جدید ریاست کا تصور صرف انتخابات تک محدود نہیں بلکہ یہ عوامی بہبود‘ سماجی تحفظ‘ انصاف‘ معاشی خوشحالی‘ سیاسی شراکت‘ تعلیم‘ صحت اور امن و امان پر استوار ہوتی ہے۔ ملکِ عزیز کا المیہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت تو آئی مگر اختیارات کی بادشاہت ختم نہ ہو سکی۔ ہم 79 برس سے بلدیاتی نظام مضبوط بنانے کی بات کر رہے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو سیاسی‘ انتظامی اور مالی اختیارات منتخب بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے کا پابند بناتا ہے مگر کوئی صوبائی حکومت دل سے اپنا اختیار چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ نتیجتاً سڑک‘ صفائی‘ سیوریج‘ پینے کا پانی‘ تجاوزات‘ پارکنگ‘ فائر بریگیڈ‘ مقامی ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری تو ہیں مگر فنڈز بیوروکریسی اور فیصلے صوبائی حکومت کے پاس رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئین میں ایسی ترمیم کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جس سے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا مستقل اور قابلِ عمل راستہ نکل سکے۔ قیامِ پاکستان کے وقت مغربی پاکستان کی آبادی تقریباً تین کروڑ تھی اور یہ چار صوبوں پر مشتمل تھا۔ آج آبادی 25کروڑ کے قریب پہنچ چکی مگر بنیادی انتظامی نقشہ وہی ہے۔ دنیا نے آبادی بڑھنے کیساتھ اپنے گورننس ماڈل بدلے‘ ہم نے نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ذمہ دار کون ہے اور جوابدہی کس سے ہوگی؟ جو سوال اٹھائے‘ اسے جماعتی بائیکاٹ‘ سیاسی تنہائی یا قیادت کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حالات کی سنگینی سرکاری اعداد و شمار میں بھی نمایاں ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق ملک میں پانچ سے 16سال کے 28 فیصد بچے سکول سے باہر ہیں‘ شرحِ خواندگی تقریباً 63 فیصد‘ بے روزگاری 7.1 فیصد اور ایک کارکن کی اوسط ماہانہ اجرت 39 ہزار 42 روپے ہے جبکہ اوسط گھرانے کی ماہانہ آمدن 82179 اور خرچ 79150 روپے ہے۔یہ محض اعداد نہیں بلکہ متوسط طبقے کی معاشی بے بسی کی تصویر ہیں۔
چاروں صوبوں‘ وفاق اور سرکاری اداروں کو ملا کر 2026-27ء کا مجموعی قومی ترقیاتی پروگرام تقریباً تین ہزار 675 ارب روپے بنتا ہے۔ 24کروڑ سے زائد شہریوں پر تقسیم کیا جائے تو یہ سالانہ تقریباً 15 ہزار 200 روپے‘ یا صرف 54 ڈالر فی کس بنتا ہے‘ اور یہ بھی بجٹ میں مختص رقم ہے مکمل خرچ ہونے کی ضمانت نہیں۔ دوسری جانب وفاقی بجٹ میں قرضوں پر سود کی ادائیگی ترقیاتی اخراجات سے کئی گنا زیادہ ہے۔پنجاب کے تقریباً 5.9 ٹریلین روپے کے بجٹ میں پنجاب فنانس کمیشن کے تحت 900 ارب روپے رکھنے کا دعویٰ کیا گیا مگر یہ پوری رقم منتخب بلدیاتی حکومتوں کے آزادانہ تصرف میں نہیں آتی، کیونکہ اس میں ضلعی تنخواہیں‘ انتظامی اخراجات اور صوبائی کنٹرول میں چلنے والی خدمات بھی شامل ہیں۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے ترقیاتی پروگرام کیلئے تقریباً 115.5 ارب روپے رکھے گئے جو مجموعی صوبائی بجٹ کا محض دو فیصد بنتے ہیں۔ اختیار لاہور میں‘ پیسہ بیوروکریسی کے پاس اور جواب دہی مقامی نمائندے سے...یہ نظام آخر کب تک چل سکتا ہے؟
اسی غیرمنصفانہ نظام نے سیاسی قیادت کو بھی چند خاندانوں اور اشرافیہ تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے ہاں لیڈر یونین کونسل‘ شہر اور صوبہ چلا کر قومی سطح تک نہیں پہنچتا بلکہ اکثر طاقتور سرپرستی یا سیاسی وراثت کے ذریعے براہِ راست قومی قیادت میں آ جاتا ہے۔ پائیدار جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی شخص پہلے شہر چلائے‘ پھر صوبے میں کارکردگی دکھائے اور اس کے بعد قومی قیادت کا حق مانگے۔میری معلومات کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے میں 150سے زائد اراکینِ قومی اسمبلی اور 130سے زیادہ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے حکومت کی ایک اہم اور طاقتور شخصیت تک بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنی رائے پہنچائی ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے بعض بااثر اراکین بھی نئے انتظامی یونٹس کے تصور کو اپنے حلقوں اور اپنی سیاسی ترقی کیلئے امید سمجھتے ہیں۔ان کا تعلق دونوں بڑی سیاسی جماعت سے ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بننے سے انہیں اپنے حلقوں میں تعلیم‘ صحت‘ سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کے منصوبے مکمل کرانے کا حقیقی موقع ملے گا۔ بعض نے یہاں تک کہا کہ صرف ایک ضلع یا خاندان نہیں بلکہ پورے ملک کی متوازن ترقی سوچنے والے ہی حقیقی معنوں میں محبِ وطن ہیں‘تاہم ان مبینہ رابطوں کو نظام کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا اشارہ سمجھنا چاہیے۔
پردۂ سیاست کے پیچھے بھی غیرمعمولی سرگرمی کی اطلاعات ہیں۔ میرے ''عقاب‘‘ کے مطابق ایک بڑی جماعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی نشست میں ابتدا میں بھرپور سیاسی مزاحمت کا فیصلہ ہوا۔ چند افراد کو جواب دینے کی ذمہ داری دی گئی اور چند چہیتے صحافیوں کے ذریعے مہم بھی شروع کی گئی مگر بیانات دلیل اور زمینی حقائق سے زیادہ جذباتی ثابت ہوئے‘ جس کا بوجھ قیادت کو اٹھانا پڑا۔بعد ازاں اسی جماعت کے ایک اہم رہنما نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں‘ سیاسی موسم خاصا گرم ہے اور اگر زمینی حقیقت کو تسلیم نہ کیا گیا تو پورا نظام لپیٹے جانے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے آئندہ کے ممکنہ منصوبے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ وہ تو اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے مگر پھر ہمارے کچھ دوست ساتھ نہیں رہیں گے۔ اس بریفنگ کے بعد جوش ٹھنڈا پڑ گیا‘ لہجے محدود ہو گئے اور بعض ہونٹوں پر ٹیپ لگانے کا مشورہ دیا گیا۔ اسی روز شام 5 بج کر 10 منٹ پر دو بڑی شخصیات‘ جن کی لاہور میں رہائش گاہوں کے درمیان تقریباً 9کلومیٹر کا فاصلہ ہے‘ 47 منٹ تک ملاقات میں مصروف رہیں۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ قہقہے‘ چمکتے چہرے اور غیرمعمولی گرم جوشی شاید کسی نئے سیاسی بندوبست ''ری سیٹ پاکستان‘‘ یا مستقبل کے کسی مشترکہ خاکے کا اشارہ تھی۔ شاید یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور 'مرشدِ پاک‘ کیساتھ بھی کھڑے تھے اور رہیں گے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم نے جہاں پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا‘ وہ اس کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے انتظامی یونٹس،نئے صوبے بناکر عوامی مسائل کا حل کریں گے اور عوام کو ان کی دہلیز پر ان کا حق ملے گا اور ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے ۔ تاہم جب تک آئینی مسودہ‘ پارلیمانی حمایت اور سرکاری اعلان سامنے نہ آئے اس ملاقات کو فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور شہباز شریف ہی وزیراعظم رہیں گے۔ نئے انتظامی یونٹس کا منصوبہ جنوری تک کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنے کی خواہش موجود ہے جبکہ کوشش ہے کہ اس کا اہم مرحلہ مارچ تک مکمل کر لیا جائے۔ اگر اتفاقِ رائے نہ بن سکا تو رواں سال اشارہ ضرور مل سکتا ہے جس کے بعد آئندہ موسمِ سرما میں ریفرنڈم کا راستہ زیرِ بحث آ سکتا ہے۔ تاہم آئین میں صوبائی حدود تبدیل کرنے کیلئے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی منظوری سمیت بھاری آئینی تقاضے موجود ہیں‘ اس لیے ریفرنڈم سیاسی دباؤ تو پیدا کر سکتا ہے مگر آئینی ترمیم کا متبادل نہیں بن سکتا۔ نئے صوبے بننے کے بعد بھی فوری عام انتخابات ضروری نہیں ہوں گے۔ باقی مدت میں عبوری انتظام‘ اثاثوں اور ملازمین کی تقسیم‘ نئی اسمبلیوں کے ڈھانچے‘ مالیاتی حصوں اور حلقہ بندیوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔ اس پورے عمل کیلئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا کیونکہ بنیادی انتظامی ڈھانچے پہلے سے موجود ہیں۔ اضافی اخراجات بھی محدود رہیں گے بلکہ اربوں روپے کی بچت ممکن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک سال میں یہ مرحلہ مکمل کیا جا سکتا ہے جس کے بعد آئندہ انتخابات تمام صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس میں نئی حلقہ بندیوں کی بنیاد پر کرائے جا سکتے ہیں۔
دیکھیں‘ اصل مقصد تخت تقسیم کرنا نہیں اختیار تقسیم کرنا ہے۔ عوام کا پیسہ انہی پر خرچ ہو‘ ان کے بچے بہتر تعلیم حاصل کریں‘ انہیں علاج اور صاف پانی میسر آئے اور ان کے نمائندے کسی دربار کی فرمائش کے محتاج نہ ہوں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا جمہوریت صرف پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا نام رہے گی‘ عوام کی حقیقی شراکت سے چلنے والا نظام نہیں بن سکے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved