علامہ اقبال نے زندگی کا سراغ پا لینے کیلئے جو کڑی شرط رکھی ہے‘ وہی اس کالم کا عنوان ہے۔ جن بڑے لوگوں نے اس شرط کو پورا کیا اور مجھے اُن سے ملنے کا شرف حاصل ہوا‘ اُن میں ایک نام سیّد عابد علی عابد کا ہے۔ 1964-65ء میں اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ میں لاہور چھائونی کے ساگر روڈ کے آخری مکان میں رہتا تھا۔ ہمارے مکان سے آگے جہاں سڑک ختم ہوتی تھی وہاں ایک تالاب تھا جسے کسی دور میں وہاں آباد ہندوئوں نے ساگر کا نام دیا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہاں ساگر (سمندر) تو تھا مگر عابد صاحب کے روپ میں‘ جن کا گھر ہمارے گھر کے بالکل سامنے تھا۔ اس لحاظ سے وہ ہمارے ہمسایہ تھے۔ ان سے پہلی ملاقات صدر کے علاقہ میں مادرِ ملت کی حمایت میں نکلنے والے لالٹین بردار جلوس نے کرائی تھی۔ 1964ء کے صدارتی الیکشن میں مادرِ ملت فاطمہ جناح کا انتخابی نشان لالٹین تھا۔ ہم سب لوگ ہر رات کو اندھیرا ہوتے ہی اپنی اپنی لالٹین اُٹھا کر کوچہ وبازار میں جلوس نکالتے تھے۔ ایک رات میں نے دیکھا کہ میرے ساتھ ایک دراز قد بزرگ (تہمد باندھے ہوئے) لالٹین اُٹھائے چل رہے ہیں۔ میں نے انہیں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ان سے اپنا تعارف کرایا اور اُن کا نام پوچھا۔ جواب ملا: عابد علی عابدؔ۔ میں ان کے نام سے اور بلند علمی وادبی مقام سے واقف تھا۔ یہ نام سن کر میری حیرت اور خوشی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ہم دونوں جلوس میں چلتے ہوئے باتیں کرتے رہے۔ جلوس ختم ہوا تو میں نے درخواست کی کہ ہمارے گھر چائے پینے تشریف لائیں۔ انہوں نے بلا تکلف دعوت قبول کر لی۔ اس شام میں اس خوشی سے سرشار تھا کہ آج اتنی بڑی شخصیت سے میرے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے ہیں۔ جتنے دن انتخابی مہم جاری رہی‘ شاہ جی (میں اُنہیں اسی نام سے پکارتا تھا) اپنی لالٹین اُٹھا کر ہمارے گھر آجاتے اور ہم میاں بیوی کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوتے۔ الیکشن میں ووٹ دینے کا حق صرف بنیادی جمہوریتوں کے 80 ہزار کونسلروں کے پاس تھا اور دلچسپ بات کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں تھانیداروں کی کل تعداد بھی 80 ہزار ہی تھی۔ الیکشن کا نتیجہ تو سب کو معلوم ہی ہے۔ اگلا برس (1965ء) بھی صدر میں گزرا تو شاہ جی کے ساتھ ہر ہفتے ایک ملاقات ضرور ہو جاتی۔ علم افروز اور واقعتاً چودہ طبق روشن کر دینے والی ملاقات! وہ میری اہلیہ کو ''بہو جی‘‘ کہتے تھے اور کبھی کبھار فرمائش کرتے کہ بہو جی کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھائیں گے ۔ میں مذاقاً کہتا کہ آپ خود کو سزا کیوں دینا چاہتے ہیں؟ تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑتے۔ شاہ جی اس وقت درویشانہ زندگی گزار رہے تھے۔ وہ کئی بار صبح کو میرے ساتھ ساگر روڈ پر چلتے اور بس سٹاپ سے ہم دونوں ایک ہی بس پر سوار ہو کر لاہور ریلوے سٹیشن پہنچتے اور وہاں سے اپنی اپنی بس پکڑتے۔
شاہ جی کا تعلق مشرقی پنجاب کے ایک گائوں (جگرائوں) کے علمی خانوادے سے تھا۔ اُن کے پردادا حکیم رجب علی ارسطو جاہ غالب کے مکتوب الیہ اور گورنر پنجاب کے میر منشی تھے۔ اُن کے والد فوج میں ملازم تھے۔ اُن کی تعیناتی ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوئی جہاں ستمبر 1906ء میں اُن کے گھر بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عابد علی رکھا گیا۔ بڑے ہو کر وہ شعر کہنے لگے تو نام کے ساتھ عابدؔ کے تخلص کا اضافہ کر لیا۔ شاہ جی نے فارسی میں ماسٹرز کرنے کے بعد لاء کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصہ وکالت بھی کی مگر اُن کا اس میدان میں جی نہ لگا اور وہ اسے چھوڑ کر علم و ادب سے اس طرح وابستہ ہوئے کہ مرتے دم تک پھر یہ رشتہ نہ ٹوٹا۔ انتظار حسین جیسے بڑے ادیب ان کی بلند درجہ اردو اور فارسی شاعری کے معترف تھے مگر شاہ جی نے شاعری سے زیادہ تنقید کے میدان میں اپنی علمیت کا سکہ منوایا۔ اُن کی کتابوں میں اُصولِ انتقاد‘ البیان‘ اسلوب‘ یدبیضا‘ البدیع محسنات‘ تلمیحات‘شعرِ اقبال‘ طلسمات (ناول)‘ شہباز خان (ناول)‘ میں کبھی غزل نہ کہتا (شاعری) اور فلسفہ کی کہانی (ول ڈیورنٹ کی کتاب کا ترجمہ) شامل ہیں۔ انہوں نے اُردو ادب میں تنقید کو نئی بلندی‘ گہرائی اور جہت دی۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج لاہور میں فارسی پڑھانے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور آگے چل کر اسی کالج کے پرنسپل بنے اور اپنے آپ کو ایک اچھا منتظم ثابت کیا۔ تدریس کے بعد وہ مجلسِ ترقی ادب سے بطور ناظم اعلیٰ اور اُس کے جریدہ ''صحیفہ‘‘ سے بطور مدیر منسلک ہوئے اور بہت نام کمایا۔ افسوس کہ 1966-67ء میں میرا اُن سے رابطہ منقطع ہو گیا اور پھر میرے انگلینڈ چلے آنے کے بعد رہی سہی کسر بھی نکل گئی۔ ان پر مزید لکھنے سے پہلے میں اُن کا ایک شعرہو جائے:
آج آیا ہے اپنا دھیان ہمیں ؍ آج دل کے نگر سے گزرے ہیں
عابد علی عابد سے میں فنونِ لطیفہ کے کسی شعبہ پر گفتگو کرتا تو بطور طالبعلم ان سے سیکھنے کی کوشش کرتا۔ اُن کا ذہنی اُفق اتنا وسیع تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہتے وہ سند کی حیثیت رکھتا تھا۔ شاہ جی نے تنقید کی کتابیں فارسی اور اردو‘ دونوں زبانوں میں لکھیں۔ چالیس اور پچاس کی دہائی میں انہوں نے ریڈیو پاکستان کیلئے بہت عمدہ فیچر اور ڈرامے لکھے۔ 1931ء میں ہیر رانجھا کے نام سے بننے والی پہلی فلم کی کہانی لکھی۔ بدقسمتی سے شاہ جی دل کے مریض تھے اور ان کا دل تین حملوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہا مگر 1971ء میں چوتھا حملہ جان لیوا ثابت ہوا اور عابد علی عابد جنوری 1971ء میں‘ 65 برس کی عمر میں اس جہان کو چھوڑ گئے۔
Ian Talbotاور طاہر کامران نے Lahore, in the time of Raj کے نام سے ایک اچھی کتاب لکھی تو اس میں عابد علی عابد کے بلند علمی درجے کا بھی ذکر کیا۔ میں نے شاہ جی کی زندگی کا جمالی پہلو دیکھا اور بہت متاثر ہوا۔ ان کے ہمعصر بتاتے ہیں کہ ان کا ایک جلالی رنگ بھی تھا۔ ویسے وہ شخص سب لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹ لیتا تھا مگر جس پر شاہ جی کا جلال گرتا وہ اسے بھسم کر دیتا۔ انتظار حسین نے شاہ جی کے بارے میں ایک دلچسپ بات لکھی کہ موت سے عابد صاحب کی ٹھنی ہوئی تھی۔ موت سے مردانہ وار مقابلے کی ایسی مثالیں کم ملیں گی۔ کہتے ہیں کہ جب محمود نظامی ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر تھے تو عابد صاحب کی حالت اتنی بگڑی کہ لگا بس آخری وقت آگیا۔ محمود نظامی نے جلدی جلدی اُن کے بارے میں فیچر تیار کرایا مگر عابد صاحب کے ٹوٹتے سانس میں توانائی پیدا ہوتی چلی گئی۔ عابد صاحب اُٹھ بیٹھے اور بھلے چنگے ہو گئے۔ جب محمود نظامی اس دُنیا سے اُٹھے تو عابد صاحب نے اُن کی موت پر ریڈیائی فیچر لکھا۔ عابد صاحب کے جنازے میں شریک سوگوار ادیب ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ اُنہیں اب کوئی سوال درپیش ہوگا تو وہ کس سے پوچھنے جایا کریں گے۔ انتظار حسین کے مضمون کے ایک اقتباس کے اختصار کے ساتھ اختتام کرتا ہوں:
عابد صاحب ہمہ گیر قسم کی شخصیت تھے۔ شاعری‘ افسانہ‘ ناول‘ ڈرامہ‘ ان سب میدانوں میں اُنہوں نے طبع آزمائی کی اور دھومیں مچائیں۔ پھر ان تخلیقی اصناف سے قطع نظر وہ علم کے دریا تھے۔ وہ زبان و بیان کے مسائل اور دس علمی روایات جنہیں مشرقی علوم کہتے ہیں‘ خوب رَچے ہوئے تھے۔ ہماری قدیم تہذیب کے منتشر ہونے کے ساتھ ہمہ گیریت کا وہ دور بھی ختم ہو گیا۔ اس شہر میں عابد صاحب ایسے شخص تھے جو ہمہ گیریت کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ عابد صاحب نے حافظہ بھی قیامت کا پایا تھا۔ اُردو اور فارسی کے قدیم اساتذہ ازبر تھے۔ کسی بھی ایسی محفل میں عابد صاحب موجود ہوتے تو مقالہ نگار کیلئے زندہ بچ کے نکل جانا مشکل ہوتا۔ یہ الگ بات ہے کہ عابد صاحب ہی مقالہ نگار کی شان میں رطب اللسان ہو جائیں۔ اس شہر نے عابد صاحب کے کئی زمانے دیکھے۔ وہ زمانہ بھی دیکھا جب عابد صاحب کا بہت طنطنہ تھا۔ اچھے اچھے ان کے سامنے بات کرتے ہوئے گھبراتے تھے۔ پھر وہ زمانہ بھی دیکھا جب عابد صاحب آفاتِ روزگار کے نرغے میں آگئے۔ آخر میں رَسی جل چکی تھی بس کوئی کوئی بل باقی رہ گیا تھا:
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم ؍ اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved