تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     06-08-2026

سسٹم، نیا یا پرانا؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ موجودہ نظام اس حد تک کمزور ہو چکا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ دس سال بعد بھی ملک انہی مسائل میں گھرا رہے گا‘ اور یہ کہ ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جیسے ایک نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہو۔ حکومت کے اندر سے بھی ان کے لتے لیے جا رہے ہیں اور اپوزیشن کا تو کام ہی حکومت پر تنقید کرنا ہے۔ کچھ لوگ نئے صوبوں کے قیام کی حمایت میں بول رہے ہیں اور کچھ اس کی مخالفت میں۔ میرے خیال میں وزیر داخلہ نے کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں کی‘ سسٹم کے کمزور ہونے اور ڈِلیور نہ کرنے کی باتیں اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر بحث قبل ازیں بھی کئی بار ہو چکی ہے۔
ملک میں جاری اس بحث میں مجھے دو باتیں سب سے زیادہ اہم معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ نظام شروع سے ناکارہ تھا یا پہلے ٹھیک تھا اور اب ناکارہ ہو چکا ہے۔ اگر یہی حقیقت ہے تو پھر اس نظام کو ناکارہ بنانے کا یا چلا نہ پانے کا ذمہ دار کون ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا اس لیے ضروری ہے کہ جب تک موجودہ نظام کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کر لیا جائے اس وقت تک اسے تیاگنے اور نیا سسٹم وضع کرنے پر کام شروع کرنا کارِ لا حاصل ہو گا۔ غلطیوں کا اندازہ ہو گا تو آئندہ والے نظام کو اسقام سے پاک رکھا جا سکے گا۔ اگلی بات کرنے سے پہلے سسٹم یا نظام کا تعین کر لینا اس بحث کو سمجھنے میں مدد دے گا۔
نظام (سسٹم) ایسا باقاعدہ طریق کار‘ قوانین یا اصولوں کا مجموعہ ہوتا ہے جس کے تحت کوئی فرد‘ افراد کا مجموعہ یعنی معاشرہ‘ ادارہ‘ اداروں کا مجموعہ‘ ملک یا ممالک کا مجموعہ کام کرتا ہے جیسے حکومتی نظام (ملک چلانے اور عوام کے امور کو منظم کرنے کا ڈھانچہ ہوتا ہے جیسے جمہوریت یا دیگر طرزِ حکومت) معاشرتی نظام‘ معاشی نظام (مال و دولت کی پیداوار‘ تقسیم اور تجارت کا طریق کار جیسے سرمایہ دارانہ یا اسلامی معاشی نظام)۔ تمام جانداروں کے اجسام ایک نظام کے تحت ہی زندہ رہتے اور زندگی گزار پاتے ہیں‘ نظم یا یہ سسٹم نہ ہو تو کوئی بھی جاندار زندہ نہ رہے؛ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چیزوں‘ پرزوں یا افراد کو ایک خاص قرینے اور سلسلے میں جوڑنا نظام کہلاتا ہے (انسان کے جسم کے اندر اعضا کا مل کر کام کرنا جیسے نظامِ تنفس یا نظامِ انہضام)۔ زندگی‘ حکومت یا کاروبار کو چلانے کے طے شدہ اصول اور قاعدے ہوتے ہیں۔ یہ کسی کام کو بہتر طریقے سے سر انجام دینے کا بندوبست ہوتا ہے۔ سورج‘ زمین‘ چاند اور ستارے بھی ایک سسٹم کے تحت ہی برقرار ہیں اور مسلسل حرکت میں ہونے کے باوجود منظم ہیں۔ اس سے بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک دوسرے سے اربوں نوری سال کے فاصلے پر گردش کر رہی کائناتیں بھی ایک وسیع تر نظام کے تحت چل رہی ہیں‘ سب سے بڑے نظام کے تحت۔
سابق امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں گیٹزبرگ (Gettysburg) میں اپنے ایک خطاب کے دوران جمہوریت کی تعریف یوں کی تھی کہ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں یعنی عوام کی حکومت‘ عوام کے ذریعے‘ عوام کے لیے۔ عوام کی حکومت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت عوام کی مرضی سے بنتی ہے اور ریاست کا حاکم عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتا ہے۔ قانون سازی اور نظامِ حکومت چلانے کے لیے عوام اپنے نمائندے براہِ راست یا بالواسطہ ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں اور حکومت کی تمام تر پالیسیوں‘ بجٹ اور فیصلوں کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح و بہبود‘ انصاف کی فراہمی اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ اب نظام یا سسٹم کی اس تعریف کو سامنے رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں رائج جمہوری نظام سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو سکی ہیں۔ یہ توقعات پوری ہوئی ہوتیں تو آج ان عوام کے مسائل مکمل طور پر حل ہو چکے ہوتے اور انہیں اپنے معمولی کام کرانے کے لیے در در کے دھکے نہ کھانے پڑ رہے ہوتے۔ یہاں حالات یہ ہیں لاقانونیت ہے‘ ذخیرہ اندوزی ہے‘ ناجائز منافع خوری‘ اقربا پروری ہے‘ ملاوٹ ہے‘ جھوٹ ہے‘ فریب ہے‘ اختیارات کا ناجائز استعمال ہے‘ کرپشن ہے‘ غربت ہے‘ جہالت ہے‘ رشوت ستانی ہے‘ چوری ہے‘ ڈکیتی ہے‘ منشیات کا استعمال ہے اور ناانصافی ہے۔ اور نہیں ہے تو تحفظ نہیں ہے‘ ایمان داری نہیں ہے‘ اعتماد نہیں ہے‘ برداشت نہیں ہے جبکہ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اگر کسی عام آدمی کا بل زیادہ آ جائے یعنی اووربلنگ ہو جائے تو اس کے لیے بل درست کرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے بل ادا کریں‘ اس کے بعد اسے ٹھیک کرانے کے لیے آئیے۔ اگر وہ بل جمع کرانے کے قابل ہوتا تو اس طرح ٹھیک کرانے کے لیے دھکے کھاتا؟ ان ساری چیزوں کے ہوتے ہوئے سسٹم کو کیسے کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے؟ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی کہ چونکہ یہ نظام عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا اس لیے ناکام اور ناکارہ ہے۔ پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے‘ جس میں شہریوں کو ہر طرح کی سہولتیں میسر ہوں۔ جہالت‘ غربت اور ناانصافی کا خاتمہ ہو۔ نیز لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ کیا ہم اپنے ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا پائے ہیں؟
دوسری جانب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو نیا نظام وضع کیا جائے گا وہ ڈِلیور کرے گا؟ کیونکہ اس کا کوئی تجربہ کر کے یہ تو ثابت نہیں کیا گیا کہ یہ ضرور ڈِلیور کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جو نیا نظام وضع کیا جائے وہ پرانے نظام‘ جسے ناکارہ قرار دیا گیا ہے‘ سے بھی زیادہ بیکار ثابت ہو۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پھرکیا ہو گا؟ کیا پھر پہلے والے نظام سے رجوع کیا جائے گا یا پھر کوئی تیسرا آپشن تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی؟ اور اگر وہ بھی ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا؟
میں ذاتی طور پر نئے صوبوں کے قیام کے حق میں ہوں لیکن ضروری ہے کہ صوبوں کی تقسیم سیاسی بنیاد پر نہ ہو بلکہ انتظامی لحاظ سے ہو کہ چھوٹے یونٹس کے معاملات کو سنبھالنا بڑے یونٹس کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ جو بندہ لاڑکانہ میں بیٹھا ہوا ہے اسے اپنے ضروری کام کی غرض سے کراچی جانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے بلکہ اس کے کام مقامی سطح پر ہونے چاہئیں۔ اس کے مسائل مقامی سطح پر حل ہونے چاہئیں۔ اب یہ سوچنا اربابِ بست و کشاد کا کام ہے کہ اس کے لیے موجودہ ناکارہ نظام کو کارآمد بنایا جانا چاہیے اور بلدیاتی اداروں کو فعال بنایا جانا چاہیے یا پھر نئے صوبے ہی اس مسئلے کا حل ہو سکتے ہیں۔ اس پر بحث کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن یہ بے حد ضروری ہے کہ جو بھی بات ہو‘ جو بھی بحث ہو وہ پارلیمنٹ کے اندر ہونی چاہیے کیونکہ ملک میں نئی قانون سازی اور پہلے سے ہو چکی قانون سازی میں ترامیم کا مجاز یہی واحد ریاستی ادارہ ہے۔ پارلیمنٹ سے باہر ہونے والے فیصلے مؤثر ثابت نہیں ہوں گے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved