اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑی نعمت قیادت کی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمت برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم کی صورت میں عطا فرمائی۔ علامہ اقبال کی درخواست پر جناب محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی تو1929ء میں اہلِ اسلام کے الگ وطن کیلئے 14نکات برطانوی راج کے سامنے پیش کیے۔ برطانیہ اس وقت دنیا کی سپر پاور تھی۔ ان نکات کو منوانے کیلئے قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کو منظم کیا اور ان کی قیادت کی۔ ان کی یکجہتی اور اتحاد کو 'بنیانٌ مرصوص‘ بنایا اور صبرو استقلال کے ساتھ متواتر 18سالہ جدوجہد سے پاکستان حاصل کیا۔ کیسی باکمال قیادت تھی قائداعظم کی کہ ان اٹھارہ سالوں میں‘ پہلے تین سال چھوڑ کر فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کر لیا۔ یوں پندرہ سال متواتر فلسطین کیلئے جدوجہد بھی حضرت قائداعظم کی قیادت کا کمال و جمال ہے۔ اس کے بعد آج تک چھوٹی موٹی غلطیوں سے قطع نظر‘ پاک وطن کی قیادت مجموعی طور پر قائداعظم کے نقش قدم پر چلتی آ رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال حالیہ خلیجی جنگ ہے۔ پاک وطن کی قیادت نے بھرپور کردار ادا کیا‘ عرب قیادت نے پاکستان کی گزارش کو قبولیت دی اور جنگ کے قریب نہ گئے۔ پاک وطن نے ایران اور امریکہ کے درمیان چودہ نکات کی یادداشت تیار کرائی۔ یہ دراصل حضرت قائداعظم کی بصیرت کو خراجِ تحسین تھا کہ اگر امریکہ سمیت تمام فریق ان چودہ نکات پر چلتے رہے‘ تھوڑی بہت کمی بیشی کو برداشت کرتے رہے تو امن کی شاہراہ پر چل پڑیں گے۔ الحمدللہ! امن کی یہ شاہراہ آج بھی اسلام آباد تک رواں دواں ہے۔ یاد رہے! ایران کا اعلیٰ سطحی وفد جب اسلام آباد آیا تھا تو وزیراعظم شہبازشریف نے اپنی چھتری کا سایہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے سر پر کیا تو پیہم عزم یہی تھا کہ چودہ نکات کی لاج خطے کو امن کی خلعت پہنا دے۔ ''سایۂ خدائے ذوالجلال‘‘ ہمارے قومی ترانے کا آخری جملہ ہے۔ پاک وطن اس سائے کی آخری حد تک پاسبانی کرے گا‘ ان شاء اللہ!
1946ء میں سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود حکمران تھے اور شاہ فیصل مرحوم سعودی عرب کے وزیر خارجہ تھے۔ قائداعظم کی ہدایت پر ایم اے اصفہانی کی قیادت میں مسلم لیگ کا وفد امریکہ کے دورے پر گیا۔ ایم اے اصفہانی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے کا موقع نہ ملا تو شاہ فیصل نے نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل میں دنیا بھر کے نمائندوں کو عشائیہ دیا۔ تب ایم اے اصفہانی نے وہاں پاکستان کے وجود کا مقدمہ پیش کیا۔ پاکستان کیلئے یہ بین الاقوامی موقع سعودی عرب نے بنایا اور شاہ فیصل نے قیام پاکستان کی جدوجہد کا سائبان قائداعظم کے وفد کے سر پر پھیلا دیا۔ آج پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سرزمین حرمین کا پاسبان بن کر کھڑا ہے۔ وہ خلیج فارس اور بحر احمر کے خطے کے مسلمانوں کی باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ اگر مسلمان( اللہ نہ کرے) آپس میں لڑ پڑے تو گریٹر اسرائیل کا خواب بیداری کی سرزمین پر سفر شروع کر دے گا۔ پاک وطن اسرائیلی توسیع کے مذموم منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ میں بے ساختہ کہوں گا: اے میرے پاک وطن!تجھ پر سایہ خدائے ذوالجلال سدا رہے اور یہ سایہ خلیجی دنیا کو امن اور اتحاد کا سائبان فراہم کرتا رہے‘ آمین!
غزوۂ احزاب ایسا غزوہ ہے کہ اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ کی اس میں حکمتِ عملی دنیا بھر کے حکمرانوں کیلئے بہترین نمونہ ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے اپنے راز دار اور معتمد خاص حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو حکم دیا کہ مکہ سے آئے لشکر کی خبر لے کر آئیں کہ وہ کس حال میں ہیں؟ ساتھ ہی نصیحت فرمائی کہ انہیں میرے خلاف بھڑکا نہ دینا‘ یعنی کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ وہ بھاگتے ہوئے مشتعل ہو جائیں اور ہم پر چڑھائی کر دیں۔ وہ دس ہزار کا لشکر 25 روزہ ناکام محاصرے کے بعد ایک نئی مصیبت کا شکار ہو چکا تھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہؓ اہلِ مکہ کے لشکر میں گئے۔ لشکری شدید سرد طوفان سے گھبرا کر بھاگ رہے تھے۔ لشکر کے سالار ابوسفیان تھے۔ گھبراہٹ میں وہ اپنے اونٹ کے گھٹنے کی رسی بھی نہ کھول سکے۔ حضرت حذیفہؓ بتاتے ہیں کہ جب ابوسفیان رسی کھولنے لگا تو اس کی کمر میری جانب تھی‘ میں نے تیر کمان میں رکھا اور چلانے ہی لگا تھا کہ حضورﷺ کی نصیحت یاد آ گئی؛ چنانچہ میں رک گیا اور تیر اپنے ترکش میں ڈال لیا۔ پس ثابت ہوا کہ بھاگتے دشمن کو راستہ دینا چاہیے جبکہ وہ طاقتور بھی ہو۔ آج کی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے جنوبی اور شمالی‘ دونوں براعظموں کے ممالک نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ نے بھی ساتھ نہیں دیا۔ ثابت ہوا کہ انسانیت جارحیت نہیں‘ امن چاہتی ہے۔ پاک وطن کی خوبی رہ رہ کر یاد آتی ہے کہ وہ اپنی برتری کے مواقع پر راستے دینے کا کام کرتا چلا آ رہا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ بنیانٌ مرصوص والوں نے شکست دی تو انڈیا بھاگ کھڑا ہوا۔ پاکستان نے اسے بھاگنے دیا۔ ہمارے شاہین چاہتے تو ستر طیارے گرا سکتے تھے مگر سات کے قریب گرا لیے تو اسی پر اکتفا کر لیا کہ انڈیا بھی ایک ایٹمی پاور ہے‘ اسے راستہ دے دو۔
پاکستان اپنی ملٹری قوت کے ساتھ خلیج میں پہلے ہی موجود ہے۔ وہ پاسبانِ حرمین شریفین ہے۔ یہ موجودگی امن کا سائبان ہے۔ چند دن قبل 43 ملکوں کے وفود ریاض میں اکٹھے ہوئے۔ یہ عزم کیا گیا کہ بحر احمر کا آبی راستہ کھلا رہے۔ پاک وطن اس اجتماع میں مصالحت کار ہونے کی حیثیت سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا۔ دنیا بھر کے اہلِ اسلام کی خواہش اور امید ہے کہ پاکستان اسی قسم کا اجتماع خلیج فارس کے دونوں کناروں پر آباد ممالک کا بھی کرائے کہ جس کے ایک جانب ایران ہے اور دوسری جانب سعودی عرب‘ عراق‘ کویت‘ بحرین‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات اور عمان۔ اس کے بعد ان سب کا باہم معاہدہ ہو جائے۔ بحر احمر اور خلیج والے پاک وطن کے سائبان تلے باہم مل جائیں۔ یمن کے سب دھڑے بھی اس کی چھائوں تلے آ جائیں۔ اس کے بعد یہی سائبان جنوبی لبنان اور غزہ پر توجہ مبذول کر لے تو مشرقِ وسطیٰ امن کا علمبردار خطہ بن جائے گا‘ ان شاء اللہ تعالیٰ! پاکستان یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ سارے مبارک کام کر کے امریکہ کو بھی فیس سیونگ دینے کا بندوبست کر لے۔ پاک وطن کی تاریخ ایسے تجربات اور حوصلوں سے بھری پڑی ہے۔ سوویت روس جب افغانستان میں آیا تو چند سالوں میں اس کے تین صدور برزنیف‘ آندروپوف اور چرننکو فوت ہو گئے۔ صدر ضیاء الحق مرحوم سب کی آخری رسومات میں شامل ہوتے رہے‘ حالانکہ وہ ان کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں میں شامل تھے۔روسی فوج کے انخلا کا وقت آیا تو اس انداز سے سرخ آرمی کو رخصت کیا گیا کہ حیرتان کے راستے ترمذ (ازبکستان) جاتی اس فوج پر ایک بھی حملہ نہ ہوا۔
امریکہ نے 20 سال افغان میں لڑتے ہوئے گزارے۔ پاکستان نے دوحہ مذاکرات میں بھرپور کردار ادا کیا؛ چنانچہ معاہدہ طے پا گیا۔ جب امریکی فوج یہاں سے نکلی تو امن کے ساتھ ان کے انخلا کو یقینی بنایا گیا۔ ساتھ ساتھ وہ لوگ جو امریکی فوج کے ساتھ تعاون کر رہے تھے‘ انہیں پاکستان میں ٹھہرایا گیا۔ فتح مکہ کا سبق کابل کے نئے حکمرانوں کو یاد کرایا گیا۔ ایران اور پاکستان باہم پڑوسی ہیں۔ پاکستان اپنے آس پڑوس میں جنگ نہیں چاہتا۔ میرے پاک وطن کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اس کا پُرامن سائبان سب کیلئے میسر بھی ہے اور آسان بھی ہے۔ یہ سائبان اپنے سائے کو وسیع کرتا چلا گیا تو پُرامن انسانیت پکار اٹھے گی کہ امن کا سب سے بڑا عالمی انعام‘ جس کا نام 'نوبیل‘ ہے وہ پاکستان کے ماتھے کا جھومر بننا چاہیے۔ اس کیلئے ہم سب کو اپنے پاک وطن کے استحکام کیلئے 'بنیانٌ مرصوص‘ بننا ہوگا‘ تب ہم کہہ سکیں گے: پاکستان پر سایۂ خدائے ذوالجلال کیوں نہ ہو کہ اس کی اساس '' لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved