پچھلے دنوں جب بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کا مظاہرہ جاری تھا تو پاکستانیوں نے یہ سوال پوچھنا شروع کر دیا کہ آخر پاکستان میں نوجوان سڑکوں پر اکٹھے ہو کر مظاہرے کیوں نہیں کرتے؟ اس سوال کے پیچھے صرف انڈیا کا نوجوان نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے بنگلہ دیش اور نیپال میں بھی نوجوانوں نے وہاں کی حکومتوں کا تختہ الٹ دیا تھا۔ سوال میں وزن تھا۔ آخر اسی خطے کے تین ملکوں میں نوجوان حکومتوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن پاکستان کا نوجوان باہر کیوں نہیں نکلتا؟ اگرچہ ہر ملک میں نوجوانوں کے باہر نکلنے کی وجوہات مختلف ہیں۔
بنگلہ دیش کے طالب علم اس لیے باہر نکلے تھے کیونکہ انہیں نوکریاں نہیں مل رہی تھیں۔ بنگلہ دیش میں 30فیصد سرکاری نوکریاں 1971ء میں حکومت کا ساتھ دینے والے خاندانوں کے نوجوان لے اڑتے تھے۔ 1971ء کے بعد کئی نسلیں جوان ہوئیں خصوصاً وہ جنہوں نے وہ دور نہیں دیکھا لہٰذا وہ خود کو اس جذباتی ماحول میں محسوس نہیں کرتے جیسے اُن کے آباؤاجداد کرتے تھے اور ایک وابستگی رکھتے تھے۔ آج کا نوجوان اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے۔ یوں جاب کوٹہ کے خلاف مظاہرہ حسینہ واجد کے خلاف احتجاجی تحریک میں بدلا۔ حکومت نے تشدد کیا تو بات بڑھتی گئی اور بتایا جاتا ہے کہ اس تحریک میں تقریباً 1400 طالب علم مارے گئے۔ اب جس تحریک میں لہو شامل ہو جائے وہ پھر مشکل سے ہی رکتی ہے۔ یہی کچھ بنگلہ دیش میں ہوا اور انجام ہمارے سامنے ہے۔ ایک اور اہم فیکٹر حسینہ واجد کا سولہ برس اقتدار میں رہنا تھا۔ اس دوران انہوں نے مخالفین کا جینا حرام کر دیا‘ انہیں پھانسیاں لگائیں‘ جیلوں میں ڈالا اور عوام پر سختیاں کیں۔ آخری الیکشن میں تو ان کی پارٹی کے علاوہ شاید ہی کوئی اور بندہ پارلیمنٹ کا ممبر بنا ہو۔ ساری پارلیمنٹ ہی دھاندلی کر کے لے آئیں۔مجھے یاد ہے‘ 2008ء کے الیکشن میں ڈھاکہ میں تھا اور کروڑوں بنگالی حسینہ واجد کیلئے پاگل ہو رہے تھے‘ اور دو سال پہلے وہ دن بھی دیکھا جب وہی بنگالی وزیراعظم ہاؤس میں گھس کر ہر شے تہس نہس کر رہے تھے۔ شیخ مجیب الرحمن کے گھر میں تباہی مچا رہے تھے۔ حسینہ واجد مسلسل سولہ برس سے اقتدار میں تھیں۔ آج کے دور میں آپ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں‘ تین چار سال کے بعد لوگ آپ کا چہرہ دیکھ کر تنگ آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لوگ کبھی اپنی زندگیوں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ان کی خواہشات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ وہ بہتر سے بہتر چاہتے ہیں اور جب وہ اپنی مرضی کی زندگی نہیں جی پاتے تو پھر حکمرانوں کو ہی اس کا ذمہ دار سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں آپ کا مسلسل اقتدار میں رہنا ہی عوام میں آپ کیلئے ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بات بہت کم حکمران سمجھ پاتے ہیں کہ جتنا طویل عرصہ وہ پاور میں رہیں گے عوام کو ان کے اندر اتنی زیادہ خامیاں نظر آنا شروع ہو جائیں گی۔ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کا ذمہ دار بھی آپ کو ٹھہرائیں گے۔ یہی کچھ حسینہ واجد کیساتھ ہوا‘ جو سیاسی وزیراعظم سے زیادہ ایک بدترین آمر کی شکل اختیار کر چکی تھیں کہ سولہ سال حکمرانی سے بھی ان کا دل نہ بھرا تھا اور تقریباً 1400 طالب علم مروا کر بھارت فرار ہو گئیں۔ وہی حسینہ واجد جو 2008ء میں بنگالی عوام کیلئے مسیحا بن کر لندن سے وزیراعظم بننے آئی تھیں‘ اس وقت انہیں بنگلہ دیش میں نفرت کا نشان سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح جب نیپال میں نوجوانوں نے دیکھا کہ ان کے حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک پڑھ رہے ہیں اور شہزادوں اور شہزادیوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں تو انہیں اپنے مسائل کے ذمہ دار یہی حکمران لگے۔ جب انہوں نے فیس بک اور انسٹاگرام پر حکمرانوں کے بچوں کی تصویریں دیکھیں تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ وجہ وہاں بھی وہی تھی کہ نوجوان مسلسل ایک ہی چہرہ دیکھ کر بیزار ہو جاتے ہیں اور پھر کوئی بھی چھوٹی سی تصویر‘ کمنٹ یا جاب کوٹہ پورے حکمران خاندان کو جلا دیتا ہے۔ نیپال میں حکومت نے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی تو نوجوانوں کو لگا کہ ایک تو ہمیں نوکریاں نہیں مل رہیں‘ اپنے بچے بیرونِ ملک عیاشیاں کر رہے ہیں‘ اقربا پروری عروج پر ہے لیکن ہمارے لیے سوشل میڈیا تک بین ہے تو پھر وہ باہر نکل کھڑے ہوئے۔ اگر نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر اپنے خیالات یا ویوز کے اظہار کا موقع ملتا رہتا تو شاید نیپال میں اتنی بڑی بغاوت نہ کرتے۔ جب آپ انسان پر پابندیاں لگاتے ہیں کہ ظلم بھی ہوگا‘ ناانصافی بھی ہوگی‘ عیاشی بھی ہوگی لیکن آپ بول بھی نہیں سکتے تو پھر ایک مرحلے پر ریاست یا اداروں کا خوف لوگ اتار پھینکتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو بھارتی وزیراعظم مودی کا حشر دیکھ لیں‘ جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ وزیراعظم مودی جسے اُن کے اَند بھگت بھگوان کا درجہ دے چکے تھے‘ اس سے نوجوان نسل اتنی نفرت کرتی ہے۔ طالب علموں کے احتجاج میں جس طرح کے الفاظ مودی کیلئے استعمال کیے گئے ‘ شاید ہی ایسے الفاظ کسی اور وزیراعظم یا سیاستدان کے حصے میں آئے ہوں۔ وہاں بھی وجہ وہی بنی جو بنگلہ دیش میں تھی۔ فرق یہ تھا کہ بنگلہ دیش میں طالب علموں کا مسئلہ جاب کوٹہ تھا تو انڈیا میں مقابلے اور داخلہ امتحان میں پیپر لیک تھا۔ پھر بھارت اور بنگلہ دیش میں مشترکہ وجہ حکومتی سختیاں اور دونوں کا طویل اقتدار میں رہنا تھا۔ بھارت میں ہر سال 20 لاکھ طالب علم داخلے یا مقابلے کا امتحان دیتے ہیں۔ پھر بھارت میں نوجوانوں کی آبادی 37کروڑ ہے اور یہ وہاں کی مڈل کلاس کے بچے ہیں‘ جو اپنی زندگیاں انہی داخلوں اور امتحان سے بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ پورے ہندوستان کا مشترکہ مسئلہ بن گیا اور اوپر سے مودی 2047ء تک کا پلان بنا کر بیٹھا ہوا ہے۔ یوں طویل اقتدار ہی حسینہ واجد اور مودی کا دشمن بنا۔ مودی اب شاید ہی ٹک پائیں۔ ایک دفعہ لوگوں کا خوف اُتر گیا ہے‘ اب یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ وہاں بی جے پی کو اپنا وزیراعظم 2029ء سے پہلے تبدیل کرنا پڑے گا۔ مودی کا Larger than Life امیج تباہ ہو چکا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں بھی نوجوانوں کے مسائل ملتے جلتے ہیں۔ وہی شریف‘ زرداری خاندان اور ان کے بچے‘ ان کے فرنٹ مین‘ ان کے یار دوست اور اشرافیہ کا راج ہے۔ وہی لوٹ مار آپ کو یہاں بھی نظر آتی ہے۔ نوجوان یہاں کا بھی مایوس ہے۔ وہ کوشش کر کے باہر جانا چاہتا ہے۔ تاہم اب بھی داخلوں یا مقابلے کے امتحان میں یہاں پیپر لیک نہیں ہوتے۔ کبھی کبھار اِکا دکا پیپر لیک ہونے کی خبریں ملک کے کسی چھوٹے بڑے شہر سے آ جاتی ہیں لیکن کوئی بہت بڑا سکینڈل نہیں آتا۔ اس سے ہٹ کر پاکستانی فیصلہ سازوں نے ایک فیصلہ کر رکھا ہے کہ اس سے پہلے کہ لوگ انقلاب کا سوچیں ہم خود ہی سافٹ انقلاب لے آتے ہیں تاکہ ناراض نوجوانوں کو گھر سے نکلنے کا موقع ہی نہ ملے۔ انہیں لگے کہ جو وہ سوچ رہے تھے وہ پہلے ہی ہو گیا ہے اور ان کے مسائل کے ذمہ داروں کو سزا مل گئی ہے یا انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا ہے۔ اب کچھ دن انتظار کرتے ہیں‘ نیا سیٹ اَپ یا وزیراعظم کیا کرتا ہے۔ یوں اندر ابھرنے والا جوش یا غصہ وزیراعظم کو برطرف یا جیل میں دیکھ کر ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ مقتدرہ ہر دفعہ نئی امید دے دیتی ہے۔ 1985ء سے دیکھیں‘ کس وزیراعظم نے پانچ سال پورے کیے ہیں؟ ڈھائی‘ تین‘ چار سال بعد چھٹی۔ جلاوطنی‘ جیل یا نااہلی‘ یا نئی پارلیمنٹ‘ نیا وزیراعظم... سب خوش کہ اب اچھے دن آئیں گے۔
اب کے اچھے دنوں کی نوید وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنا ئی ہے۔ ہماری مقتدرہ سمجھ دار گھریلو خاتون کی طرح جانتی ہے کہ کچن میں چولہے پر سلگتے پریشر ککر میں کتنی بھاپ جمع ہو چکی ہے‘ اب سیٹی کی آواز تیز ہو گئی ہے‘ اب پریشر ککر کے نٹ بولٹ ڈھیلے کر کے بھاپ نکلنے دینی ہے ورنہ یہ پورا کچن اڑا دے گا۔ مقتدرہ ہر ڈھائی تین سال بعد وزیراعظم کو نااہل‘ برطرف‘ جیل یا جلاوطن کر کے بھاپ نکال دیتی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved