حکومت نے ملک میں ایندھن کی نقل وحرکت کی نگرانی کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لاگو کرنے کی ہدایت کی ہے۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ کئی برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً 18 ارب لیٹر پٹرولیم مصنوعات استعمال ہوتی ہیں‘ جن میں سے دو سے چار ارب لیٹر تک سمگل شدہ ایندھن شامل ہوتا ہے اور اس سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً 400 ارب روپے تک کا نقصان ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے سگریٹ‘ کھاد اور چینی سمیت مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نگرانی سے ٹیکس چوری پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔ اگر یہی ماڈل پٹرولیم سیکٹر میں کامیابی سے نافذ ہو گیا تو حکومت کو اربوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر صرف پٹرولیم سیکٹر میں ہونے والے تقریباً 400 ارب روپے کے سالانہ نقصان کو روک لیا جائے تو حکومت کو کئی نئے ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ لیکن صرف ٹریکنگ ڈیوائسز نصب کرنے سے مسائل پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں‘ اس کے لیے صوبائی حکومتوں‘ کسٹمز‘ ایف آئی اے‘ اوگرا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہے۔ ماضی میں کئی اچھے منصوبے کمزور عملدرآمد کی وجہ سے مطلوبہ نتائج نہیں دے سکے۔ اب اگر حکومت پٹرولیم سپلائی چین کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف سمگلنگ کے خلاف بڑی کامیابی ہوگی بلکہ قومی خزانے کو مضبوط بنانے‘ کاروبار کے تحفظ اور عوام کو بہتر توانائی نظام فراہم کرنے کی جانب بھی اہم پیش رفت ہو گی۔
ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جولائی میں 820 ارب روپے کی وصولیاں کی ہیں جو 780 ارب روپے کے مقررہ ہدف سے 40 ارب روپے زیادہ ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ کامیابی پاکستان کے ٹیکس نظام میں حقیقی بہتری کا نتیجہ ہے یا عارضی کارروائی کا؟ پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ٹیکس نظام کے مسائل سے دوچار ہے۔ ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد تقریباً 59 لاکھ ہے جو آبادی کے تناسب میں بہت کم ہے۔ دوسری جانب حکومت کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8045 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جب اتنی بڑی رقم صرف قرضوں کی مد میں خرچ ہو رہی ہو تو حکومت کے لیے ٹیکس آمدن بڑھانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مالی سال 2026-27ء میں ایف بی آر کو تقریباً 17 کھرب روپے کے محصولات جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ یہ ہدف گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ایف بی آر کو ماہانہ اوسطاً 1400 ارب روپے سے زیادہ کی وصولیاں کرنی ہیں۔ ایسے میں جولائی کے 820 ارب روپے یقینا ایک اچھا آغاز ہیں لیکن پورے سال کی کامیابی کا فیصلہ صرف ایک مہینے کی کارکردگی سے نہیں کیا جا سکتا۔ جولائی میں ہدف سے زائد وصولیوں کی بڑی وجہ سیلز ٹیکس کی بہتر وصولی رہی ہے۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس حکومت کی آمدنی کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ بن چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیلز ٹیکس براہ راست عوام ادا کرتے ہیں اور حکومت کے لیے سیلز ٹیکس جمع کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا‘ لیکن براہ راست ٹیکسوں کے دائرے کو بڑھانا حکومت کے لیے اب بھی ایک چیلنج ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور دنیا کے بڑے گندم پیدا کرنے والے ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے پھر بھی ملک گندم اور آٹے کے بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ آٹے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے‘ گندم مارکیٹ سے غائب ہو رہی ہے اور حکومت ایک مرتبہ پھر گندم درآمد کرنے کا سوچ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ چند ماہ پہلے صورتحال بالکل مختلف تھی۔ کسان شکایت کر رہے تھے کہ ان کی گندم مناسب قیمت پر خریدی نہیں جا رہی اور اب عوام مہنگا آٹا اورگندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ جولائی 2026ء کے آغاز میں ملک میں گندم کی اوسط قیمت 4611 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ گئی جبکہ بعض صوبوں میں یہ قیمت 5100 روپے فی 40 کلوگرام سے بھی تجاوز کر گئی۔ پنجاب میں گندم تقریباً 4423 روپے‘ سندھ میں 4625 روپے‘ خیبر پختونخوا میں 5100 روپے اور بلوچستان میں 4800 روپے فی 40 کلوگرام فروخت ہو رہی ہے۔ گندم کی قیمت میں اضافے کا براہ راست اثر آٹے پر پڑا ہے۔ ملک میں 10 کلو آٹے کی اوسط قیمت 1288 روپے تک پہنچ گئی ہے‘ یعنی فی کلو آٹا تقریباً 129 روپے فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہیں۔ سندھ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آٹے کی قیمت پنجاب کے مقابلے میں زیادہ بڑھی ہیں۔ حکومت نے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایک زرعی ملک کو بار بار گندم درآمد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اس بحران کی وجہ حکومتی خریداری کے اہداف کا پورا نہ ہونا بھی ہو سکتی ہے۔ اس سال پنجاب اور سندھ نے اہداف سے کم گندم خریدی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ پاکستان چین بزنس کانفرنس میں 250 سے زائد پاکستانی اور چینی کمپنیوں نے شرکت کی اور 42 سے زائد معاہدے طے پائے جن کی مالیت تقریباً 850 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ان معاہدوں کا تعلق فارماسیوٹیکل‘ ویکسین سازی‘ طبی آلات‘ صنعتی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے شعبوں سے ہے۔ یہ خبر خوش آئند ہے لیکن پاکستان کے عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان نے چینی سرمایہ کاری کے کئی بڑے منصوبے دیکھے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبوں میں 25 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں موٹرویز‘ بجلی گھر‘ ٹرانسمیشن لائنیں اور گوادر پورٹ جیسے اہم منصوبے مکمل ہوئے۔ توانائی کے شعبے میں تقریباً 8000 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی جس سے ملک میں لوڈشیڈنگ کے بحران میں نمایاں کمی آئی۔ لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود پاکستان کی معیشت آج بھی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟ شاید سرمایہ کاری کی سمت درست نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی کے بجائے مہنگی بجلی اور انفراسٹرکچر پر زیادہ توجہ دی گئی۔ صرف سڑکوں اور بجلی گھروں سے معیشت میں پائیدار ترقی نہیں آ سکتی بلکہ صنعتی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالیہ معاہدوں میں فارماسیوٹیکل اور ویکسین سازی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا طبی خام مال‘ مشینری اور طبی آلات درآمد کرتا ہے۔ اگر ان مصنوعات کی مقامی پیداوار شروع ہو جاتی ہے تو نہ صرف درآمدی بل کم ہو سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved