تحریر : کنور دلشاد تاریخ اشاعت     07-08-2026

سسٹم واقعی ناکام ہو چکا؟

'' پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل نہیں کرسکتا‘ ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے سسٹم گرچکا ہے‘ یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد ہی انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے‘ سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے‘‘۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے 30 جولائی کو اکنامک سمٹ میں دیے گئے اس بیان کے بعد سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد‘ دانشوروں حتیٰ کہ حکومتی اراکین کی جانب سے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ملکی تاریخ میں اکثر اوقات ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو بظاہر روزمرہ کی سیاست کا حصہ محسوس ہوتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ ریاستی پالیسی‘ آئینی ارتقا اور قومی مستقبل سے متعلق ایک بڑی بحث میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک میں مزید انتظامی یونٹس بنانے اور موجودہ وفاقی ڈھانچے پر نظرثانی کے حوالے سے سامنے آنے والی آرا بھی اسی نوعیت کی دکھائی دیتی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے اس موضوع کو قومی سطح پر اٹھانا‘ اس کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دینا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی قیادت کی جانب سے اس مؤقف کی حمایت کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ اب محض ایک سیاسی بیان نہیں رہا بلکہ ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ملک کی مختلف سیاسی جماعتیں‘ جو اکثر ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتی ہیں‘ اگر ایک بنیادی انتظامی مسئلے پر یکساں نوعیت کی گفتگو کر رہی ہیں تو اس کے پس منظر اور ممکنہ نتائج کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ کیا یہ صرف بہتر طرزِ حکمرانی کی ضرورت کا اظہار ہے؟ کیا یہ بڑھتی آبادی‘ شہری پھیلاؤ اور انتظامی مشکلات کا اعتراف ہے؟ یا یہ وفاقی ڈھانچے میں مستقبل کی کسی بڑی آئینی اور انتظامی اصلاح کا ابتدائی اشارہ ہے؟یہی وہ سوالات ہیں جو اس بحث کو غیر معمولی بنا دیتے ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی اکائیوں کی بحث نئی نہیں۔ جنوبی پنجاب‘ ہزارہ‘ کراچی‘ پوٹھوہار اور دیگر علاقوں کے حوالے سے مختلف ادوار میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں لیکن یہ مطالبات کبھی بھی ایک جامع قومی انتظامی اصلاحاتی پروگرام کی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ اس مرتبہ فرق یہ ہے کہ بحث صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود نہیں بلکہ پورے وفاقی اور انتظامی نظام کی افادیت‘ گورننس کی صلاحیت اور عوام تک ریاست کی مؤثر رسائی پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ اس بحث کو تاریخی تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے انتظامی ڈھانچے میں مختلف ادوار میں تبدیلی آتی رہی۔ 1955ء میں ون یونٹ کے نفاذ کے ذریعے مغربی پاکستان کی تمام اکائیوں کو ایک انتظامی یونٹ میں ضم کر دیا گیا‘ جسے 1956ء کے دستور میں آئینی ضمانت بھی مل گئی۔ ون یونٹ کی پشت پر مقتدرہ تھی اور تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آئیڈیا 1954ء میں جنرل ایوب خان نے بطور وزیر دفاع پیش کیا تھا‘ جسے 1956ء کے دستور کا حصہ بنا دیا گیا اور اسے وحدتِ پاکستان کے تصور کے طور پر پیش کیا گیا لیکن یہ تجربہ کارگرثابت نہ ہوا۔ صدر ایوب خان کی حکومت کے زوال کے بعد جنرل یحییٰ خان نے مارشل لاء آرڈر کے تحت جولائی 1970ء میں ون یونٹ کا خاتمہ کر کے پنجاب‘ سندھ‘ سرحد اور بلوچستان پر مشتمل موجودہ چار صوبوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ بحال کر دیا۔ اُس وقت ملک کی آبادی چھ سے سات کروڑ تھی جبکہ آج ملک کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی موجودہ صوبائی ڈھانچہ ایک ایسی آبادی کیلئے تشکیل دیا گیا تھا جو آج کی آبادی کے مقابلے میں محض پچیس سے تیس فیصد تھی لیکن گزشتہ نصف صدی کے دوران آبادی میں غیر معمولی اضافے کے باوجود انتظامی ڈھانچے کے بنیادی خدوخال تقریباً وہی ہیں۔
پنجاب آج ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے‘ جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ ہے‘ جو دنیا کے کئی ممالک کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ کیا اتنی بڑی آبادی کو ایک ہی صوبائی حکومت کے ذریعے یکساں مؤثر اور بروقت خدمات فراہم کرنا ممکن ہے؟ کیا جنوبی پنجاب‘ وسطی پنجاب‘ شمالی پنجاب اور خطۂ پوٹھوہار جیسے مختلف جغرافیائی خطوں کی ضروریات کا مؤثر خیال ایک ہی انتظامی ڈھانچہ رکھ سکتا ہے؟ یہ سوال کسی صوبے کی تقسیم یا لسانی سیاست کا نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی‘ انتظامی استعداد اور عوام تک مؤثر رسائی کا ہے۔ اسی طرح سندھ‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی اپنے اپنے مخصوص انتظامی ڈھانچے‘ جغرافیائی اور سماجی چیلنجز رکھتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہری مرکز کے مسائل‘ بلوچستان کا وسیع رقبہ اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی و سرحدی علاقوں کی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ پورے ملک کے انتظامی ڈھانچے کا غیر جانبدارانہ بنیادوں پر ازسرِنو جائزہ لیا جائے۔ تاہم اس پوری بحث کو صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اصل مسئلہ بہتر طرزِ حکمرانی (گڈ گورننس)‘ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی‘ مضبوط بلدیاتی نظام‘ مالیاتی خودمختاری‘ جدید انتظامی ڈھانچے اور جوابدہ ریاستی اداروں کا قیام ہے۔ اگر یہ مقاصد موجودہ ڈھانچے میں جامع اصلاحات کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں تو اس امکان پر بھی سنجیدگی سے غور و خوض ہونا چاہیے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کا زیادہ مؤثر ذریعہ ثابت ہوتے ہیں تو اس امکان کا بھی کھلے ذہن سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ملک نے آئینی اور انتظامی سطح پر کئی اہم اصلاحات متعارف کرائیں‘ جن میں صوبائی خودمختاری میں اضافہ اور اختیارات کی منتقلی بھی شامل ہے۔ تاہم بنیادی سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ تعلیم‘ صحت‘ پینے کے صاف پانی‘ امن و امان اور بنیادی سرکاری خدمات کی فراہمی میں اگر اب بھی نمایاں کمزوریاں موجود ہیں تو مطلب انتظامی ڈھانچے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت اب بھی برقرار ہے۔
اسی طرح یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کسی بھی جدید ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں مالی‘ انتظامی اور قانونی اختیارات سے محروم رہیں تو صرف نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کر دینے سے عوامی مسائل کا مکمل حل ممکن نہیں۔ اس لیے انتظامی اصلاحات کا عمل وفاق‘ صوبوں اور مقامی حکومتوں تینوں سطحوں پر بیک وقت آگے بڑھنا چاہیے۔دنیا کے متعدد وفاقی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی ساخت میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی‘ علاقائی ضروریات اور بہتر طرزِ حکمرانی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہا جا سکے۔اس معاملے کا ایک مضبوط آئینی اور مالیاتی پہلو بھی ہے۔ اگر مستقبل میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی طرف پیشرفت ہوتی ہے تو آئینی ترمیم‘ متعلقہ صوبائی اسمبلیوں کی رائے‘ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ‘ وسائل کی تقسیم‘ سینیٹ میں نمائندگی‘ سرکاری اداروں کی تنظیم اور ترقیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر وسیع قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔ پارلیمنٹ‘ مشترکہ مفادات کونسل‘ آئینی ماہرین‘ انتظامی ماہرین اور پالیسی اداروں کے ذریعے اس پر سنجیدہ غور کیا جانا چاہیے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پارلیمنٹ ایک قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات تشکیل دے جس میں آئینی‘ انتظامی‘ معاشی اور شماریاتی ماہرین‘ سابق سول سرونٹس‘ تمام صوبوں کے نمائندے اور تمام بڑی سیاسی جماعتیں شامل ہوں۔ یہ کمیشن جذبات‘ سیاسی نعروں اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارشات مرتب کرے۔ مضبوط وفاق کا مطلب صرف مضبوط مرکز نہیں ہوتا بلکہ ایسا انتظامی نظام ہوتا ہے جو عوام کے قریب ہو‘ بروقت فیصلے کر سکے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved