پاکستان جس ہمہ جہت بحران کی زد میں ہے اس کا سبب محض معاشی تنگ دستی یا سیاسی عدم استحکام نہیں بلکہ ریاست کے اس فرسودہ اور ازکارِ رفتہ انتظامی ڈھانچے میں ملتا ہے جو اپنے وزن سے خود بیٹھ رہا ہے۔ 1947ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تو آبادی کا حجم‘ جغرافیائی حدود اور انتظامی تقاضے آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھے مگر دہائیاں گزرنے اور آبادی میں کئی گنا اضافے کے باوجود ہم اُسی پرانے انتظامی نظام کو گھسیٹنے پر بضد ہیں۔ نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں مسلسل ناکامی اور ایک ایسا سسٹم جو اَب مکمل طور پر جمود کا شکار ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں انتظامی ری سیٹ اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب محض سیاسی یا تکنیکی بحث نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی بقا‘ پائیدار گورننس اور ریاستی ہم آہنگی کی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود صاحب وہ پہلی دردِ دل رکھنے والی شخصیت ہیں جنہوں نے بہت پہلے اس کمزور ہوتے ریاستی نظام کی حساسیت کو محسوس کر لیا تھا۔ وہ ایک طویل عرصے سے نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر زور دیتے آ رہے ہیں۔ ان کا مؤقف خالصتاً گورننس‘ انتظامی سہولت اور عوام کی دہلیز تک اختیارات کی منتقلی کے فلسفے پر قائم ہے۔ میاں عامر محمود صاحب کا یہ استدلال منطق کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے کہ پنجاب جیسے وسیع صوبے کو ایک مرکزی سیکرٹریٹ سے چلانا خام خیالی ہے۔ جب تک عام شہری کو اپنے معمولی نوعیت کے مسائل کے لیے دور دراز علاقوں سے اُٹھ کر صوبائی دارالحکومت آنا پڑے گا تب تک گورننس کا تصور صرف کاغذوں تک محدود رہے گا۔ اُن کا ویژن یہ ہے کہ انتظامی صلاحیت کا ارتقاتبھی ممکن ہے جب اختیارات نچلے طبقے تک منتقل ہوں اور فیصلے عوام کی دہلیز پر کیے جائیں۔ آج جب ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت بھی اس نقطے پر متفق ہو رہی ہے تو یہ میاں عامر محمود صاحب کے اُس دیرینہ مؤقف کی حقیقت کا اعتراف ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ریاست کا انتظامی ڈھانچہ اس کی آبادی کے متناسب ہونا چاہیے‘ لیکن پاکستان کے اعداد و شمار ایک بھیانک تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 1951ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی بمشکل دو کروڑ‘ سندھ کی 60 لاکھ‘ خیبرپختونخوا کی 58 لاکھ اور بلوچستان کی 11 لاکھ تھی۔ آج پاکستان کی مجموعی آبادی 25 کروڑ کی حد عبور کر چکی ہے جبکہ اکیلے پنجاب کی آبادی تقریباً 13 کروڑ سے متجاوز ہے۔ 1972ء میں ملکی آبادی سات سے آٹھ کروڑ تھی مگر آج کئی گنا اضافے کے بعد بھی صوبائی تقسیم کا نقشہ وہی ہے۔ ملک کے غیر ترقیاتی اخراجات 6800 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے بڑے وسائل کے باوجود عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مسائل کی وجہ مالی وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کو استعمال کرنے والے غیر مؤثر سانچے کا ہونا ہے۔ ایک صوبائی حکومت کے لیے کروڑوں شہریوں کا نظام سنبھالنا انسانی طاقت سے باہر ہو چکا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک کی بااثر سیاسی شخصیات نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے کہ موجودہ سسٹم اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں منعقدہ پہلی ''پاکستان اکنامک سمٹ‘‘ میں ایک تلخ لیکن حقیقت پسندانہ تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہو چکا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے‘ سسٹم گر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ڈھانچہ یوں ہی چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد بھی انہی مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھے ہوں گے‘ سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر حالات نہیں بدل سکتے۔ محسن نقوی کا یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ طرزِ حکمرانی اپنا وقت پورا کر چکا ہے۔ جمہوریت میں کئی انتظامی ماڈلز موجود ہیں لیکن ہم ایک ہی ناکام نظام کو گھسیٹنے پر بضد ہیں۔
عسکری قیادت اور دیگر سیاسی رہنما بھی اب اسی ریاستی ضرورت پر آواز بلند کر رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آبادی کے بے پناہ اضافے کے بعد ملکی سلامتی کا براہِ راست تعلق انتظامی اصلاحات سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملک کی پائیداری کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو وہ ہونا چاہیے۔ ترجمان پاک فوج چاہتے تو اس سوال کو نظر انداز بھی کر سکتے تھے وہ یہ بھی مؤقف اختیار کر سکتے تھے کہ یہ سیاسی معاملہ ہے مگر انہوں نے انتظامی یونٹس کے قیام پر اپنی رائے دے کر واضح کر دیا کہ ریاستی ادارے بھی سسٹم کی خرابی کا ادراک کر چکے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اس معاملے پر تجویز پیش کی کہ پاکستان کے ہر صوبے کو انتظامی بنیادوں پر کم از کم تین تین حصوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔ یہ تجاویز اس بات کا مظہر ہیں کہ ہر صوبے کی تقسیم خود اس صوبے کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔ اگر ہم پچھلے دو یا تین جمہوری ادوار کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو سیاسی جماعتوں کے رویے میں ایک طرح کی تبدیلی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ 2022ء میں جب پی ڈی ایم نے اُس وقت کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تو 14 کے قریب سیاسی جماعتیں اکٹھی تھیں۔ اُس وقت کی تقاریر ریکارڈ کا حصہ ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا تھا کہ حکومت بدلتے ہی معیشت سمیت تمام مسائل چند ماہ میں حل کر دیے جائیں گے۔ اسی جوش و خروش کا مظاہرہ 2024ء کے عام انتخابات میں بھی دیکھنے کو ملا۔ مگراب صورتحال مختلف ہے اور تمام سیاسی جماعتیں ناکامیوں کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایسے ہی برقرار رہی تو سیاسی جماعتیں اقتدار سے دور بھاگنے لگیں گی۔ اسی کو 'سسٹم کی ناکامی‘ کہتے ہیں۔ جب موجودہ قوانین‘ دائرہ کار اور ادارے حکمرانوں کو کام کرنے کی گنجائش ہی نہ دیں تو سیاسی قیادت کی کوششوں کے باوجود نتائج صفر نکلتے ہیں۔
پاکستان اس وقت ایسے معاشی و انتظامی چیلنج سے گزر رہا ہے جہاں پرانے طریقوں کو دہرانے یا روایتی پالیسیوں پر تکیہ کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود صاحب نے کچھ عرصہ پہلے جس حقیقت کا ادراک کر لیا تھا‘ وہ آج قومی بیانیہ بن چکا ہے۔ محسن نقوی اور عسکری قیادت کے بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اب فیصلہ سازوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ فرسودہ نظام مزید تباہی کا باعث بنے‘ ہمیں گورننس کی بہتری کے لیے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی طرف فوری اور عملی قدم اٹھانا ہو گا۔ نئے انتظامی یونٹس کا قیام محض جغرافیائی لکیریں کھینچنا نہیں‘ بلکہ پاکستان کی مضبوطی‘ بقا اور عوام کی خوشحالی کا واحد اور ناگزیر راستہ ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved