تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     07-08-2026

کشمیری جماعتیں کہاں گئیں؟

آج کل آزاد جموں وکشمیر میں مرحلہ وار انتخابات ہو رہے ہیں۔ دو مراحل ہو چکے اور ابھی ایک مرحلہ باقی ہے۔ پہلے تو اس مرحلہ واریت کی ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ جنہوں نے یہ منصوبہ بنایا وہ بھی زیادہ تر اس کے فوائد کے بارے میں خاموش ہیں۔ شاید حالات کے پیشِ نظر یہ خدشہ محسوس ہو رہا تھاکہ ایک ساتھ‘ ایک دن ان کا انعقاد مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ وہاں کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا ضروری تھا‘ مگر جن ممالک میں آبادی اور رقبے کی وسعت کی وجہ سے یہ طریقِ کار اپنایا جاتا ہے‘ وہاں انتخابات کے نتائج کا اعلان اُس وقت ہوتا ہے جب تمام مراحل پایہ تکمیل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اُس کیلئے دن مقرر ہوتے ہیں‘ اور اس دوران ان باکسوں کی اس قدر حفاظت کی جاتی ہے جس طرح بڑے خزانوں میں رکھے ہوئے سونے‘ چاندی اور جواہرات کی۔ وہاں لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد ہوتا ہے کہ ان مراحل سے گزرتے ہوئے کوئی رات کے اندھیرے میں ان ڈبوں کی حرمت پامال نہیں کرے گا۔ ہم اپنی انتخابی تاریخ کے بارے میں کیا کہیں کہ چند نامور اور بڑے حکمرانوں کی چالبازیوں اور ہوسِ اقتدار نے انتخابات پر اعتماد پیدا ہی نہیں ہونے دیا۔ اس لیے ہر ہارنے والی پارٹی دھاندلی کا شور مچاتی ہے‘ اور جہاں کہیں اس پارٹی کو موقع ملتا ہے‘ تو وہ خود بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ یہاں ایسی پارٹیوں کی تاریخ اور جغرافیہ کی مثالیں دینا شروع کریں تو بار بار دو موروثی خاندانی سیاسی جماعتوں کا نام آئے گا۔ کون سی پارٹیاں ہیں‘ یہ ہم آپ کی تخیلاتی صلاحیت پر چھوڑتے ہیں۔ اب تو ان پارٹیوں نے بزور طاقت اور وسائل آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی اپنی سلطنتوں میں شامل کر لیا ہے۔ ایک وقت تھا کہ یہ سب کشمیر کے علاقے تھے اور جس میں کبھی مقبوضہ جموں وکشمیر بھی شامل تھا۔
آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں ہمیں کشمیری سیاسی جماعتیں کہیں دکھائی نہیں دیں۔ لاڑکانہ اور رائیونڈ والوں کے ساتھ اب ایک نوزائیدہ پارٹی کا جھنڈا بھی وہاں پہنچا ہوا ہے جس کی وجہ شہرت کبھی کوئی نظریہ‘ سیاست یا سماجی خدمات نہیں رہی۔ سیاست کا جھنڈا ان کے لیے کیوں ضروری ہے‘ اس بارے میں راوی کو خاموش ہی رہنا چاہیے۔ کچھ لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف کی تاریخ کو دیکھ لیتے کہ وہاں کیا ہوا تھا۔ 1980ء کی دہائی سے پہلے وہاں کشمیری راج تھا۔ فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس ذرا کمزور ہوئی تو بجائے اس کے کہ وہ کشمیر کی داخلی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کرتی‘ وہ کانگریس کے ساتھ مل گئی۔ وہ بھی کافی نہیں تھا۔ وہاں دھاندلی کرنا پڑی کیونکہ حریت کانفرنس کا حمایت یافتہ اتحاد جیت رہا تھا۔ وہ دھاندلی پھر مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت اور نئی جدوجہد کی ابتدا بنی‘ اور حالات آج تک وہاں معمول پر نہیں آ سکے۔ جو کچھ ہمارے حصے کے کشمیر یعنی آزاد کشمیر میں گزشتہ چند مہینوں میں ہوا‘ دل میں خوف بڑھ گیا ہے۔ یہاں ایک وقت تھا جب آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس وہاں راج کرتی تھی۔ سردار عبدالقیوم کمال کے آدمی تھے۔ مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا اس وقت اتفاق ہوا جب انہیں اپنے کولمبیا یونیورسٹی (نیویارک) کے سالوں میں وہاں سکالرز اور طلبہ سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔ ایک ایسے مجمع میں جہاں تقریباً سبھی مخالفین تھے‘ دلیل‘ تحمل اور تاریخی حوالوں سے کشمیر کے پُرامن سیاسی حل کی بات کی‘ جو شاید ہی کسی نے اس خوبصورت انداز میں کبھی کی ہو۔ کشمیر کی تاریخ‘ ثقافت اور سیاست پر یوسف بچ صاحب‘ جو پاکستان کے سفیر رہ چکے تھے‘ کو بھی وہاں خطاب کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ کچھ اور بھی ہیں جن کا نام یہاں لینا ضروری نہیں۔ کشمیر کے مسائل کو میں نے کشمیریوں کو ہی دنیا کے سامنے بہتر طریقے سے رکھتے دیکھا ہے۔ جن دو ناموں کا ذکر کیا ہے‘ وہ میرے نزدیک چلتی پھرتی تاریخ اور تحریک تھے۔
امان اللہ خان بھی بہت گہرے‘ سلجھے ہوئے اور کشمیریت کے جذبے سے لبریز رہنما تھے۔ ایک وقت تھا کہ ان کی پارٹی کشمیر لبریشن فرنٹ‘ دونوں جانب دلوں کو گرماتی تھی۔ کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ ان کی آواز بھی دبتی چلی گئی۔ کافی عرصہ خاموش رہے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ عجیب بات ہے کہ ہم ایک طرف تو یومِ استحصال کشمیر منا رہے ہیں اور دوسری طرف آزاد کشمیر کے انتخابات میں کوئی کشمیری جماعت تک نظرنہیں آ رہی۔ اب کشمیریوں کی قیادت بھی دو موروثی خاندانوں نے سنبھال لی ہے‘ جن کے اپنے صوبوں میں‘ جہاں ان کی نصف صدی سے حکومتیں ہیں‘ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ اندرون سندھ میں تو آپ رات کو گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ کراچی میں سڑکیں‘ ہسپتال‘ تجاوزات اور پانی کی فراہمی کی صورت حال دیکھیں تو قحط زدہ افریقی ممالک کا گمان گزرتا ہے۔ تاریخی طور پر کشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں میں تعلیم اور سماجی ترقی ملک کے دیگر حصو ں کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ بہتر ہوتا کہ پورے ملک کی قیادت ایسے ہی ہاتھوں میں ہوتی۔ جب باہر سے ہیرا پھیری‘ دخل اندازی اور سیاسی استحصال ہو گا تو پھر ردعمل بھی آپ نے دیکھ لیا۔ یہ جو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی ہے‘ میرے نزدیک اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کی عوامی کاوش تھی جو کشمیری سیاسی جماعتوں کو کمزور اور پھر معدوم کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا۔ دکھ کی بات ہے کہ تشدد کو روکنے کے لیے سیاسی مکالمہ جاری نہ رہ سکا۔ کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ایسا سیاسی گھائو لگا ہے کہ حالات معمول پر لانے میں شاید بہت وقت لگے۔
میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ مظاہرین کا یہ مطالبہ کہ مہاجرین کی بارہ نشستیں آزاد کشمیر کو لوٹائی جائیں‘ درست ہے۔ اگرچہ طریقہ کار پر بات ہو سکتی ہے‘ جیسے وہاں کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہ کام منتخب اسمبلی ہی کر سکتی ہے‘ کسی ایگزیکٹو آرڈر یا احتجاجوں سے نہیں ہو سکتا۔ قانون ساز اسمبلی کی چوتھائی سیٹیں پنجاب اور سندھ کے حکمرانوں کے پاس چلی گئیں تو آزاد کشمیر میں حکومتیں بنانے اورگرانے میں وہ اپنا ہاتھ کیوں نہیں دکھائیں گے؟ یہی تو وہ کرتے آئے ہیں۔ ایسی جادوگری وہ گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر حصوں خصوصاً بلوچستان میں بھی دکھاتے آئے ہیں۔ آپ بلوچستان کے حالات سے کچھ سیکھ سکتے تھے کہ جہاں موروثیوں کی ہیرا پھیری اور سیاسی خریدو فروخت کو کھلی چھٹی ملی‘ وہاں عشروں تک حالات ٹھیک نہیں ہو سکے۔ کشمیری خود مختاری‘ حقوق اور نمائندگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جب نہ ان کی کوئی سیاسی جماعت سامنے ہے اور نہ کوئی رہنما‘ اور جو دو موروثی سیاسی جماعتوں کا جھنڈ ا لہرا کر وہاں حکومت بنانے کے خواہاں ہیں‘ وہ شاید بگڑے ہوئے حالات کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہارنے (یا ان کے مطابق ہرائی جانے) والی پارٹی دھاندلی اور الٹی گنتی کی تسبیح پڑھ رہی ہے۔ جب دو بڑے سیاسی کھلاڑی آزاد کشمیر میں جا کر اپنی نئی سیاسی جنگ لڑیں گے تو وہاں کشمیریوں کے ذہنوں میں انتخابات کی قدر اور احترام کیا ہو گا۔ آزاد کشمیر‘ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ضرورت تو اس بات کی تھی کہ وہاں کی علاقائی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو ابھرنے کا موقع دیا جاتا اور ان کی رائے اور ووٹ کو بھی عزت ملتی۔ سب کچھ بگاڑ کے ہمارے اہلِ اقتدار کہتے ہیں کہ نظام نہیں چل رہا۔ حضور! یہ کیا فرما رہے ہیں کہ نظام ٹھیک نہیں چل رہا! اس کا پہیہ جام ہو چکا۔ دور جانے کی ضرورت نہیں‘ حکمران اپنے حال احوال پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved