تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     05-08-2026

دِل اور وقت کا ضیاع

اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو بہت سی نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ ابراہیم کی آیت: 34 میں ارشاد فرماتے ہیں '' اسی نے تمہیں تمہاری منہ مانگی کل چیزوں میں سے دے رکھا ہے اگر تم اللہ کے احسان گننا چاہو تو انہیں پورے گن بھی نہیں سکتے یقینا انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے ‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الرحمن میں متعدد مرتبہ انسانوں اور جنات کو مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا کہ پس تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟ ان نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں کہ جن کے صحیح استعمال کے ساتھ انسان دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کو جمع کرسکتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو دِل جیسی نعمت سے نواز رکھا ہے جو ہمارے احساسات و جذبات کا مجموعہ ہے۔ اگر اس دِل کو فواحش‘ منکرات اور منفی رجحانات سے پاک کرکے للہیت‘ تقویٰ اور انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے احساسات و جذبات کو جمع کیا جائے تو انسان بہت ساری بھلائیوں کو جمع کرسکتا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو وقت کی نعمت سے بھی نواز رکھا ہے۔ اگر انسان وقت کی نعمت کا درست استعمال کرے تو بتدریج دنیا و آخرت کی بہت سی بھلائیوں کو جمع کرنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے دِل اور وقت کی قدر کرنے کے بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ان دو نعمتوں کو ضائع کر بیٹھتے ہیں۔
کتاب و سنت کے مطالعہ اور ائمہ دین کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو عظیم نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچانا ضروری ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ دل کی حفاظت کے حوالے سے سورۃ الاعراف کی آیت: 205 میں ارشاد فرماتے ہیں '' اور غافلوں میں سے مت ہو ‘‘۔ اسی طرح دنیا پرستی سے محفوظ رہنے کیلئے سورۃ الفاطر کی آیت: 5 میں ارشاد ہوا '' اے لوگو! بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے، لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی وہ بڑا دھوکے باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں مبتلا کرے ‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ وقت اور صلاحیتوں کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے سورۃ العصر کی آیات: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں '' زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے‘‘۔
دل کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے :
1۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑ گیا وہ حرام میں جا پڑا، اس چرواہے کی طرح جو شاہی چراگاہ کے قریب اپنے جانور چراتا ہے، قریب ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائیں۔ خبردار! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے، اور سن لو! اللہ کی محفوظ حدود اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو! وہ دل ہے‘‘۔ 2۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا‘ بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی طرف دیکھتا ہے‘‘۔
3۔ صحیح مسلم ہی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : '' ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کیلئے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلمان ( دوسرے ) مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے‘‘۔ اور آپﷺ نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) : '' کسی آدمی کے برا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر (دوسرے ) مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہیں‘‘۔ 4۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپؐ نے فرمایا :'' جنت میں ایسی قومیں ( امتیں ، جماعتیں ) داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے‘‘۔
وقت کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل احادیث سے ہوتا ہے:
1۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت (فارغ وقت)‘‘۔ 2۔ جامع ترمذی میں حضرت ابو برزہ اسلمیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: '' قیامت کے دن بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے یہ سوال نہ کر لیے جائیں: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں گزاری؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کیا عمل کیا؟ اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس کو کہاں کھپایا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا؟ جامع ترمذی کی ایک اور حدیث میں جوانی کے بجائے جسم کا ذکر ہے۔
3۔ جامع ترمذی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو لوگ بھی کسی ایسی مجلس میں بیٹھے جس میں انہوں نے نہ تو اللہ کا ذکر کیا اور نہ ہی اپنے نبی ﷺ پر درود بھیجا، تو وہ مجلس ان کیلئے تِرَہ (یعنی نقصان، حسرت اور وبال) بن جائے گی‘اب اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے‘‘۔ 4۔ مسند احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ''جو لوگ بھی کسی ایسی جگہ (مجلس) میں بیٹھے جس میں انہوں نے نہ تو اللہ عزوجل کا ذکر کیا اور نہ ہی نبیﷺ پر درود بھیجا، تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کیلئے باعثِ حسرت (اور افسوس) ہوگی، اگرچہ وہ ثواب کے نتیجے میں (اپنے دیگر اچھے اعمال کی وجہ سے) جنت میں ہی کیوں نہ داخل ہو جائیں‘‘۔
شیخ عبد الفتاح ابو غدہ نے اپنی کتاب'' قیمۃ الزمن عند العلماء ‘‘ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے: ''مجھے کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا اس دن پر ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے، میری عمر کم ہو جائے اور میرے عمل میں اضافہ نہ ہو‘‘۔امام بغوی نے '' شرح السنہ ‘‘ میں امام حسن بصری رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے: '' میں نے ایسے لوگوں کو پایا جو اپنے وقت کی حفاظت اس سے بھی زیادہ کرتے تھے جتنا تم اپنے درہم و دینار کی کرتے ہو‘‘۔ابن جوزی نے ''الحث علی حفظ العمر‘‘ میں انہی سے ایک اور مشہور قول نقل کیا ہے: '' اے ابنِ آدم! تُو دنوں کا مجموعہ ہے، جب تیرا ایک دن گزر جاتا ہے تو تیرا ایک حصہ چلا جاتا ہے‘‘۔ امام ابن قیم الجوزیہ کی کتاب'' الفوائد‘‘ میں دل اور وقت کے ضیاع کے حوالے سے بہت ہی قابلِ توجہ قول مذکور ہے : ''تمام ضائع ہونے والی چیزوں میں سب سے بڑی دو ہیں، اور ہر ضیاع کی جڑ یہی دو ہیں: دل کا ضائع ہونا اور وقت کا ضائع ہونا۔ دل کا ضائع ہونا دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے ہے، اور وقت کا ضائع ہونا لمبی امیدوں میں پڑنے سے ہے۔ پس سارا فساد خواہشِ نفس کی پیروی اور لمبی امیدوں میں جمع ہو جاتا ہے جبکہ ساری بھلائی ہدایت کی پیروی اور اللہ سے ملاقات کی تیاری میں ہے‘‘۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اپنے دِل اور وقت کی حفاظت کرنے والا بنادے اور ان دو عظیم نعمتوں کو ضائع کرنے سے بچا لے، آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved