پاکستان میں بہت عرصے سے یہ بحث جاری ہے کہ یہاں اب نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس بحث نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور مردوزن‘ بزرگ اور جین زی سبھی اس پر بات کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نئے انتظامی یونٹس واقعی ملک کیلئے کارآمد ہوں گے یا صرف اشرافیہ کیلئے مزید آسودگی‘ طاقت اور عہدوں کا سبب بنیں گے؟
کسی بھی ملک میں ریاستیں اور صوبے مل کر مرکزی حکومت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ملک کا آئین اختیارات اور وسائل کو تقسیم کرتا ہے۔ اس طرح تمام تر امور مل کر آئینی طور پر چلائے جاتے ہیں۔ وفاق‘ صوبے اور ریاستیں اسمبلیوں میں نئے قوانین بناتے ہیں اور پرانے قوانین میں تجدید بھی کرتے ہیں۔ صوبے کا انتظامی سربراہ وزیراعلیٰ ہوتا ہے اور وہاں وفاق کا نمائندہ گورنر ہوتا ہے۔ وفاق اور صوبے ملکی اداروں کے ساتھ مل کر ملکی دفاع‘ امورِ خارجہ‘ تعلیم‘ صحت‘ تجارت‘ لاء اینڈ آرڈر‘ زراعت‘ مقامی ترقی‘ تعمیرات اور دیگر امور کو چلاتے ہیں۔
عالمی سطح پر دیکھا جائے تو فلپائن دنیا میں سب سے زیادہ‘82صوبوں کا حامل ملک ہے۔ اتنے زیادہ صوبے ہونے کی وجہ کیا ہے؟ فلپائن دنیا کا دوسرا بڑا جزیرہ نما ملک ہے جو 7500 سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے۔ فلپائن میں مقامی حکومت کو مضبوط کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ فلپائن کی آبادی 11 کروڑ سے زائد ہے اور انتظامی طور پر وہاں تین تہیں ہیں‘ ان میں 82 صوبے‘ 17 ریجن اور ایک مرکزی حکومت شامل ہے۔ ہر صوبے کا اپنا گورنر‘ بجٹ اور قوانین ہیں۔ صوبوں کو ہر کام کیلئے مرکزی حکومت کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا۔ اس انتظامی تقسیم سے اس جزیرہ نما ملک کو چلانے میں بہت آسانی پیدا ہوئی ہے۔ اسی طرح بھارت کی آبادی تقریباً ایک ارب 47کروڑ ہے اور وہاں کل 36 یونٹ ہیں‘ جن میں 28 ریاستیں اور 8 یونین ٹیریٹریز ہیں۔ راجستھان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی اور گوا سب سے چھوٹی ریاست ہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے اُترپردیش 24 کروڑ آبادی کے ساتھ سب سے بڑی ریاست ہے۔ بھارت میں 1947ء میں 17 صوبے اور 565 شاہی ریاستیں تھیں لیکن آزادی کے بعد تمام شاہی ریاستیں ختم کر دی گئیں۔ اسی طرح روس کی آبادی تقریباً 14کروڑ 30لاکھ ہے اور یہ 89 علاقوں پر مشتمل فیڈریشن ہے۔ چین کی آبادی ایک ارب 41کروڑ ہے اور وہاں 34 انتظامی یونٹس ہیں جن میں 23صوبے‘ چار میونسپلٹیز‘ پانچ خودمختار اور دو خصوصی انتظامی ریجن شامل ہیں۔ جاپان میں 47 اور کینیڈا میں 10 صوبے ہیں۔
پاکستان کی بات کریں تو ملکِ عزیز کی آبادی 24کروڑ سے زائد ہے جبکہ یہاں چار صوبے‘ دو انتظامی ریاستیں اور ایک وفاقی دارالحکومت ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ جبکہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباً 12 کروڑ ہے۔ ملکی آبادی میں ہر سال تقریباً 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا۔ نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان سیاسی طور پر بہت باشعور ہیں اور اپنے حق کیلئے آواز بھی اٹھا رہے ہیں۔ اگرچہ اس وقت ملک میں کئی بحران سر اٹھائے ہوئے ہیں لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ ان کے حل کی طرف بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ ملک کی بدحال معیشت اس وقت سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے۔ اس پر گفت و شنید ہو رہی ہے کہ کیا کیا جائے۔ ایک حل یہ بھی سامنے آیا کہ نئے صوبے بنا کر اختیارات کی مزید تقسیم کر دی جائے‘ شاید یوں حالات بہتری کی طرف گامزن ہوں۔ جب سے وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے‘ سیاسی میدان میں مزید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن میں سمجھتی ہوں کہ فی الحال سیاسی منظرنامہ تبدیل نہیں ہونے والا‘ کیونکہ اگر ایسا ہونا ہوتا تو یہ تبدیلی آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں بھی نظر آتی مگر ایسا نہیں ہوا۔ نتائج وہی آئے جن کی بازگشت تھی۔ تاہم یہ اشارے ضرور مل رہے ہیں کہ کچھ چہرے شاید تبدیل ہو جائیں۔ جب تک ملک میں جمہوریت تسلسل کے ساتھ کام نہیں کرے گی‘ پائیدار حقیقی تبدیلی نہیں آسکتی۔ وزیراعظم کی کرسی جب تک مضبوط اور پائیدار نہیں ہوگی‘ نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی جمہوریت کو اقربا پروری‘ موروثیت اور کرپشن سے پاک کرنا ہوگا۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو ایک سیاسی جماعت کے لیڈران جیل میں ہیں اور اس جماعت کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف حکومت کو ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہے۔ اگرچہ حالیہ کچھ عرصہ میں ملک نے سفارتی سطح پر کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں‘ دنیا میں نام پیدا کیا مگر اس کے ثمرات ملک کی معیشت‘ جمہوریت اور آزادیٔ رائے تک نہیں پہنچے۔ بلوچستان اور آزاد کشمیر میں معاملات کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہیے۔ تاہم حکومت کا دھیان صرف اس جانب ہے کہ کس نے کیا ٹویٹ کیا‘ کس کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے۔ یہ آمرانہ روش کسی طور درست نہیں۔ دنیا کے مہذب ممالک میں معاملات افہام و تفہیم اور مذاکرات سے حل کیے جاتے ہیں۔ اگر ہم ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو گورننس کے فارمولے کو بھی تھوڑا تبدیل کرنا ہوگا۔ سب سے پہلے ہمیں مقامی حکومتوں کو اختیارات دینا ہوں گے۔ بظاہر جمہوری کہلانے والی جماعتیں بار بار مقامی حکومتوں کی راہ میں رکاوٹ کیوں بنتی ہیں؟ ہمیں مقامی حکومتوںاور طلبہ تنظیموں کی اشد ضرورت ہے تاکہ سیاست میں نئے چہرے سامنے آئیں۔ پہلے لیڈرز جامعات میں جنم لیتے تھے‘ مقامی حکومتوں کے ذریعے عوام سے نکل کر نئے لیڈر سامنے آتے تھے‘ اب قحط الرجال ہے۔ ہمیں سب سے پہلے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے جس میں ضلعی کونسل‘ میٹروپولیٹن کارپوریشن‘ تحصیل کونسل‘ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن‘ یونین کونسل اور ویلیج کونسل کو فعال کرنا ضروری ہے۔ مقامی حکومتیں عوام کیلئے براہِ راست کام کرتی ہیں۔ اگر ان کو اختیار اور مناسب بجٹ دیا جائے تو عوام کے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو سکتے ہیں اور نئی قیادت بھی سامنے آ سکتی ہے۔
جو لوگ اس وقت نئے صوبوں کے حامی ہیں‘ ان کے مطابق صرف اصلاحات سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘ نئے صوبے اور انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں۔ نئے صوبوں کے حامی جنوبی پنجاب میں ایک سرائیکی صوبہ دیکھنا چاہتے ہیں‘ کے پی میں ہزارہ صوبہ اور سندھ میں کراچی صوبہ اس وقت سب سے زیادہ زیر بحث ہیں۔ بلوچستان میں بھی مزید صوبے بنانے کی بحث جاری ہے۔ صوبوں کی حمایت کرنے والوں کے مطابق اس حوالے سے پارلیمنٹ سے قرارداد پاس کرانے کے علاوہ صوبوں میں ریفرنڈم بھی ہونا چاہیے تاکہ عوام اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ ناقدین کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قومی خزانے پر محض بوجھ بنیں گے۔ ہر صوبے کو اپنا اپنا بجٹ چاہیے ہوگا۔ نئی قیادت عوام کے بجائے نئے صوبے کا بجٹ مہنگی گاڑیوں یا دفاتر کی تزئین و آرائش پر خرچ نہ کر دے۔ احتساب اور انصاف کا عمل کیسے کام کرے گا؟ دوسرا اس سے لسانیت یا صوبائی تعصب کے ابھرنے کا خطرہ ہے۔ چولستان کینال کے معاملے پر سندھی قوم پرستوں کا شدید ردِعمل اور پیپلز پارٹی کی مخالفت سب کو یاد ہوگی۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم کے نام پر وہ انڈس ڈیلٹا کا ذکر لے آتے ہیں۔ پی پی پی سندھ کی تقسیم کی حامی نہیں۔ اس وقت ضرورت ہے کہ پہلے معیشت کو ٹریک پر لایا جائے۔ اس کے بعد عوام کی ذہن سازی کی جائے اور پھر نئے صوبوں کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ اگر سیاسی عدم استحکام میں کمی آ جائے اور معیشت کا پہیہ چل پڑے تب نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جا سکے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved