ملک میں گورننس ایک اہم ایشو بن رہی ہے اور سیاسی و معاشی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔اچھی حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو نئے صوبوں کا نعرہ بھی لگتا ہے۔ موجودہ حالات میں گورننس کے عمل کو بنیاد بناتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی بات زور پکڑتی نظر آ رہی ہے۔ اس کا آغاز اسلام آباد میں منعقدہ اکنامک سمٹ کانفرنس میں وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے خطاب سے ہواجنہوں نے موجودہ سسٹم کو بنیاد بناتے ہوئے مسائل کا جائزہ لیا اور کہا کہ موجودہ نظام گر چکا ہے لہٰذا گورننس کو یقینی بنانے کیلئے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے جس کیلئے سیاستدانوں کو مل بیٹھنا چاہیے۔ اس کانفرنس میں دنیا میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے اعداد و شمار کے ساتھ بتایا کہ حکومتوں کا عوام کے قریب نہ ہونا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ ہمارے ہاں آبادی میں مسلسل اضافہ ہوا لیکن اس کے پیدا کردہ مسائل کو حل نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی نئے انتظامی یونٹس قائم ہوئے۔ اکنامک سمٹ کانفرنس میں دیگر مقررین نے بھی اپنے اپنے انداز میں ملک کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے ان کا حل تجویز کیا لیکن اس میں بنیادی بات گورننس کی بنیاد پر صوبوں کی تقسیم کا عمل ہی تھا۔ مذکورہ کانفرنس کے اگلے روز مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ملک میں گورننس کو یقینی بنانے کی بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ مسائل حل نہیں ہو رہے اور گورننس کیلئے کچھ کرنا پڑے گا۔ آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے مگر صوبے وہی چار کے چار ہیں۔ مذکورہ صورتحال میں گورننس اور نئے صوبوں کے مطالبے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ پاکستان کے فیصلہ سازوں کو سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا علم ہے ۔ تاہم بڑی سیاسی جماعتیں فیصلہ اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ کر کریں گی اور اپنے اقتدار میں تقسیم کا عمل انہیں ہضم نہیں ہو پائے گا‘ یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں پارلیمنٹ سے زیادہ عوام سے رجوع کی بات کی جا رہی ہے کہ براہِ راست عوام سے اس حوالے سے کوئی فیصلہ لیا جا ئے۔ واقفانِ حال یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اب فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ پہلے مرحلے میں ترجیح آئینی ترمیم ہو گی اور اطلاعات یہ ہیں کہ اس کیلئے مسودہ تیار ہے اور 28ویں آئینی ترمیم کی بازگزشت بھی سننے میں آ رہی ہے جس میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام‘ ملک کے بعض اہم علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے اور مؤثر بلدیاتی سسٹم سمیت اہم امور شامل ہیں۔ اس حوالے سے گیند سیاسی جماعتوں کی کورٹ میں ہے لیکن اس ضمن میں مطلوبہ نتائج ممکن بنتے نظر نہیں آ رہے ۔( ن) لیگ کی حکومت تو کوئی واضح مؤقف اختیار کرتی نظر نہیں آ رہی البتہ پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے تحفظات ڈھکے چھپے نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اب آئینی ترمیم سے زیادہ توجہ ریفرنڈم کے انعقاد پر ہے اور ریفرنڈم میں نئے صوبوں کی بنیاد گورننس کے عمل کو ہی بنایا جائے گا اور یہ عمل سیاسی مصلحتوں کے بجائے انتظامی ضرورت معاشی قابلیت اور عوام کے مسائل سے مشروط ہوگا۔ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقہ کار دیکھیں تو اس میں اگر کسی صوبہ کی حدود تبدیل کرنامقصود ہوں تو متعلقہ صوبائی اسمبلی کی اکثریت سے منظوری ضروری ہوتی ہے اور پھر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی دوتہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور بڑی سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے نہیں‘ اس لیے کہ مختلف جماعتوں کی اپنی علاقائی اور سیاسی ترجیحات ہیں اور پاکستان کے فیصلہ سازوں کو اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے تحفظات کا علم ہے۔ جہاں تک ریفرنڈم کے انعقاد کا سوال ہے تونئے صوبوں کے قیام کیلئے عوامی ریفرنڈم کو لازمی شرط کے طور پر شامل نہیں کیا گیا البتہ عوامی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم یا کسی اور عوامی مشاورت کی تجویز دی جا سکتی ہے لیکن پھر بھی آئینی ترمیم اور پارلیمانی منظوری ناگزیر رہے گی۔ماضی میں بھی ریفرنڈم کی روایت موجود ہے اور تیاریوں سے بھی لگ رہا ہے کہ آنے والے چند ماہ اس حوالے سے اہم ہوں گے۔
اب تک ہونے والی بحث میں نئے صوبوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی کی مخالفت کھل کر سامنے آئی ہے۔پیپلز پارٹی کا مضبوط گڑھ سندھ ہے اورپارٹی نہیں چاہتی کہ سندھ کی تقسیم ہو اور خصوصاً کراچی نیا صوبہ بنے۔ فی الحال تو ان کے حلقوں میں یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اگر سندھ کی تقسیم پر انہیں حکومت بھی چھوڑنا پڑی تو وہ یہ قربانی دے سکتے ہیں۔وہ نئے صوبوں کو اپنی سیاست سے جوڑتے نظر آ رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کھل کر تو صوبوں کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کررہی لیکن وہ بھی کوئی فیصلہ پیپلزپارٹی کو دیکھ کر ہی کرے گی اور پیپلزپارٹی یہ مؤقف بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے کہ انتظامی اصلاحات‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنے نئے صوبوں کی بحث۔عام رائے یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کا معاملہ انتخابی سیاست کے پس منظر میں اٹھاتی ہیں لیکن عملی پیشرفت کیلئے بین الجماعتی اتفاق ضروری ہے البتہ ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کے قیام کا فیصلہ صرف سیاسی مصلحت کے بجائے انتظامی ضرورت‘ معاشی قابلیت اور گورننس کو یقینی بنانے پر اتفاقِ رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ مذکورہ بحث سے ایک بات تو سامنے آتی ہے کہ نئے صوبوں کی بات گورننس سے مشروط ہے‘ جس کا فقدان ملک میں نظر آ رہا ہے۔ گورننس کا مطلب ایسا نظام حکمرانی ہے جس میں ریاست مؤثر اور شفاف انداز میں عوام کو خدمات فراہم کرے اور خود کو جوابدہ سمجھے اور خصوصاً انصاف کی فراہمی کا عمل نظر آتا ہو۔ قانون سب پر لاگو ہو‘ احتساب غیر جانبدار اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد ہو‘ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بنیادی قومی معاملات پر اتفاقِ رائے ہو تاکہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہے۔ ملک کے اندر بااختیار بلدیاتی سسٹم موجود ہو اور بلدیاتی اداروں کے پاس مالی اور انتظامی اختیارات ہوں تاکہ شہری و دیہی مسائل کا مقامی سطح پر حل یقینی بنے۔ میرٹ کی بالا دستی قائم ہو‘ سرکاری اداروں میں تقرریاں اور ترقی کا عمل سیاسی بنیادوں کے بجائے اہلیت کی بنیاد پر ہو‘ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا عمل واضح نظر آئے‘تعلیم‘ صحت‘ سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی تقسیم ضرورت اور آبادی کی بنیاد پر ہو۔ سرکاری اخراجات اور ترقیاتی منصوبوں اور پالیسیوں کی نگرانی مؤثر ہو اور عوام کو معاملات تک رسائی حاصل ہو ۔ اچھی گورننس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ صرف قانون سازی سے نہیں بلکہ سیاسی استحکام‘ اداروں کے درمیان تعاون اور پالیسیوں کے تسلسل سے ممکن ہوتی ہے اور مضبوط ادارے‘ واضح اختیارات‘ مؤثر مقامی حکومتیں اور پیشہ ور سول سروس بہترین گورننس کی بنیاد ہوتی ہے ۔ مذکورہ مقاصد کے حصول کیلئے مختلف ممالک نے اپنی آبادی اور وسائل کو بنیاد بناتے ہوئے نئے صوبے تشکیل دیے اور نئے صوبوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ انتظامی بوجھ کم کر سکتے ہیں اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ان کا کردار اہم ہوتا ہے۔ پاکستان کی آبادی چار گنا بڑھ گئی لیکن صوبے وہی چار کے چار ہیں۔ البتہ نئے صوبے بنا دینا خود بخود اس گورننس کی ضمانت نہیں۔ اگر ادارے کمزور ہوں‘ احتساب مؤثر نہ ہو اور مقامی حکومتوں کا وجود برداشت نہ کیا جائے تو پھر نئے صوبوں میں بھی وہی مسائل برقرار رہ سکتے ہیں‘لہٰذا قانون کی اہمیت مضبوط اداروں کی ضرورت‘ منصفانہ احتساب اوربا اختیار بلدیاتی نظام پر سیاسی اتفاق رائے ہوتا ہے اور تمام فریق مل کر کام کرنے کو تیار ہوں تو گورننس میں بھی نمایاں بہتری آ سکتی ہے اور ملک سیاسی ‘ معاشی اور انتظامی استحکام سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved