فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْد (جو چاہے کرگزرنے والا ہے)‘‘۔ امام احمد رضا قادری اور علامہ غلام رسول سعیدی کے تراجم میں مقامِ نبوت کا کما حقہٗ پاس رکھا گیا ہے۔
(3) سورۃ البقرۃ: 15 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) اللہ ہنسی کرتا ہے اُن سے۔ (ب) ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے۔ (ج) اللہ ٹھٹھا کرتا ہے۔ (د) انہیں اللہ بنا رہا ہے۔ (ہ) اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ اردو ادب میں ''ہنسی کرنا‘ ٹھٹھا کرنا‘ بنانا‘ مذاق کرنا‘‘ باوقار شخصیت کے شایانِ شان نہیں ہے‘ چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں ایسے کلمات بولے جائیں۔ اس کے برعکس اہلسنّت کے اکابر علما نے یہ ترجمے کیے ہیں: امام احمد رضا قادری: اللہ ان سے استھزا فرماتا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے)۔ علامہ غلام رسول سعیدی: اللہ ان کو ان کے مذاق کی سزا دے رہا ہے اور ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔
(4) سورۃ الرحمن: 33 کا مختلف مترجمین نے یہ ترجمہ کیا ہے (الف) ''اے گروہ جنوں کے اور انسانوں کے! اگر تم سے ہو سکے کہ نکل بھاگو آسمانوں اور زمین کے کناروں سے تو نکل بھاگو‘ نہیں نکل سکنے کے بدون سند کے‘ (ب) اے گروہ جنّ اور انسانوں کے! اگر تم کو یہ قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جائو تو (ہم بھی دیکھیں) نکلو‘ مگر بدون زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں)‘‘۔ ان تراجم میں یہ کہا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی حدوں سے نکلنے کیلئے سند چاہیے‘ زور چاہیے اور زور ہے نہیں لہٰذا نہیں نکل سکتے۔ آج انسان کے پاس یہ طاقت آ گئی ہے کہ وہ راکٹ داغ کر زمین اور دیگر سیاروں کے دائرۂ کشش سے نکل جاتا ہے اور واپس داخل بھی ہو جاتا ہے۔ حالانکہ ''سلطان‘‘ کے ایک معنی ''سلطنت‘‘ کے ہیں؛ چنانچہ علمائے اہلسنت نے یہ تراجم کیے ہیں؛ امام احمد رضا قادری: اے جنّ و انسان کے گروہ! اگر تم سے ہو سکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جائو تو نکل جائو‘ جہاں نکل کر جائو گے‘ اُسی کی سلطنت ہے۔ علامہ غلام رسول سعیدی: اے جنّات اور انسانوں کے گروہو! اگر تم یہ طاقت رکھتے ہو کہ آسمانوں اور زمینوں کے کناروں سے نکل جائو تو نکل جائو‘ تم جہاں بھی جائو گے وہاں اسی کی سلطنت ہے۔ یہ تراجم ابدی اور دائمی ہیں۔ ان میں گویا انسانوں اور جنّات کوکہا گیا ہے کہ تم زمین اور دیگر سیاروں کی حدوں سے تو شاید نکل جائو لیکن اللہ کی سلطنت کی حدوں سے نہیں نکل سکتے‘ تم جہاں بھی نکل کر جائو گے وہاں اللہ وحدہٗ لا شریک ہی کی سلطنت ہو گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved