تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     02-08-2026

سائبر کرائمز اور انسانی سمگلنگ

عالمی ادارۂ مہاجرت آئی او ایم (The International Organization for Migration) نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں انفرادی انسانی ٹریفکنگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور تیزی سے پھیلتی ہوئی اربوں ڈالر مالیت کی یہ مجرمانہ صنعت ملازمت کے متلاشی افراد کو سائبر جرائم میں ملوث کر رہی ہے۔ انتباہ میں کہا گیا ہے کہ ملازمت کا اشتہار مجرمانہ نیٹ ورک کا پردہ بھی ہو سکتا ہے اور کمپیوٹر پر ایک کلک کسی شخص کو خطرناک حالات میں دھکیل سکتا ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرونِ ملک سمگل کیا جاتا ہے جہاں جبری طور پر وہ آن لائن دھوکہ دہی کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہم ہر سال کئی بار یہ سنتے اور خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں سمندر میں انسانوں سے بھری لانچ یا چھوٹی کشتی ڈوب گئی اور اتنے مسافر جاں بحق ہو گئے‘ اتنوں کو بچا لیا گیا‘ اتنوں کی تلاش جاری ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مختلف ممالک سے اچھے روزگار اور اچھے مستقبل کے لیے امیر ملکوں کی جانب عازمِ سفر ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کو منزل ملتی ہے اور کچھ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ انفرادی انسانی سمگلنگ اس سے ملتی جلتی لیکن الگ نوعیت کی ہوتی ہے۔
اس گھناو ٔنے جرم کے مختلف زاویے اور متفرق جہتیں ہیں۔ جنسی استحصال کے لیے انسانی سمگلنگ سر فہرست ہے۔ انٹرنیشنل جسٹس مشن کے مطابق جنسی استحصال کے لیے ہونے والی انسانی سمگلنگ میں سالانہ17 لاکھ بچوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور اس قبیح دھندے سے ہر سال 324.5 بلین ڈالر کا کاروبار ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور خواتین کو مختلف تراغیب دے کر سمگل کیا جاتا ہے۔ سمگل کیے گئے افراد سے زبردستی‘ بغیر معاوضے یا کم اجرت پر سخت مشقت لی جاتی ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں‘ فیکٹریوں‘ کھیتوں اور گھریلو ملازم کے طور پر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اعضا کی غیر قانونی پیوند کاری کا بھیانک کاروبار بھی سمگل شدہ افراد کے اعضا سے ہی کیا جاتا ہے۔ غریب اور بے بس افراد کو لالچ دے کر یا اغوا کر کے ان کے اہم جسمانی اعضا نکال لیے جاتے ہیں‘ غیر قانونی طور پر فروخت کیے جاتے ہیں اور اس فرد کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے جس میں سے یہ اعضا نکالے گئے ہوتے ہیں۔ جبری شادیاں بھی انسانی سمگلنگ کا ایک زاویہ ہیں۔ پھر سمگل کیے گئے بچوں اور معذور افراد کا استحصال کر کے انہیں بھیک مانگنے‘ چوری کرنے یا غیر قانونی سرگرمیوں (جیسے منشیات کی ترسیل) پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سمگلنگ بھی شامل ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے ایجنٹوں کو پیسے دے کر سرحد پار کرتے ہیں اور جس کا ذکر درج بالا سطور میں کر چکا ہوں۔مجھے یاد آ رہا ہے کہ چند سال پہلے صحافی سجاد کریم انجم ایک معاصر میں تاریخ کا جھروکا لکھا کرتے تھے اور انہوں نے ''سفاکانہ تجارت‘‘ کے عنوان سے کالموں کی ایک پوری سیریز لکھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح پُرانے زمانوں میں یورپ کے طاقتور گروہ افریقہ اور دوسرے ملحقہ علاقوں پر حملے کرتے تھے‘ بستیوں کی بستیاں اجاڑ دیتے تھے اور بچ جانے والوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ یورپ لے جاتے تھے اور ان سے بیگار لیتے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ ان غلاموں سے صبح پو پھٹنے سے لے کر رات کا اندھیرا چھانے تک یعنی چودہ چودہ گھنٹے بغیر وقفے کے کام لیا جاتا تھا اور بیمار اور بوڑھے افراد کو بھی نہیں بخشا جاتا تھا۔ آقاؤں کے سخت قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کڑی سزائیں دی جاتی تھیں۔ ان غلاموں کو جتھوں کی صورت میں رسیوں سے باندھ کر ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جاتا تھا۔ ان کے منہ پر آہنی خول چڑھائے جاتے تھے۔ انہیں زنجیریں پہنائی جاتی تھیں۔ انہیں ہتھکڑیاں لگائی جاتی تھیں اور اپنی نشانی رکھنے کے لیے ان کے جسم داغے جاتے تھے۔ انہیں ایک چڈی کے ساتھ زیادہ تر برہنہ رکھا جاتا تھا اور موسم کے مطابق مناسب کپڑے بھی فراہم نہیں کیے جاتے تھے۔ پرانے زمانے میں جہاز رانی کے لیے ظاہر ہے انجن استعمال نہیں ہوتے تھے۔ انجنوں کی جگہ ان زر خرید غلاموں کو چپو دے کر بٹھایا جاتا تھا۔ جب سینکڑوں غلام ایک ہی بار میں چپوں چلاتے تو بڑے بڑے جہاز بھی طوفانی رفتار سے آگے بڑھتے تھے۔ ان غلاموں کو جنگوں میں چارے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کی منڈیاں لگتی تھیں جہاں ان کی کھلے عام خریدوفروخت ہوتی تھی‘ اور بلاشبہ ان غلاموں کا جنسی استحصال بھی کیا جاتا تھا۔
کہا یہ جاتا ہے کہ دنیا سے انسانی سمگلنگ کا خاتمہ ہو چکا ہے لیکن میرے خیال میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ آج کے دور کی انسانی
سمگلنگ کو جدید دور کی غلامی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس میں کسی بھی شخص کو استحصال یا ذاتی فائدے کے لیے دھوکے‘ دھمکی یا زبردستی کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق 27.6 ملین خواتین‘ مرد اور بچے اس وقت دنیا بھر میں غلامی جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب کچھ اس جدید‘ ترقی یافتہ‘ لبرل اور انسانی حقوق کی علم بردار دنیا میں ہو رہا ہے‘ سب کی نظروں کے سامنے‘ سب کی ناک کے عین نیچے۔یو ٹیوب پر ایسی ویڈیو ز مل جائیں گی جن میں نوجوان آپ بیتی سناتے نظر آتے ہیں کہ کس طرح انہیں نوکری کا جھانسہ دے کر بیرون ملک بلایا گیا اور پھر کسی ایسے بیگار کیمپ میں پہنچا دیا گیا جہاں آن لائن فراڈ ہوتے ہیں۔ جس طرح ڈنکی لگا کر باہر جانا آسان نہیں‘ جان جوکھوں کا کام ہے اور ایسی زیادہ تر کوششیں ناکام جاتی ہیں‘ اسی طرح آن لائن نوکریوں کی آفر بھی اب ایک مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ کوئی پتا نہیں چلتا کہ ان میں حقیقی کون ہے اور فیک کون۔ اب ترقی پذیر ممالک میں معیشتوں کے جو حال چل رہے ہیں‘ ان کو پیش نظر رکھ کر ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ آگے بڑھے‘ اچھی جاب کرے‘ بیرونِ ملک جائے اور زیادہ کمائے تاکہ آسودہ زندگی بسر کر سکے۔ یہ خواہش بعض اوقات انسان کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ کئی بار جان پہ بھی بن آتی ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ انسان کے ہاتھوں انسان‘ اقوام کے ہاتھوں اقوام‘ افراد کے ہاتھوں افراد کے استحصال کا جو سلسلہ قدیم زمانوں میں تھا مختلف شکلوں میں وہ آج بھی جاری ہے۔ کہیں براہِ راست فراڈ ہو رہے ہیں تو کہیں آن لائن۔ ایسے میں لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے ڈاکومنٹس اور ذاتی معلومات کو زیادہ سے زیادہ پوشیدہ رکھیں اور صرف اشد اور ناگزیر ضرورت کے تحت ہی کسی کے ساتھ شیئر کریں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں سائبر حملے اور آن لائن فراڈ عروج پر ہیں۔ حالیہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سائبر کرائم میں اضافہ ہوا ہے اور سال کے دوران سرکاری محکموں پر 400 سے زائد سائبر حملوں کی کوششیں کی گئی ہیں۔ ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان میں سائبر کرائمز میں 35فیصد اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آن لائن فراڈوں سے بچنے کے لیے کیا جائے کیونکہ یہ فراڈ اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے سے لے کر انسانی سمگلنگ تک ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں احتیاط ہی اس مسئلے کا واحد حل ہو سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved