تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     03-08-2026

جنریشن زی: تھوڑا سا گلہ بھی سن لو

جنریشن زی کی کمزوریوں کے بارے میں لکھتے ہوئے ٹرولنگ کا ڈر ضرور ہے مگر یہ اطمینان بھی ہے کہ یہ کالم وہ نہیں پڑھیں گے‘ اس لیے کہ یہ اس کی دلچسپیوں سے باہر کی چیز ہے۔ ادب‘ نثر‘ کالم وغیرہ سے انہیں کیا دلچسپی؟ البتہ یہ شبہ ہے کہ شاعری شاید کچھ کچھ ان کے دل کو لگتی ہو گی کیونکہ رومانوی جذبات کے کام آ جاتی ہے۔ ان کی یہ لاتعلقی میرے لیے لکھنے میں آسانی پیدا کرتی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ میں عمومی مزاج کی بات کر رہا ہوں‘ استثنائی مثالوں کی نہیں۔ نیز میری گفتگو کا محور اس وقت برصغیر کی جین زی ہے‘ یورپی و دیگر ممالک کی نسل نہیں۔ ویسے ہر نسل اپنے سے پچھلوں کی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے اور یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں۔ سقراط سے بھی غلط یا صحیح‘ نوجوانوں پر تنقید منسوب ہے لیکن یہاں معاملہ چند افراد کا نہیں پوری نسل کا ہے۔مجھے زیادہ افسوس جین زی کے مزاج پر یہ ہے کہ وہ اپنے سے پچھلی نسلوں کا نہ احسان مان سکتے ہیں نہ اعتراف کر سکتے ہیں۔ یہ بھی میرا سوال ہے کہ کیا وہ گزشتہ نسلوں سے محبت اور ان کا احترام کرتے ہیں؟ اگر یہ تاثر غلط ہے تو مجھے غلطی کے اعتراف میں دیر نہیں لگے گی لیکن یاد نہیں کہ میں نے ان میں سے کبھی کسی کو یہ کہتے سنا ہو کہ فلاں بڑے نے یہ بڑی نیکی کی تھی‘ بڑا اچھا کام کیا تھا۔ وہ شکر اور شکریے سے کوسوں دور رہتے ہیں لیکن شکایت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ یہ بھی اپنا حق سمجھتے ہیں کہ پچھلی نسلیں ان کا شکریہ ادا کریں اور کرتی رہیں اور چونکہ پچھلی نسلوں نے کچھ کیا تو ہے نہیں‘ تو ان کا شکریہ کس بات کا۔ ان سے بات کرتے ہوئے احساس ہونے لگے گا کہ آپ نے کتنی بیکار زندگی گزاری ہے۔ پچھلی نسلوں نے خواہ لاکھوں قربانیوں اور صدیوں کی جدوجہد کے بعد ملک بنایا ہو‘ چلایا ہو‘ آئین بنایا ہو‘ قوانین اور ضابطے بنائے ہوں‘ ان میں سے نوجوانوں کیلئے کچھ اہم نہیں۔ اہم ترین بات وہ مسائل ہیں جو جین زی کو پریشان کرتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے کہ ان کی باتوں اور عمل میں پچھلی نسلوں کا کیا‘ قومی ہیروز کا احترام بھی بہت کم ہو گا۔ وجہ صرف یہ کہ یہ ہیروز پہلی نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس میں کیا شک ہے کہ جین زی کو نظام بہت خراب بلکہ گلا سڑا ملا ہے اور اس میں پہلی نسلیں ہی قصوروار ہیں لیکن کیا ان سے پہلی نسلوں کو نظام بہت اعلیٰ ملا تھا؟ کیا جین وائے کو قانون پر عمل کرنے والا معاشرہ نصیب ہوا تھا؟ کیا جین ایکس انصاف کی ندی میں تیرتی تھی؟ کیا بومرز کو میرٹ پر جگہ ملتی تھی؟ بومرز سے پہلے سائلنٹ جنریشن اور گریٹسٹ جنریشن کا تو اپنا ملک ہی نہیں تھا۔ وہ ملکی نظام میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن ان سب کے باوجود ان سب نسلوں نے آئندہ نسلوں کیلئے جو کچھ کیا‘ وہ میں قابلِ فخر سمجھتا ہوں۔ وہ لوگ ڈیجیٹل دور میں نہیں جیتے تھے‘ نہ ان کے ہاتھ میں وہ جادو کا ڈبہ تھا جو ایک پل میں انہیں دنیا سے جوڑ دے۔ بیل گاڑیوں اور سست سواریوں میں پورے دن میں پندرہ بیس میل کا سفر کرنے والے‘ چٹھیوں سے پیغام رسانی کرنے والے‘ ایک جوڑے کو پہننے‘ دوسرے کو سُکھانے والے زمانے سے لے کر جہازوں‘ موبائلوں اور انٹرنیٹ کی دنیا تک ان نسلوں کا سفر سہل نہیں تھا۔ یہ لوگ بہت تنگی ترشی میں زندگی گزار کر گئے‘ بہت خراب حالات کا مقابلہ کیا لیکن ہمیں بہت کچھ دے گئے۔ جو کچھ نہیں دیا‘ یا جو کچھ ان کے دیے میں خرابیاں ہیں‘ وہ اپنی جگہ لیکن پہلے اعتراف تو کریں‘ پھر اختلاف اور شکایت بھی کر لیجیے گا۔ بہت مدت پہلے میں نے کسی کا شعر سنا کہ
کوئی دریچہ ہوا کے رخ پر نہیں بنایا
مرے بزرگوں نے سوچ کر گھر نہیں بنایا
تو اچھے شعر کی داد دیتے ہوئے میں نے یہ بھی سوچا کہ دریچے کی خرابی اپنی جگہ لیکن کیا کہنے والے کو اندازہ ہو گا کہ یہ گھر کن حالات اور کن مشکلات کے ساتھ بنایا گیا تھا؟ وہ دریچہ غلط بنانے کی شکایت تو کر رہا مگر گھر بنانے کی قربانیاں نہیں دیکھ رہا۔ گھر ہے تو دریچہ ٹھیک ہو سکتا ہے‘ لیکن اگر گھر ہی نہ ہوتا؟ اور یہ بات صرف فلموں اور ڈرامو ں کی نہیں حقیقی دنیا کی ہے کہ والد یا والدہ نے اپنے کسی بچے کو کوئی کام بتایا‘ کوئی نصیحت کی‘ کوئی بات محبت اور اپنائیت سے سمجھائی تو جوا ب ایسا ملا جس میں نہ محبت تھی نہ اپنائیت‘ نہ غلطی کا اقرار۔ شکایت اور صرف شکایت! وہ اپنے ہم عمروں میں یہی رویہ دیکھتے ہیں اور یہی اختیار کرتے ہیں۔ جن لوگو ں کا استاد کی حیثیت میں اس نسل سے قریبی رابطہ اور تجربہ ہے‘ ان کے مشاہدات پوچھ لیجیے۔ ممکن ہے میرا تاثر غلط ہو لیکن اگر جین زی میں پہلی نسلوں کی قربانیوں کا احساس‘ ان کے کاموں کا ادراک اور ان کا ادب نہیں ہے تو یہ ان کی زندگیوں میں بڑی کمی ہے۔ یہ معاملات مغرب میں تو کافی مدت پہلے سے تھے اور دھیرے دھیرے ہمارے یہاں بھی ہر نسل میں پیدا ہو رہے تھے لیکن جین زی نے انہیں جس طرح اپنایا اس کی ہمارے ہاں پہلے کوئی مثال نہیں۔
ایک بڑا مسئلہ اس نسل میں ارتکاز اور توجہ فوکس رکھنے کا ہے۔ چلیں ہم تو دقیانوسی لوگ ہیں اور فرسودہ باتیں کرتے ہیں‘ پڑھے لکھوں کی باتیں سن لیجیے۔ امریکی ماہر نفسیات جین ٹوینجے (Jean Twenge) نے اپنی کتاب iGen میں کہا کہ جنریشن زی وہ پہلی نسل ہے جس نے بلوغت سے پہلے ہی سمارٹ فون کو اپنا لیا۔ اس کا نتیجہ آٹھ سیکنڈ کے اٹینشن سپین کی صورت میں نکلا جس کی تصدیق مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی 2015ء کی تحقیق نے بھی کی۔ اگر آپ چند سیکنڈ سے زیادہ کسی چیز پر توجہ مرتکز نہیں کر سکتے تو زندگی کیسے گزاریں گے۔ زندگی فیس بک یا ٹک ٹاک کی ریل نہیں ہوتی۔اس نسل کی ذہنی صحت کے بارے میں بھی خدشات ہیں۔ امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن (APA) کی 2023ء کی رپورٹ کے مطابق جین زی میں ڈپریشن اور انزائٹی کی شرح پچھلی تمام نسلوں سے 40 فیصد زیادہ ہے۔ اس کی بڑی وجہ ناکامی کو برداشت نہ کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر وقت ''پرفیکٹ لائف‘‘ دیکھنے سے ان میں Fear of Missing Out (FOMO) کا مسئلہ اور کم خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے۔ نیویارک یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات جوناتھن ہائیڈ کا اپنی کتاب 'مضطرب نسل‘ (The Anxious Generation) میں استدلال ہے کہ بچپن میں حقیقی دنیا کے آزادانہ کھیل کود کی جگہ سکرین نے لے لی جس کے نتیجے میں جین زی کی ایک بڑی تعداد جذباتی لچک پیدا کرنے سے قاصر رہی۔ ان کے مطابق لڑکیوں میں یہ اثرات خاص طور پر شدید ہیں‘ جن کا تعلق سوشل میڈیا پر مسلسل موازنے اور دکھاوے کے رجحان سے ہے۔یہ بات بھی درست لگتی ہے کہ جین زی کی عملی دنیا سے دوری خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ میکنزی اینڈ کمپنی کی 2022ء کی رپورٹ What Gen Z really wants اور گیلپ کے سروے بتاتے ہیں کہ یہ نسل جلد بور ہو جاتی ہے اور مشکل حالات میں فوراً نوکری چھوڑ بیٹھتی ہے۔ اسے Quiet Quitting اور Job Hopping کا نام دیا گیا ہے۔ محنت کے بجائے فوری نتائج کی خواہش بہت زیادہ ہونا ان کا ایک مسئلہ ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جین زی جو دوسروں پر کڑی تنقید کیا کرتے ہیں خود اپنے اوپر تنقید برداشت کرنا ان کے بس میں نہیں۔ سوشل میڈیا نے اس نسل کو تنقید سننے کے قابل نہیں چھوڑا۔ معمولی اختلاف پر کسی کو کینسل‘ یا بلاک کر دو۔ ایسی صورت میں برداشت کیسے پیدا ہو گی؟ ٹیکنالوجی نے اس نسل کو معلومات دے کر صبر‘ مستقل مزاجی اور حقیقی انسانی تعلقات چھین لیے ہیں۔ یہ کم قیمت ہے کیا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved