اجمل ملک کے بعد باری باری تمام افراد کو اندر بلایا گیا۔ پہلے جن لوگوں کو بلایا گیا‘ وہ تھے جنہیں بری کیا گیا تھا۔ فیصلہ سنانے کے بعد وہی ہوتا جو اس سے پہلے اجمل ملک کے ساتھ ہوا۔ یعنی فیصلہ سناتے ہی ایک سپاہی انہیں پکڑ کر عمارت کے مرکزی دروازے سے باہر دھکیل دیتا۔ بعد ازاں ان لوگوں کی باری آئی جنہیں سزا سنائی گئی تھی۔ عبدالرحیم‘ عبدالجبار قریشی‘ اشفاق حسین‘ بارک اللہ خان‘ تنویر عباس تابش اور یہ خاکسار؛ کل چھ ساتھی قید ہوئے‘ باقی سب رہا ہو گئے۔ جن لوگوں کو سزا ملی ان پر یہ الزام نہ تو ثابت ہوا کہ انہوں نے توڑ پھوڑ کی تھی اور نہ ہی حقیقت میں ان میں سے کسی نے توڑ پھوڑ کی تھی۔ بارک اللہ خان صاحب کو تو یونہی دھر لیا گیا تھا۔ باقی طلبہ کو محض اس بنیاد پر سزا دی گئی کہ ان سے متعلق ثابت ہو چکا تھا کہ وہ اُس رات موقع پر موجود تھے۔ ہمیں کیمپ جیل پہنچا دیا گیا۔ باقی ساتھیوں کا سامان منشی اور نمبردار قسم کے پرانے قیدیوں کے ہاتھ باہر بھجوا دیا گیا۔
ہم سب نے ایک ایک سال قید کیلئے اپنے دل ودماغ کو تیار کر لیا تھا۔ ایک سال کی سزا سن کر بارک اللہ خان اپنے مخصوص لہجے میں کہنے لگے: چلو خیر ہی گزر گئی۔ ایک سال کا کیا ہے گزر ہی جائے گا۔ اس پر کسی ساتھی نے گرہ لگائی: خان صاحب کتنے دنوں میں؟ جواب دیا: چٹکی بجانے میں۔ اس پر سبھی ساتھی خوب ہنسے۔ ہم نے جیل آنے کے پہلے ہی دن سے سب ساتھیوں کی مختلف ڈیوٹیاں لگا دی تھیں۔ میرے ذمے افسران اور جیل حکام سے بات چیت کرنا‘ اپنے مطالبات ان تک پہنچانا اور انہیں منوانا وغیرہ کے کام تھے۔ بارک اللہ خان کی ذمہ داری خوراک اور طعام کی ترسیل اور انتظام پر تھی‘ جبکہ باقی ساتھیوں کا کام سیل کی صفائی‘ کھانے کی تیاری اور برتن دھونا اور نماز کیلئے صفیں بچھانا وغیرہ تھی۔
سزایابی کے بعد ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ہماری ''چالی‘‘ کا آرڈر آ گیا۔ چالی جیل کی اصطلاح ہے‘ جس کے معنی ہیں کہ قیدی کو اس جیل سے کسی دوسری جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسے منتقلی بھی کہا جا سکتا ہے مگر جیل میں ''چالی‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔ صبح ہی صبح بعض نمبرداروں اور وارڈنز کی زبانی سنا کہ ہماری چالی کے احکامات آ گئے ہیں۔ مجھے دوستوں نے ڈیوڑھی میں جا کر صحیح صورتحال معلوم کرنے کا کہا۔ میں نے پتا کیا توخبر درست تھی۔ میں نے تحریری احکام میں دیکھا کہ ہم سب کو الگ الگ‘ مختلف جیلوں میں بھیجے جانے کا فیصلہ ہوا تھا۔ میں نے واپس آکر دوستوں کو بتایا کہ ہم سب لوگ متفرق جیلوں میں جا رہے ہیں۔ بارک اللہ خان سینٹرل جیل ملتان‘ عبدالجبار قریشی بہاولپور‘ اشفاق حسین سیالکوٹ‘ عبدالرحیم میانوالی‘ تنویر تابش شاہ پور اور میں سینٹرل جیل ساہیوال میں۔
ڈیوڑھی میں ایک واقف کار جیل ملازم سے میں کہہ آیا تھا کہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کے لڑکے صفدر کو بلا دیں۔ وہ اسلامیہ کالج سول لائنز کا طالبعلم تھا اور جمعیت کا معتقد تھا۔ عبدالمالک شہید (ڈھاکہ) کی شہادت پر احتجاج پر گرفتار ہو کر جب میں اس جیل میں آیا تھا تو صفدر مجھ سے ملنے اکثرجیل کے اندر آ جایا کرتا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے ذریعے اپنے دوستوں سے رابطہ کروں اور ان سے درخواست کروں کہ ہر متعلقہ مقام پر اپنے احباب کو 'اصحابِ سِجن‘ کی اطلاع پہنچا کر ان کی مناسب دیکھ بھال کے بارے میں درخواست کریں۔ بارک اللہ خان مجھ سے بضد تھے کہ میں چالی رکوانے کی کوشش کروں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ میں بھوک ہڑتال کا اعلان کر دوں۔ میں نے انہیں احترام اور نرمی سے سمجھایا کہ پہلی بات تو یہ کہ چالی کوئی نئی بات نہیں‘ یہ عام قانونی روش اور جیل قوانین کا معمول ہے۔ دوسرا‘ میں بھوک ہڑتال کو ذاتی طور پر جائز ہی نہیں سمجھتا تو پھر کیسے بھوک ہڑتال کر دوں۔ اب خان صاحب میرے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ میں اپنے فرائض ادا کرنے سے یا تو پہلوتہی کر رہا ہوں یا اپنی نااہلی ثابت کر رہا ہوں۔ بہرحال ہمارا یہ گھریلو جھگڑا جاری ہی تھا کہ صفدر آ گیا۔ میں اس کے ساتھ ڈیوڑھی کی طرف چلا گیا۔ وہاں سے اس کے والد کے دفتر میں بیٹھ کر مرکز جماعت اسلامی اچھرہ میں برادرم صفدر علی چودھری کو فون کیا اور انہیں صورتحال سمجھائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ فوراً جیل پہنچ رہے ہیں‘ چنانچہ میں ابھی ڈیوڑھی ہی میں تھا کہ وہ تشریف لے آئے۔ ان کے ساتھ صاحبزادہ ابراہیم اور مولا نا محمد سلطان صاحبان بھی تھے۔ ان سے بالمشافہ گفتگو میں سارے انتظامات طے ہو گئے اور میں اطمینان سے واپس آگیا۔ میں نے بارک اللہ خان کو تسلی دی کہ خدا تعالیٰ بہتری کرے گا۔ اس وقت تک ان کا غصہ کسی حد تک ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
کیمپ جیل میں چند ہفتوں کے قیام کے دوران قیدیوں کی اچھی خاصی تعداد ہم سے بہت مانوس ہو چکی تھی۔ وہ درسِ قرآن میں بھی آتے اور عمومی مجلسوں میں بھی شریک ہوتے۔ اب کیمپ جیل کے قیدی ہمارے گرد جمع تھے اور بڑی محبت سے ہمیں الوداع کہہ رہے تھے۔ جس جس کا جو واقف‘ دوست اور عزیز متعلقہ جیلوں میں تھا‘ اس نے فوراً اس کے نام رقعہ لکھ دیا کہ اس کا فلاں دوست اس جیل میں آ رہا ہے اس سے اچھا برادرانہ سلوک کیا جائے۔ ساہیوال جیل کے بارے میں تصور یہ تھا کہ وہ بہت بدنام اور سخت جیل ہے اور یہ بات تھی بھی درست۔ میرے قیدی دوستوں نے کئی خطوط لا کر میرے ہاتھوں میں تھما دیے۔ کوئی خط طراب شاہ (بنوں) کے نام تھا تو کسی میں نذر محمد (منڈی بہاء الدین) کو ایڈریس کیا گیا تھا۔
عزیزان گرامی اشفاق‘ عبدالرحیم اور تابش ہم سے پہلے روانہ ہو گئے۔ روانگی سے قبل میں نے ان کو بہت پیار دیا اور سب کا ماتھا چوما۔ ان کی آنکھوں میں جذباتِ محبت کی وجہ سے آنسو تھے۔ ان کو رخصت کرتے وقت عجیب کیفیت تھی۔ میں‘ بارک اللہ خان اور عبدالجبار قریشی ایک ہی ٹرین سے روانہ کیے جا رہے تھے۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر ہمارے دوستوں کا ایک بڑا مجمع ہمیں الوداع کہنے کیلئے جمع تھا۔ ہم تینوں کو ہتھکڑیاں لگائی گئی تھیں۔ اس دوران عصر کی نماز کا وقت ہوا تو میں نے اسی حالت میں نماز پڑھائی۔ اگلے دن کے اخبارات میں اس نماز کی تصاویر اور خبر شائع ہوئی۔
جونہی ٹرین پلیٹ فارم پر آکر کھڑی ہوئی تو نعرے لگنے لگے۔ بارک اللہ خان اپنا ہتھکڑی والا ہاتھ لہرا لہرا کر نعرے لگوار ہے تھے۔ انہی نعروں کی گونج میں ٹرین ہمیں لے کر روانہ ہو گئی۔ کئی سٹیشنوں پر رکتے ہوئے‘ سفر جاری تھا۔ راستے میں بھی کچھ سٹیشنوں پر ہمارے استقبال کیلئے ساتھی موجود تھے۔ تین گھنٹے کے سفر کے بعد ساہیوال ریلوے سٹیشن پر گاڑی رکی تو یہاں بھی ساتھیوں کی اچھی خاصی تعداد استقبال کیلئے موجود تھی۔ میں بارک اللہ خان اور عبدالجبار قریشی سے گلے ملا۔ جدائی کے وہ چند لمحے خاصے بھاری تھے۔ انہیں خدائے قدوس کے حوالے کر کے میں پلیٹ فارم سے باہر نکل آیا۔ پولیس کے خوش اخلاق کارندے ہمارے ساتھ تھے۔ ساہیوال کے ایک ہوٹل میں دوستوں نے پُرتکلف کھانا کھلایا اور پھر رات گئے ساہیوال جیل کے مین گیٹ پر لے گئے۔ پولیس والوں نے مجھے جیل حکام کے حوالے کیا اور پھر وہ بھی‘ میرے دوستوں سمیت اپنی اپنی منزل کی طرف چلے گئے۔
ساہیوال جیل میں ایک سال کا قیام بڑا یادگار تھا۔ قید تنہائی کا ابتدائی عرصہ‘ نئے نئے تجربات‘ قلبی کیفیات‘ مطالعہ‘ دوستوں سے خط وکتابت‘ قیدی ساتھیوں سے گھل مل کر رہنا‘ درس قرآن‘ رمضان میں تراویح‘ گرمیوں کی شدید گرم راتیں‘ کال کوٹھڑی میں مچھروں کی یلغار‘ ملاقات کیلئے ملک بھر سے دوستوں اور احباب کی آمد‘ غرض کیا لکھوں! یہ اور ان کے علاوہ بے شمارباتیں ذہن میں محفوظ ہیں۔ والد محترم اور دیگر بہت سے عزیز واقارب کا متعدد مرتبہ ساہیوال کا سفر اور لذت بھری ملاقاتیں۔ ان کی تفصیل کہاں لکھ سکتا ہوں! نہ ہمت ہے نہ ہی تاب!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved