قلمدانِ داخلہ رکھنے والے اتنے معصوم نہیں‘ جہاندیدہ انسان ہیں سب سمجھتے ہیں۔ یہ نظام کے زمین بوس ہونے والی بات ایسے ہی نہیں کہہ دی ‘ مقصد کیا تھا ایسی بات کرنے کا اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ گڈ اور بیڈ گورننس کی تکرار تو یہاں ہمیشہ رہتی ہے۔ اقتدار میں بیٹھے آپ ہیں‘ سب کچھ آپ کے اختیار میں ہے اور آئینہ ٔحالات بھی آپ ہی دکھا رہے ہیں۔ لیکن جیسے عرض کیا ایسے تیر ویسے ہی نہیں چلائے جاتے۔ پھر بات کیا ہے؟ کس ماجرے کا یہ پیش خیمہ ہے؟
پاکستان کی حکومتی صورتحال اس وقت کچھ عجیب ہے۔ ایک نمائشی یا ظاہری اقتدار ہے اور ایک اصل اقتدار ۔ صدر اور وزیراعظم ظاہری اقتدار کی واضح نشانیاں ہیں۔ کہاں اصل اقتدار ہے وہ ہم سب سمجھتے ہیں۔ 2022ء سے یہ صورتحال چل رہی ہے‘ یعنی تین سال پرمحیط یہ عرصہ ہے ۔ لیکن زیادہ دیر چلنا اس کا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اصل طاقت کہیں اور ہو اور ظاہری نمود مختلف ہو ایسے بندوبست کا لمبے عرصے تک چلنا دن بدن محال ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں اس صورتحال کا تین سال تک برقرار رہنا بھی ایک عجوبہ ہے۔ اور اگر اب کچھ رونما ہونے والا ہے تو اُس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ بڑی دیرکر دی مہرباں آتے آتے۔
صاف بات کرنا مشکل ہے ‘ لہٰذا پھونک پھونک کے الفاظ کا چناؤ کرنا پڑتا ہے۔ ایک مثال دے کر بات تھوڑی واضح ہو سکتی ہے۔ پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو طاقت کے اصل مرکز ظاہر ہے وہ تھے۔ لیکن صدرِ محترم رفیق تارڑ تھے۔ کچھ عرصہ تو یہ صورتحال رہی لیکن آگرہ سربراہی اجلاس کے لیے جب پرویز مشرف جانے لگے تو کھسر پھسر شروع ہو ئی کہ پروٹوکول کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جس کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ صورتحال تھوڑی واضح کر د ی جائے۔ صدرِ محترم کو پیغام پہنچا کہ برائے مہربانی ایوانِ صدر خالی کیا جائے۔ پرویز مشرف ایوانِ صدر خود آئے‘ صدرِ محترم کو کار تک چھوڑنے آئے‘ سلوٹ مارا اور وہاں سے وہ رخصت ہوگئے۔ آگرہ گئے تو چیف ایگزیکٹو کے طور پر نہیں بلکہ صدرِ ریاست کی حیثیت سے۔ آئین اُس وقت عملًا کوڑے دان میں پڑا ہوا تھا اس لیے جو کچھ کیا گیا وہ کرنا آسان تھا۔ نہ کسی پارلیمنٹ کی منظوری چاہیے تھی نہ کسی انتخاب کے جھنجھٹ میں پڑنے کی کوئی ضرورت تھی۔ اشارہ ہوا اور رفیق تارڑ کار میں بیٹھے لاہور رخصت ہو گئے۔ اب معاملہ ذرا مختلف ہے۔ جس شکل میں بھی آئین رہ گیا ہے موجود تو ہے۔ اسے معطل نہیں کیا گیا۔ یعنی کچھ ہونا ہے یا کچھ کرنا ہے توآئین کو سامنے رکھ کر ہی کرنا پڑے گا۔ زرداری صاحب نے صدر کا حلف مارچ 2024ء میں لیا تھا‘ جس کا مطلب ہے کہ اُن کی مدتِ صدارت 2029ء تک جاتی ہے۔ آئین کے ساتھ کچھ اور نہیں ہوتا اور زرداری صاحب کی مرضی شامل نہ ہو تو محض اشاروں سے کام شاید نہ چلے۔
لہٰذا جو فائر کیے جا رہے ہیں‘ جو گڈ گورننس کی باتیں ہو رہی ہیں‘ جو نظام کے زمین بوس ہونے کی نوید سنائی گئی ہے اور جو انتظامی ری سیٹ کی بات کی جا رہی ہے یہ سب ایک ماحول بنانے کی کوشش ہے اور مقصد اس کا یہ ہے کہ ظاہر اور باطن کا فرق جو تقریباً اڑھائی پونے تین سال برقرار رہا ہے اُسے اب ختم کر دیا جائے تاکہ جو اصل میں ہے وہی چیز باہر سے نظر آئے۔ اس سے زیادہ کیا کہا جائے۔ لیکن سمجھدار لوگوں کے لیے بات سمجھنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔
اکتوبر 1958ء میں سکندر مرزا نے مارشل لاء کا نفاذ کیا اور چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر کوئی اور بنا ۔ یہ غیر فطری بندوبست تھا اور بیس اکیس دن سے زیادہ نہ چل سکا۔ یہاں تو پھر بھی ظاہر اور باطن کا فرق تین سال تک رہا ہے۔ اسے (ن) لیگ کی خوش بختی سمجھئے کہ کچھ نہ پلے ہوتے ہوئے بھی تین چار سال کی عیاشی کر گئے ہیں۔ جو اپنی سیٹیں جیت نہ سکے وزارتِ عظمیٰ اور صوبائی وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سنبھالے ہوئے ہیں۔ دورے ہو رہے ہیں‘ اقتدار کے مزے جیسے بھی ہیں لیے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوا تو مہربانیوں کی وجہ سے ہوا۔ لیکن اس سے زیادہ طول اس بندوبست کو دیا نہیں جا سکتا تھا۔ اصل فیصلے کہیں اور سے آ رہے ہوں اور نمودو نمائش اور قسم کی ہو‘ وزیر داخلہ نے یہ وارننگ فائر ماراہے کہ یہ بندوبست مزید نہیں چلنے کا اور وقت آن پہنچا ہے اسے ری سیٹ کرنے کا۔ نظام کا زمین بوس ہونا دراصل اشارہ ہے اس طرف کہ یہ ظاہر اور باطن کانظام اس سے زیادہ نہیں چل سکتا۔
مسئلہ البتہ یہ ہے کہ جو کچھ مزاجِ یار میں ہے خوش اسلوبی اور رضامندی سے ہو جائے ورنہ وہ ریڈ لائن کراس کرنے کی بات آ جاتی ہے جس ریڈلائن کا ذکر وزیر داخلہ کی تقریر میں موجود ہے۔( ن) لیگ نے اسی تنخواہ پر کام کرنا ہے۔ اُن کی طرف سے کوئی پرابلم نہیں ہے۔ دلوں کا جلنا اور بات ہے لیکن مخاصمت نام کی چیز وہاں سے کوئی نہیں آ سکتی۔ مسئلہ ایوانِ صدر کا ہے کہ جناب رفیق تارڑ کی طرح خوش و خرم طریقے سے خالی ہوتا ہے یا نہیں۔ باہمی رضامندی ہوئی پھر تو کوئی بات نہیں اور اُس میں بھی وزیر داخلہ کا کلیدی رول ہوگا کیونکہ جنابِ صدر کے بہت قریب رہے ہیں اور جہاں موجودہ تعلق ہے وہ بھی دنیاجانتی ہے۔
مطلب یہ کہ اصل اقتدار کی خواہش ہوگی کہ یہ سب کچھ اچھے طریقے سے ہو جائے اور کچھ زیادہ نہ کرنا پڑے۔ اصل امتحان تو یہ ہے کہ جنابِ صدر کو اس راستے پر کیسے لایا جائے۔ باقی سب ثانوی باتیں ہیں۔ لیکن ایوانِ صدر کی مرضی بھی حاصل کرنی ہو اور سندھ کو مزیدصوبوں کی شکل میں تقسیم بھی کرنا‘ یہ مشکل ہو جائے گا۔ اس پیرائے میں کچھ اور بات کی جائے تو قیاس کے زمرے میں آئے گی لہٰذا اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔ بہرحال مصر کا ماڈل سامنے رکھنا چاہیے۔ عبدالفتح السیسی پہلے کیا تھے‘ کیا عہدہ رکھتے تھے اور اب کیا ہیں۔ اقتدار کی ایک اپنی منطق ہوتی ہے اور جیسا کہ اوپر ذکرہو چکا ہے پاکستان کا موجودہ حکومتی بندوبست اقتدار کی اس منطق کے خلاف ہے۔ حکمران جماعت (ن) لیگ ہے۔ یہ کہاں سے حکمران جماعت بن گئی؟ کہاں سے ان کا مینڈیٹ آیا‘ کس نے ان کو مینڈیٹ دیا ؟ اسحاق ڈار جو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ بنے ہوئے ہیں ان کی انتخابی حیثیت کیا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ مہربانی کچھ زیادہ ہی ہو ئی ہے۔ حالات کا تقاضا تھا یا ان کی خوش قسمتی۔ لیکن اب یہ سلسلہ ختم ہونے جا رہا ہے۔ جس کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل چھٹی ہو رہی ہے بالکل نہیں لیکن غیر منطقی مہربانیوں کا دور شاید اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ لیکن وہ سندھ والا مسئلہ رہے گا‘ اس کے بارے میں دیکھتے ہیں کیاہوتا ہے۔ باقی گڈگورننس اور دوسری باتیں ان سب کو فی الحال ٹرک کی بتی ہی سمجھنا چاہیے ۔ قصہ مختصر یہ کہ( ن) لیگ اپنی جائز حیثیت پر آ جائے گی‘ پیپلز پارٹی اپنی حیثیت سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور پاکستان کے اصل مسائل جوں کے توں رہیں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved