پاکستان میں شاید ہی کسی آئینی ترمیم کو وہ سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی پذیرائی نصیب ہوئی ہو جو اٹھارہویں آئینی ترمیم کو حاصل ہوئی۔ پارلیمنٹ نے اسے متفقہ طور پر منظور کیا اور صدر آصف علی زرداری نے 19اپریل 2010ء کو اس پر دستخط کیے۔ یوں مشترکہ فہرست کے خاتمے سے وفاق اور صوبوں کا تعلق نئے سرے سے تشکیل پایا اور 1973ء کے آئین کا وفاقی توازن بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ تعلیم‘ صحت‘ زراعت‘ محنت‘ ثقافت‘ ماحولیات‘ ہاؤسنگ اور سماجی بہبود سمیت متعدد شعبے صوبوں کے حوالے کر دیے گئے تاکہ ملک مرکزیت سے نکل سکے۔ یہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک آئینی معاہدہ تھا کہ حکومت کی ہر سطح صرف وہی اختیارات استعمال کرے جو آئین اسے دے۔اس عزم کا آئینی خاکہ بھی واضح تھا۔ آرٹیکل 270-AA کے تحت ایک عملدرآمد کمیشن نے وفاقی اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کی نگرانی کی۔ اس کی سفارشات پر وفاقی حکومت نے دو دسمبر 2010ء‘ 15اپریل 2011ء اور 29 جون 2011ء کو تین نوٹیفکیشن جاری کیے‘ اور 30جون 2011ء تک 17وزارتیں صوبوں کے سپرد کر دی گئیں۔ آئینی اعتبار سے یہ عمل مکمل تھا مگر 16برس گزرنے کے بعد بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتیں مختلف ناموں سے آہستہ آہستہ اسلام آباد میں دوبارہ نمودار ہوئیں۔ تعلیم کی وزارت‘ وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی صورت میں‘ زراعت کی وزارتِ قومی غذائی تحفظ کے روپ میں‘ اور ماحولیات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی شکل میں لوٹ آئی۔ صحت‘ ثقافت‘ ہاؤسنگ‘ سماجی بہبود‘ محنت سے متعلق ادارے‘ ای او بی آئی‘ اوقاف اور زکوٰۃ و عشر بھی دوبارہ وفاقی ڈھانچے کا حصہ بن گئے۔
اس صورتحال نے ایک اہم آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ جدید وفاق کو تعلیم‘ صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں قومی سطح پر ہم آہنگی درکار ہوتی ہے‘ اور اس دلیل سے اختلاف مشکل ہے۔ آئین خود ہی مشترکہ مفادات کونسل کی صورت میں ایسا طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم آہنگی ضروری ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم آہنگی اسی مقصد کے آئینی اداروں کے ذریعے ہو یا ان وزارتوں کے ذریعے جنہیں پارلیمنٹ پہلے ہی صوبوں کے سپرد کر چکی ہے؟ یہ بحث اب وکلا یا وفاقیت کے طالب علموں تک محدود نہیں‘ خود پارلیمنٹ کے اندر داخل ہو چکی ہے۔
24 جولائی 2026ء کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیوولیوشن نے اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کمیٹی کے مطابق 30 جون 2011ء تک 17وزارتیں صوبوں کو منتقل کی جا چکی تھیں مگر پھر تعلیم‘ صحت‘ خوراک‘ ماحولیات‘ ہاؤسنگ اور سماجی بہبود سمیت متعدد شعبوں کی وزارتیں بحال کر دی گئیں۔ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ صوبوں کے حوالے کیے گئے معاملات پر وزارتیں دوبارہ قائم کرنا اٹھارہویں ترمیم کی خلاف ورزی ہے جس کی بدولت نامکمل صوبائی خودمختاری کی بھاری مالی قیمت چکائی جا رہی ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے مطابق اٹھارہویں ترمیم کے نامکمل نفاذ کے مالی نتائج انتہائی سنگین ہیں کیونکہ وفاقی ڈھانچے کی توسیع نے حکمرانی کی لاگت بڑھا دی ہے جس کی وجہ سے خزانے پر اضافی بوجھ پڑا ہے۔ سینیٹ کمیٹی کے سربراہ کے مطابق اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق کو صرف نو آئینی وزارتوں تک محدود رہنا چاہیے تھا جن میں دفاع‘ خارجہ امور‘ خزانہ‘ تجارت‘ مواصلات‘ بحری امور‘ سائنس و ٹیکنالوجی‘ قانون و انصاف اور امورِ پارلیمانی شامل ہیں۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت اس وقت 31وزارتیں چلا رہی ہے‘ جن میں سے بیشتر صوبوں یا مشترکہ مفادات کونسل سے متعلق امور دیکھتی ہیں۔ ملک کے مجموعی محاصل تقریباً 20ٹریلین روپے جبکہ وفاقی اخراجات 19ٹریلین روپے سالانہ تک پہنچ چکے ہیں۔ اٹھارہویں ترمیم کے مطابق وفاق کے پاس موجود وزارتوں میں سے دفاع کے علاوہ باقی آٹھ وزارتوں کو تقریباً 420ارب روپے سالانہ درکار ہیں‘ لیکن وفاق میں خلافِ آئین وزارتوں کی بھر مار نے اخراجات میں خاصا اضافہ کیا ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے وفاقی اخراجات تقریباً 13ٹریلین روپے سالانہ تک محدود کرنے کی تجویز دی ہے‘ جن میں قرضوں کی ادائیگی کے تقریباً آٹھ ٹریلین روپے شامل ہیں۔ اس تنظیمِ نو سے پانچ سے چھ ٹریلین روپے کی بچت ممکن ہے جس سے قرضوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔کمیٹی کے اس تخمینے سے ماہرین متفق ہوں یا نہ ہوں لیکن یہ سوال سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ ملک میں مالی اصلاحات کی بحث زیادہ تر ٹیکس محاصل بڑھانے اور ترقیاتی اخراجات کم کرنے پر مرکوز رہی جبکہ اس سوال پر کم توجہ دی گئی کہ کیا خود وفاقی ڈھانچہ آئینی خاکے سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہر اضافی وزارت وزرا‘ مشیروں‘ سیکرٹریوں‘ دفاتر‘ رہائش گاہوں‘ عملے اور گاڑیوں کے مستقل اخراجات کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر وفاق میں وزارتیں وہی امور جاری رکھیں جو آئین نے صوبوں کو دیے تھے تو یہ دہرا پن انتظامی اور مالی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے دائرہ اختیار میں آنے والی وزارتوں کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ صنعت‘ پٹرولیم‘ ریلوے‘ منصوبہ بندی‘ شماریات اور واپڈا جیسے شعبے الگ الگ وزارتوں کے بجائے مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے چلائے جانے چاہئیں۔ کمیٹی نے یہ دلیل بھی مستر کر دی کہ بحال شدہ وزارتیں محض اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) کیلئے ہیں کیونکہ یہ معاملات پہلے ہی ICT ڈویژن کے دائرہ اختیار میں ہیں۔
اس بحث کے اثرات آئینی تشریح سے بڑھ کر طرزِ حکمرانی کی روح تک جاتے ہیں۔ 18ویں ترمیم کا بنیادی مقصد وفاق اور صوبوں کے مابین ذمہ داری کی حد بندی تھا۔ جب یہ حدود دھندلا جائیں تو جوابدہی کمزور پڑ جاتی ہے اور عوام فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جوابدہ کون ہے۔ ملک کو تعلیم‘ صحت اور سماجی تحفظ میں سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور حکومتیں مالی تنگی کا حوالہ دے کر ان شعبوں میں محدود سرمایہ کاری کا جواز پیش کرتی ہیں جبکہ دہرے انتظامی ڈھانچوں پر سکولوں اور ہسپتالوں کے حصے کا پیسہ بھی استعمال ہو رہا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتیں فخر سے18ویں ترمیم کا کریڈٹ لیتی ہیں مگر ہر جماعت کی حکومت نے وفاقی ڈھانچے کو انہی شعبوں میں پھیلایا جو پارلیمنٹ نے صوبوں کے حوالے کیے تھے۔ حکومتیں بدلیں‘ وزرائے اعظم بدلے مگر اختیارات سمیٹنے کا رجحان برقرار رہا۔ اسے مضبوط وفاق کیخلاف دلیل نہ سمجھا جائے۔ مضبوط وفاق کا پیمانہ وزارتوں کی تعداد نہیں بلکہ آئین سے وفاداری ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کی کامیابی کا معیار صرف وہ متفقہ ووٹ نہیں ہونا چاہیے جس سے یہ منظور ہوئی تھی۔ اس کی حقیقی کامیابی اس بات میں ہے کہ اسکے آئینی وعدے کو حقیقت میں کس حد تک نافذ کیا گیا ہے۔ آج کل انتظامی امور کو زیادہ مؤثر بنانے اور سہولتیں نچلی سطح تک پہنچانے کیلئے نئے صوبے یا مزید انتظامی اکائیاں قائم کرنے کی بحث بھی زور پکڑ چکی ہے۔ یہ بحث اہم‘ بروقت اور قابلِ غور ہے لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا کیا ہوا‘ جو نہایت نیک نیتی اور بلند مقاصد کے ساتھ منظور کی گئی تھی۔ اگر ایک آئینی اصلاح جس کا بنیادی مقصد اختیارات کو مرکز سے صوبوں تک منتقل کرنا تھا‘ طاقتور مرکز کی ہچکچاہٹ کے باعث مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی تو نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے؟ اصل مسئلہ آئین کی روح کے مطابق اختیارات کی حقیقی منتقلی کا ہے۔ جب تک وفاق اختیارات‘ وسائل اور انتظامی ذمہ داریوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ نچلی سطح تک منتقل کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہوتا اس وقت تک نئی انتظامی تقسیم بھی محض ایک اور تجربہ ثابت ہو سکتی ہے۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ سولہ برس پہلے قوم سے کیا گیا آئینی وعدہ اپنی مکمل روح کے ساتھ پورا کیا جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved