پاکستان میں جمہوریت اکثر و بیشتر اقتدار کی مجبوریاں سمیٹے سیاسی اتحادوں کے مرہونِ منت رہی ہے۔ معلق ایوان‘ سیاسی جوڑ توڑ اور مفادات کی بنیاد پر بننے والے یہ الحاق بظاہر تو حکومت سازی کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں مگر ان کی بنیادیں اس قدر کمزور ہوتی ہیں کہ معمولی ارتعاش ان کے وجود کو متزلزل کر دیتا ہے۔ اتحاد کے ابتدائی دور میں تو خوش فہمیاں اور مصالحت کی فضائیں برقرار رہتی ہیں‘ مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے اندرونی اختلاف‘ باہمی بے اعتمادی اور نادیدہ تحفظات کھل کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ فروری 2024ء کے عام انتخابات کے بعد وفاق میں وجود میں آنے والی حکومت بھی اسی روایتی سیاسی طرزِ عمل کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس سیٹ اَپ کا سارا بوجھ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی شراکت داری پر ہے۔ تاہم اس بار ماضی کے مقابلے میں مختلف حکمت عملی دیکھنے کو ملی۔ پیپلز پارٹی نے حکومت کو قائم رکھنے کے لیے ووٹ تو دیا اور اسے سہارا بھی فراہم کیا مگر کابینہ اور وزارتوں کا حصہ بننے سے صریحاً گریز کیا۔ اس رویے کے پیچھے سیاسی سوچ اور معاشی بصیرت کارفرما تھی کیونکہ ملک جس معاشی بحران سے گزر رہا تھاپیپلز پارٹی اس کا بوجھ اپنے سر لینے سے بچنا چاہتی تھی تاکہ اس کی سیاسی ساکھ متاثر نہ ہو۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ موجودہ حکومتی بندوبست تین ایسے سنگین چیلنجز کی زد میں آ چکا ہے جو اس کی آئینی پائیداری کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ اوّل سخت معاشی فیصلوں اور دعوؤں کے باوجود معیشت میں خاطر خواہ استحکام نہیں آ سکا اور مہنگائی کی چکی میں پستا عام آدمی اب بھی ریلیف سے محروم ہے۔ حکومت کے پاس اگرچہ جواز ہے کہ مہنگائی کی بنیادی وجہ ایران امریکہ جنگ ہے تاہم عام شہری کہاں گہرائی میں جا کر معاملات کا ادارک کرتا ہے۔ دوم سیاسی محاذ پر تناؤ کم ہونے کے بجائے بڑھ چکا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اسیری کے باوجود عوام کے ایک طبقے میں مقبول ہیں‘ جس نے اپوزیشن کے بیانیے کو کمزور ہونے نہیں دیا اور حکومت کے لیے مسلسل قانونی و اخلاقی دباؤ پیدا کر رکھا ہے۔ سوم فروری 2024ء کے الیکشن کے بعد قائم ہونے والے حکومتی اتحاد میں دراڑیں محسوس کی جا رہی ہیں۔ جب اتحادی ہی ایک دوسرے کی پالیسیوں پر کھل کر تحفظات کا اظہار کرنے لگیں تو نہ صرف فیصلہ سازی کا عمل سست روی کا شکار ہوتا ہے بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں قائم ناپائیدار استحکام بھی بکھرنے لگتا ہے۔ حکومتی اتحادیوں کے درمیان پائی جانے والی خلیج اور تناؤ کے واضح مظاہر حال ہی میں آزاد کشمیر کے الیکشن میں کھل کر سامنے آئے ‘ جہاں دونوں اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے مدمقابل آن کھڑی ہوئیں۔ یہاں اتحاد کی کمزوریاں اور مصلحت کے پردے چاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے شدید الزامات عائد کیے ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اہم اتحادی پر تنقید کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔ بات محض لفظی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے اعتراضات اٹھا کر اس عمل کے بائیکاٹ کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اس اہم مرحلے پر آزاد کشمیر الیکشن کا بائیکاٹ کرتی ہے تو اس سے نتائج کی عددی ترتیب پر شاید کوئی خاص فرق نہ پڑے کیونکہ (ن) لیگ الیکشن میں پہلے ہی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ تاہم اس سے انتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر بہت بڑا سوالیہ نشان ثبت ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی پہلے ہی اس عمل سے باہر تھی اب اگر پیپلز پارٹی بھی کنارہ کشی اختیار کرتی ہے تو اس الیکشن کو یکطرفہ اور غیرمعتبر قرار دیا جائے گا۔
جب سیاسی اتحادی ٹوٹنے لگتے ہیں تو عموماً اسی قسم کے گلے شکوے اور الزامات جنم لیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے ملنے والے یہ اشارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومتی اتحاد اب اپنی مدت پوری کر چکا ہے‘ جب سیاسی اتحاد کی بنیادیں ہل جائیں تو مرکزی حکومت کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گورننس پر اچانک اٹھنے والے سوالات محض کوئی اتفاق نہیں ہیں بلکہ یہ سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں اندرونی سطح پر سکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں بلکہ پچھلے کچھ عرصے سے ان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر سے نمٹنے کے لیے حکومت کا مضبوط ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ مضبوط حکومت اور سکیورٹی فورسز مل کر ہی ریاست مخالف عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ مئی 2025ء کے معرکۂ حق کی شاندار کامیابی کے بعد حکومت کا جو مورال بلند ہوا تھا اس نے قوم کو ایک پیج پر جمع کر دیا تھا‘ عام شہری سے لے کر اپوزیشن جماعتوں تک سبھی ایک لڑی میں پروئے نظر آ رہے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ جذبہ ماند پڑ رہا ہے۔ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے معیشت کی بحالی اور امن و امان کے لیے جن ٹھوس اور دیرپا اقدامات کی اشد ضرورت تھی‘ وہ سیاسی کشمکش اور عدم استحکام کی نذر ہو گئے۔ گڈ گورننس اور عوام کو ریلیف ہی قوم کو جوڑے رکھنے کا وہ واحد طریقہ ہے۔
ہمارے جمہوری نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ہی رخصت کرنے کا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے۔ یہ ایسی روایت بن چکی ہے جس نے ہمارے جمہوری عمل کو اپاہج کر کے رکھ دیا ہے۔ قبل از وقت رخصتی کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ حکومت اپنے طویل مدتی منصوبے پیش کرنے اور ڈِلیور کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ کسی بھی حکومت کے ابتدائی دو سال عالمی برادری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ سفارت کاری‘ اعتماد سازی اور معاہدے طے کرنے میں گزرجاتے ہیں۔ دو سال کی محنت کے بعد جب معاہدوں کی عملی شکل اور نتائج سامنے آنے کا وقت ہوتا ہے تو ملک میں حکومت کی رخصتی کا سامان تیار ہو چکا ہوتا ہے نتیجتاً ملک اور عوام ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں جو اِن پالیسیوں کے ثمرات کی صورت میں مل سکتے تھے۔ ہمیں بطور قوم اور ریاست اس روایت کو ختم کرنا ہو گا۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی اپروچ میں پختگی لانا ہو گی اور یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ اگر کوئی حکومت پانچ سال کی آئینی مدت کے لیے چنی گئی ہے تو ڈھائی سال بعد اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے حکومت کی کارکردگی اور گورننس شدید متاثر ہوتی ہے۔
پاکستان میں بظاہر جمہوری نظام کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر ہماری سیاسی قیادت اور جماعتیں ان خامیوں کو دور کرنے سے گریزاں رہتی ہیں جو جمہوریت کی حقیقی روح اور شفافیت کے منافی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے وہی اقوام ترقی کے اوج پر پہنچی ہیں جنہوں نے سیاسی استحکام کو اپنا شعار بنایا اور طویل المدتی منصوبوں کو تسلسل فراہم کیا۔ محض دو یا ڈھائی سال کی عارضی حکمت عملی سے نہ تو کوئی ریاست اپنی معیشت کو بہتر کر سکتی ہے اور نہ ہی چیلنجز سے نبرد آزما ہو سکتی ہے۔ اس لیے جب تک ہم اپنے سیاسی رویوں میں وژن اور آئینی و پالیسی کے تسلسل کو بنیادی شرط کے طور پر شامل نہیں کرتے‘ حکومتوں کو وقت سے پہلے رخصت کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آئین میں منتخب حکومت کی مدت پانچ سال مقرر ہے مگر حکومت ڈھائی‘ تین سال کے بعد ہی عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اقتدار کے تمام شراکت داروں کو یہ بات ملحوظِ خاطر رکھنا ہو گی کہ حقیقی جمہوری اقدار اور پائیدار آئینی تسلسل کے بغیر نہ معیشت کو استحکام مل سکتا ہے اور نہ ہی عوام جمہوریت کے حقیقی ثمرات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved