تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     05-08-2026

جمہوریت خود قید ہوگئی

موجودہ ملکی صورتحال سے یاد آیا کہ برسوں سے پڑھ اور سن رہے ہیں کہ جمہوریت مشکل لیکن ایک ایسا نظام ہے جو دھیرے دھیرے مضبوط ہوتا ہے۔ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس میں بہت وقت لگتا ہے کہ لوگوں کے رویے جمہوری ہوں۔ راتوں رات کچھ نہیں ہوتا۔ جن ملکوں کی ہم مثالیں دیتے ہیں وہاں چار پانچ سو سال سے زائد عرصے سے جمہوریت ہے‘ لہٰذا اب ان معاشروں کے ڈی این اے میں بھی جمہوریت آ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس سال میں برطانیہ میں ساتواں وزیراعظم تبدیل ہو چکا ہے لیکن وہاں کوئی ایسا پینک نہیں ہے جو ہمارے ہاں اس وقت وزیرداخلہ کی ایک تقریر سے پیدا ہو چکا ہے۔ ویسے حیرانی ہوتی ہے کہ اٹلی‘ جاپان‘ برطانیہ یا فرانس تک میں وزیراعظم تبدیل ہو جائیں اور مسلسل ہوتے رہیں تو بھی جمہوریت خطرے میں نہیں پڑتی۔ ہمارے ہاں ایک وزیراعظم تبدیل ہو جائے تو لگتا ہے آسمان گر گیا ہے۔ عمران خان کو تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا گیا تو انہوں نے جیل میں جانا مناسب سمجھا اور پوری پارٹی بین کرا لی‘ اپنے ساتھیوں کو دس دس سال قید کرا کے نااہل کرا لیا لیکن سرکاری بینچوں سے اٹھ کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنا انہیں مناسب نہیں لگا۔ بھٹو صاحب نے بھی پھانسی لگنا قبول کر لیا لیکن انہیں بھی الیکشن لڑ کر جیتنا اچھا نہیں لگا‘ جہاں سے ان کے خلاف دھاندلی کا نعرہ بلند ہوا۔ میاں نواز شریف بھی تین دفعہ وزیراعظم بن کر مطمئن نہ ہوئے تو چوتھی کوشش کی جو کامیاب نہ ہوئی۔
بھٹو صاحب کا دور دیکھیں تو اس وقت ان کے چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت سترہ وزیروں اور دیگر اہم سیاسی ساتھیوں نے خود کو بلامقابلہ الیکٹ کرا لیا۔ بھٹو صاحب کے پاس الیکشن لڑنے کی چوائس بھی تھی۔ بھلا انہیں لاڑکانہ سے کون ہرا سکتا تھا۔ اگر وہ دو تہائی اکثریت نہ بھی لے پاتے لیکن سادہ اکثریت تو ان کے سیاسی مخالفین بھی مانتے تھے کہ وہ لے جاتے۔ مگر وہی بات کہ بغیر الیکشن لڑے جیتنے کا اپنا رومانس تھا۔ نتیجہ ہم سب جانتے ہیں۔ اگر آپ نے بغیر الیکشن لڑے ہی وزیراعظم بننا ہے تو آپ جمہوریت کے اس فلسفے کی ہی خلاف ورزی کر رہے ہیں جس نے بادشاہوں کے خلاف جنم لیا تھا کہ تاحیات سربراہ کسی نے نہیں رہنا۔ ہر پانچ سال کے بعد آپ کو لوگوں کے سامنے پیش ہو کر اپنا پارلیمانی احتساب کرانا ہوگا۔ لیکن جہاں جہاں حکمرانوں نے منتخب سیاسی وزیراعظم بننے کے بجائے تاحیات کرسی پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا‘ ان کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا۔ اگرچہ آپ میں سے اکثر قارئین یہ کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک ہی شخص دو دو دفعہ بلکہ مارگریٹ تھیچر تین دفعہ بھی وزیراعظم رہیں۔ میں پھر کہوں گا کہ جن ملکوں میں اچھی بری جمہوریت کی روایت چار پانچ سو سال پرانی ہے وہاں ادارے اتنے مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں کہ یہ نارمل بات لگتی ہے۔ پھر مارگریٹ اپنی جگہ اپنی بیٹی یا بیٹے کو وزیراعظم نہیں بنوا گئی۔ لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں سیاسی وزیراعظم کے اندر بہت خواہش ہوتی ہے کہ وہ الیکٹ تو جمہوری طریقے سے ہوجائے لیکن حکومت ایک بادشاہ کی طرح کرے جو کسی کو جوابدہ نہ ہو‘ اور اس پر تنقید کرنے والا قابلِ گردن زنی ہو۔ پھر وہ گھر نہیں جانا چاہتا اور طاقتور حلقوں کے ساتھ مل کر تاحیات تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ بھارت میں بھی تو اندرا گاندھی کے ساتھ یہی کچھ ہوا۔ وہی اندرا گاندھی جس نے بنگلہ دیش بنوا کر عوام میں نام کمایا تھا‘ وہ محض چار سال کے بعد اتنی غیرمقبول اور آمرانہ مزاج کی ہو گئی کہ اسے آئین کو معطل کر کے ایمرجنسی لگانا پڑی تاکہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈال سکے۔ تو کیا نہرو کی بیٹی یہ سب کچھ جمہوری اقدار کے نام پر کر رہی تھی؟ ہرگز نہیں۔ وہ وزیراعظم ہاؤس نہیں چھوڑنا چاہ رہی تھی‘ لہٰذا اس کیلئے آئین‘ قانون یا جمہوری رویے غیر اہم ہو گئے تھے۔ اور وہی ہوا کہ دو سال کے بعد الیکشن ہوا تو وہ الیکشن ہار گئی۔ اندازہ کریں‘ اندرا گاندھی نے دو سال تک پورے بھارت میں کھل کر کھیلا کہ کسی طرح اس کی گرتی مقبولیت بحال ہو جائے اور وہ الیکشن جیت جائے لیکن عوام میں نفرت بڑھتی گئی اور وہ الیکشن ہار گئی‘ اور وہ کچھ ہو گیا جو کبھی کسی نے نہ سوچا تھا۔ اگرچہ دو سال کے بعد پھر الیکشن ہوئے تو وہ جیت کر وزیراعظم تو بن گئی لیکن وہی عہدہ اس کی جان لے گیا۔
اس ساری بحث کا مقصد یہی ہے کہ انسان آمرانہ مزاج رکھتا ہے۔ اسے پاور پسند ہے۔ وہ پاور کیلئے کچھ بھی کرے گا۔ جبکہ جمہوریت کا مطلب یا تصور ہی یہی تھا کہ آپ مستقل بادشاہ نہیں بن سکتے کیونکہ اس سے زیادہ قتل و غارت اور خون خرابہ ہوتا ہے۔ بادشاہ کبھی ریٹائر نہیں ہوتا‘ نہ ہی وہ گھر جاتا ہے جب تک قدرت خود مداخلت نہ کرے یا پھر خاندان میں وراثت کیلئے جنگ نہ شروع ہو جائے۔ ہندوستان کی ہی مثالیں دیکھ لیں کہ اکبر کے بیٹے نے اس کے خلاف جنگ لڑی‘ جہانگیر کے بیٹے نے باپ کے خلاف جنگ لڑی‘ شاہ جہاں کے بیٹے نے باپ اور چار بھائیوں کے خلاف جنگ لڑی اور انہیں قتل کیا۔ یہ لمبی بحث ہے کہ بادشاہوں کو ہٹا کر جمہوری وزیراعظم یا پارلیمنٹ کیوں لائے گئے تھے۔ جمہوریت نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن بادشاہوں کا قتلِ عام اور شہزادے شہزادیوں کا لہو بہنا بند ہوا۔ جمہوریت نے انسانوں کی اقتدار کیلئے جنگیں تو بڑی حد تک ختم کرائیں ورنہ تو سلطنتِ دہلی میں‘ جہاں ایک بادشاہ کی اوسط اقتدار کی عمر دس سال رہی‘ وہاں جب بغاوت ہوتی تھی تو بچوں تک کو بھی قتل کیا جاتا تھا تاکہ وہ کل بڑے ہو کر تخت پر حق نہ جتائیں‘ جیسے اورنگزیب نے اپنے بھتیجے کو جنگ کے بعد گرفتار کر کے قتل کیا تھا تو بھی یہی وجہ ذہن میں تھی کہ اگر اسے چھوڑ دیا تو وہ کل کو اپنا حق جتائے گا۔ شاید اورنگزیب کو اپنے مغل خون کا اندازہ تھا کہ سب کسی نہ کسی سگے کو مار کر ہی اقتدار میں آئے تھے۔ اور تو اور شاہ جہاں‘ جو ایک مظلوم بادشاہ سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی اپنے سوتیلے بھائی کو قتل کر کے بادشاہ بنا تھا۔ ان حالات میں جب انگریزوں نے ہندوستان میں جمہوریت متعارف کرانی شروع کی تو انہیں یہ کریڈٹ دینا پڑتا ہے کہ ان کے اس نظام کی وجہ سے اس خطے میں خون خرابہ کم ہوا اور تبدیلی کا نیا سفر شروع ہوا۔ لیکن وہی بات کہ ہمارے ہاں ہر کوئی کوشش کرتا ہے کہ وہ اگر اقتدار میں آ گیا ہے تو اب مرتے دم تک اس نے یا اس کے خاندان نے ہی اقتدار میں رہنا ہے۔ اگرچہ یورپی دنیا میں سینکڑوں سال کی جمہوریت کی وجہ سے خاندانی سیاست دھیرے دھیرے ختم ہوتی چلی گئی لیکن ہندوستان‘ پاکستان‘ سری لنکا اور بنگلہ دیش میں آج بھی سیاسی خاندان مضبوط ہیں۔ ہمارا خیال تھا اور اب بھی ہے کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہے اور اگر جمہوریت کو وقت ملتا رہے گا تو یہ مضبوط ہوتی رہے گی۔ مقتدرہ کی طاقت کم کرنے کا یہی طریقہ تھا کہ ایک ہی شخص مسلسل حکمران نہ رہے‘ اپنا کردار خراب نہ کرے‘ دولت اکٹھی کرنے کے چکر میں نہ پڑے بلکہ خدا کا شکر ادا کرتا رہے کہ اس نے کروڑوں لوگوں میں سے اس کو ان کا حاکم چنا۔ لیکن کیا کریں کہ ہمارے اندر کی ہوس ہی ختم نہیں ہوتی‘ چاہے وہ حکمرانی کی ہو یا دولت کی۔ وفاق میں شہباز شریف وزیراعظم تو سمدھی اسحاق ڈار نائب وزیراعظم‘ ڈار صاحب کا بیٹا پنجاب میں مشیر تو مریم نواز وزیراعلیٰ ہیں۔ اب حمزہ شہباز کو بھی وزیراعظم ہاؤس میں لا بٹھایا ہے۔ جمہوریت‘ جو شاہی خاندانوں اور شہزادے شہزادیوں کے تاحیات حکمرانی کے حق کے خلاف متعارف کرائی گئی تھی وہ ہمارے ہاں خود قیدی بن کر رہ گئی ہے۔ ہمارے جیسے انتظار ہی کرتے رہے کہ جمہوریت جاری رہی تو پرانے چہرے سکرین سے آؤٹ ہوتے جائیں گے‘ نئے چہرے آتے جائیں گے‘ پراسیس چلتا رہے گا تو ملک اور معاشرہ ٹھیک ہوتے جائیں گے۔ وہ جمہوریت‘ جس نے ہمیں آزادی دلوانی تھی وہ ہمارے ہاں خود قید ہو گئی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved