برادرِ عزیز محسن نقوی کو اس بات کی داد بہرحال دی جانی چاہیے کہ انہوں نے اس راز کو ''طشت ازبام‘‘ کر دیا ہے جو ایک عرصے سے مخصوص مقامات پر موضوعِ بحث تھا۔ میاں عامر محمود اپنی تمام تر دانش اور حکمت کے ساتھ دلائل پر دلائل دیتے جا رہے تھے کہ پاکستان کے چار صوبوں سے مزید کئی صوبے نکال لینے چاہئیں۔ بڑے صوبے مسائل کو حل کرنے کے بجائے خود ایک مسئلہ بن گئے ہیں۔انہوں نے اہلِ دانش و صحافت کے مختلف اجتماعات میں اپنا مقدمہ پیش کیا‘ڈاکٹر پروفیسر عبدالرحمن کی معیت میں کئی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور طلبہ تک پہنچے‘ کراچی سے پشاور تک اپنی آواز اٹھائی کہ حکمرانی کو بہتر بنانا ہے تو چھوٹے صوبے بنائو‘اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرو‘ عوام کو اپنی تقدیر آپ بنانے دو۔اس سے پہلے حضرت مولانا ظفر احمد انصاری مرحوم‘ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے ساتھ مل کر مزید صوبے بنانے کی تجویز پوری دھوم دھام سے پیش کر چکے تھے۔ جنرل محمد ضیا الحق نے اپنے صدارتی اور جرنیلی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے 1985ء کے انتخابات سے پہلے ایک کمیشن قائم کیا تھا‘ جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ دستور کو مزید اسلامی اور عوامی بنانے کیلئے تجاویز پیش کرے۔آل انڈیا مسلم لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مولانا ظفر احمد انصاری اس کے سربراہ بنائے گئے تھے۔ حضرت مولانا قراردادِ مقاصد سے لے کر1973ء کے دستور کی منظوری تک ہماری مقننہ اور انتظامیہ یا مقتدرہ کہہ لیجیے کی حرکات و سکنات کے نہ صرف عینی شاہد تھے بلکہ حسبِ توفیق شریک کار بھی رہ چکے تھے۔ وہ 1970ء کے انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی بن کر اسلام آباد پہنچے۔آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا لیکن جماعت اسلامی نے اُن کا بھرپور ساتھ دیا۔ جمعیت العلمائے پاکستان نے ان کا راستہ روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کی ایک نہ چلی۔مولانا شاہ احمد نورانی نے اس دوران مولانا انصاری کی ''مولانائیت‘‘ کو یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا کہ وہ کس مدرسے کے سند یافتہ ہیں‘انہیں مولانا کس نے بنایا ہے؟ انصاری صاحب الٰہ آباد یونیورسٹی کے ایل ایل بی تھے لیکن اپنے علم و فضل کی بدولت بڑے بڑے مولویوں پر بھاری پڑ جاتے تھے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی‘مولانا ظفر احمد عثمانی اور مولانا مفتی محمد شفیع جیسے اکابرین کے ساتھ مل کر بلکہ ان کو اپنی انگلی پکڑا کر جمعیت العلمائے اسلام کی بنیاد رکھ کر جمعیت العلمائے ہند کے قلعے میں شگاف ڈال چکے تھے‘ انہوں نے ترت جواب دیا کہ میں اُسی یونیورسٹی کا سند یافتہ ہوں جس کی سند پر حسرت موہانی اور ظفر علی خان مولانا کہلاتے تھے‘اس کا جواب نورانی میاں کے پاس نہیں تھا سو وہ ادھر اُدھر جھانک کر رہ گئے۔انصاری صاحب نے1973ء کے دستور کی تیاری میں بھرپور حصہ لیا تھا‘بھٹو صاحب اور ان کے مخالفین کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ ان کی بے غرضی اور بے نفسی نے جہاں بھٹو صاحب کا اعتماد حاصل کر لیا تھا وہاں مولانا مودودی ؒ سے ان کے گہرے تعلقات بھی رنگ لے آئے تھے۔ انہی مولانا انصاری کی جنرل ضیا الحق سے بھی گاڑھی چھننے لگی‘ انہوں نے1973ء کے معطل شدہ دستور کی ''مرمت‘‘ کا کام حضرت کے سپرد کر دیا‘ کئی چھوٹے بڑے دانشوروں کو ملا کر انہی کی سربراہی میں کمیشن قائم کرنے کا فرمان جاری ہو گیا۔ کمیشن نے غور و خوض کے بعد رپورٹ پیش کی تو غیر جماعتی سیاست اور نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کر دی۔ انتظامی بنیادوں پر (غالباً) اٹھارہ حصوں میں چاروں صوبوں کو بانٹ دینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ جنرل ضیا الحق غیر جماعتی انتخابات تو کرا گزرے لیکن نئے صوبے بنانے کا حوصلہ نہ ہوا۔ ایم آر ڈی کی تحریک ان کے خلاف شروع ہو چکی تھی اور لگ رہا تھا کہ معاملات پر ان کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی ہے۔ انہوں نے ایڈیٹروں کے ایک محدود گروپ کو مشاورت کیلئے طلب فرمایا۔ میر خلیل الرحمن‘ مجید نظامی‘ الطاف حسن قریشی‘ معظم علی‘انقلاب ماتری اور مصطفی صادق صاحبان کے نام تو مجھے یاد ہیں‘ ہو سکتا ہے ایک دو اصحاب اور بھی ہوں۔ مجھے بھی اذنِ باریابی مل گیا۔ نئے صوبوں کے قیام پر بات شروع ہوئی تو وہاں موجود بزرگوں نے یہ کہہ کر جھٹک دیا کہ بہت دیر ہو چکی۔اب یہ ''پنگا‘‘ نہ لیجئے انتخابات کرایئے اور جان کی امان پایئے‘ میں خاموش بیٹھا سنتا رہا۔جب سب اپنی بات کر چکے تو عرض کیا کہ اگر اللہ میاں آپ کو یہ ''آپشن‘‘ دے کہ آپ ایک ہزار کام کر لیجئے یا ایک بڑا کام کر گزریئے‘ تو آپ کو یہ جواب دینا چاہیے کہ میں صرف ایک کام کروں گا‘ وہ یہ کہ چار صوبوں میں سے مزید کئی صوبے نکال لوں گا۔ بس اس ایک کام کی توفیق مجھے عطا فرما دیجئے۔مزید عرض کیا گیا کہ ہمارے صوبے ہمارے جسد ِ قومی کی بنیاد میں رکھے ہوئے ٹائم بم ہیں‘ جو کسی بھی وقت (یا بے وقت) پھٹیں گے اور ہمیں پھاڑ کر رکھ دیں گے۔اس پر سناٹا چھا گیا۔ بزرگانِ کرام حیرت سے میری طرف دیکھنے لگے۔ جنرل صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری اور بولے:کوئی بندۂ خدا آئے تو یہ کام کرے۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا‘ آپ ہی بندے بن جائیں۔۔۔ لیکن جنرل صاحب میں یہ حوصلہ نہیں رہا تھا کہ صوبوں کی حدود میں ردو بدل کر سکیں۔ ان کا مارشل لاء بوڑھا ہو چکا تھا۔غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات ہوئے‘ منتخب ہو کر آنے والوں نے سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی‘ مارشل لاء اُٹھا لیا گیا اور جنرل ضیا ایوانِ صدر میں اُداس بیٹھے ماضی کو یاد کرتے رہے: ڈبویا مجھ کو ہونے نے‘ نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا۔
جب یہ گفتگو ہو رہی تھی‘ مارشل لاء نافذ تھا‘ آئین سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا حق بھی اس نے حاصل کر رکھا تھا‘ لیکن اب معاملہ مختلف ہے۔ آئین نافذ العمل ہے۔اس میں صوبے بنانے کا جو طریق کار درج ہے اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ جنرل ضیا الحق کی رخصتی کے کئی برس بعد جناب آصف علی زرداری اور جناب نواز شریف کی قیادت میں ساری جماعتیں مل کر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے دستور کا حلیہ بدل چکی ہیں۔ صوبائی خود مختاری کے نام پر صوبوں کو مالا مال کر دیا گیا ہے۔ وفاق عملاً ایک ''یتیم خانہ‘‘ بن کر رہ گیا ہے جس میں وزیراعظم اور اس کی کابینہ پرورش پا رہی ہے۔ صوبوں کو تو بہت کچھ دے دیا گیا لیکن صوبوں نے اضلاع اور تحصیلوں کو کچھ نہیں دیا۔ پاکستان دنیا کا واحد جمہوری ملک ہے جہاں مقامی حکومتیں موجود نہیں ہیں۔ بلدیاتی اداروں کا وجود تک گوارا نہیں کیا جاتا۔اسے یکسر صوبائی معاملہ بنا دیا گیا ہے‘ کسی صوبے میں بلدیاتی ادارے موجود بھی ہیں تو بے اختیار اور بے سروپا۔سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کئی برس سے ان کے قیام کی نوبت ہی نہیں آئی۔ اب جبکہ اختیارات کی نچلی سطح تک تقسیم کی ضرورت کا احساس شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے‘نئے صوبوں کے متبادل کے طور پر مقامی حکومتوں کے قیام کی تجویز پیش کی جا رہی ہے۔ کان ادھر سے پکڑا جائے یا اُدھر سے‘ اختیارات عوام تک پہنچنے چاہئیں۔یہ کام سیاسی جماعتوں کو کرنا ہو گا‘ پارلیمنٹ کو اس کی ذمہ داری لینا ہو گی‘ محسن نقوی سے برادرم حفیظ اللہ نیازی لاکھ استعفے کا مطالبہ کرتے رہیں‘انہوں نے پتے کی بات کہہ دی ہے۔اپنے کان آپ ہی پکڑ لو‘ وگرنہ انہیں کھینچ دیا جائے گا‘ گردن سلامت رہی تو بھی کان جوں کے توں نہیں رہیں گے۔ محسن نقوی زندہ باد‘ ظفر علی خان کہاں یاد آ گئے ؎
نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں؍ فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خوار اچھا
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved