سسٹم کیا چیز ہے؟ اس کو چند مشاہدات و تجربات سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1۔ میں ڈیڑھ برس پہلے اسلام آباد کے ایک علاقے میں منتقل ہوا۔ شہر کے مرکز سے یہاں تک پہنچانے والی سڑک زیرِ تعمیر تھی۔ کئی ماہ دھول چاٹی کہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ پھر وہ دن آ گئے۔ ایک شاہراہ اپنی تمام وسعت کے ساتھ ہمارے سامنے تھی۔ دیکھ کر خیال ہوا کہ اس پر بلامبالغہ اربوں روپے خرچ ہوئے ہوں گے۔ اس پر چل کر جی خوش ہوا۔ چند ماہ گزرے تو دیکھا کہ اس کے دونوں اطراف دیوقامت مشینیں کھڑی ہیں۔ معلوم ہوا کہ اب اس راستے پر ایک انڈر پاس بنے گا اور اس کا سبب یہ ہے کہ چند کلومیٹر کی مسافت پہ ایک نئی ہاؤسنگ کالونی بن رہی ہے۔ ایک شاندار سڑک ادھیڑ ڈالی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ آج آٹھ ماہ ہو گئے ہیں اور اس خطے کے مکین مسلسل مٹی پھانک رہے ہیں۔
چونکہ امید پہ دنیا قائم ہے‘ اس لیے گمان ہے کہ ایک ماہ میں سڑک کھل جائے گی؛ اگرچہ اس پروجیکٹ کو مکمل ہونے میں کم از کم آٹھ دس ماہ مزید لگیں گے۔ یہ سوچ کر قدرے سکون ملا کہ 'لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے‘۔ اچھے دن قریب ہیں۔ سکون کے چند سانس لیے تھے کہ دو دن پہلے اعصاب پر ایک نیا بم گرایا گیا۔ اعلان ہوا کہ اب اس راستے پر ایک اور انڈر پاس بنے گا۔ گویا چھ ماہ مزید گاڑیوں کی بربادی اور صحت کی تباہی برداشت کرنا پڑے گی۔ صرف یہی نہیں‘ شہر کی ایک اور سڑک پر چند ماہ پہلے ہی ایک انڈرپاس بنایا گیا تھا۔ اس اعلانِ عام میں بتایا گیا کہ اسی سڑک پہ اب ایک نیا انڈر پاس بنے گا۔ گویا جو لوگ اس علاقے میں رہتے تھے‘ اب ایک نئے امتحان کیلئے تیار ہو جائیں۔ ایک دریا پار کیا اور دوسرا سامنے کھڑا ہے۔ تعمیر کی خواہش اتنی غالب ہے کہ ایک تیسرا منصوبہ بھی ساتھ ہی شروع کیا جا رہاہے۔ یوں راولپنڈی؍ اسلام آباد کے مکین جس طرف سے گزریں گے‘ دھول مٹی ان کا استقبال کرے گی۔
آپ سوچتے ہوں گے کیا شہروں کی تعمیر وتوسیع کیلئے کوئی باضابطہ نظام موجود نہیں؟ کیا کوئی محکمہ ایسا نہیں جہاں آنے والے دنوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر منصوبہ سازی ہوتی ہو؟ کیا مختلف محکموں کے مابین اشتراک کا اس سسٹم میں کوئی ذکر نہیں؟ کیا اس طرح ہم وسائل کا ضیاع نہیں کر رہے؟ اس نوعیت کے بہت سے سوالات مزید ہوں گے جو آپ کے ذہن میں اٹھ رہے ہوں گے۔ آپ ان پر سوچیے‘ میں ایک دوسری مثال کی طرف بڑھتا ہوں۔ یہ میرا مشاہدہ نہیں‘ ایک مصدقہ راوی کی روایت ہے۔
2۔ میرے ایک دوست وکیل ہیں۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے ہی ایک مقدمے میں ساڑھے تین برس سے 'سٹے‘ چل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاملہ معلق ہے۔ اس سے انصاف کا کون سا تقاضا پورا ہوتا ہے‘ میں نہیں جانتا۔ میں البتہ بتا سکتا ہوں کہ 'عالمِ برزخ‘ میں وقت گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ کا کوئی عزیز بیماری میں‘ اس کیفیت سے گزرا ہو کہ زندگی اور موت دونوں بیک وقت اس کی دہلیز پہ کھڑے ہوں تو آپ اس کرب کو بیان نہیں کر سکتے۔ آپ کبھی مرتے ہیں اور کبھی جی اٹھتے ہیں۔ مریض اگر مر جائے تو دکھ کے ساتھ‘ صبر بھی آ جاتا ہے۔ درمیانی کیفیت مگر بہت تکلیف دہ ہو تی ہے۔ مریض کا معلوم نہیں کیا حال ہوتا ہو گا مگر عزیزو اقارب کا حال میں بیان کر سکتا ہوں کہ میں ایک سے زیادہ بار اس صورتِ حال سے گزرا ہوں۔
عدالتوں میں‘ سٹے کے کتنے مقدمات ہوں گے‘ میں نہیں جانتا۔ کچھ تو تاریخی ہیں جن کا تذکرہ قومی پریس میں ہوتا رہا ہے۔ ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ برسوں سٹے چلتے ہیں۔ یہ اس کے علاوہ ہے کہ مقدمات میں تاریخ پر تاریخ پڑتی جاتی ہے اور اس عمل میں کئی سال گزر جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عدالتی سسٹم کی روح کیا ہے؟ فوری انصاف کی فراہمی یا مقدمات کو لٹکانا؟ ہم جانتے ہیں کہ گناہگار کا چھوٹ جانا بہتر ہے‘ اس بات سے کہ کسی بے گناہ کو سزا دی جائے۔ اس کی مگر یہ تعبیر درست نہیں ہو گی کہ اس خوف سے عدالتیں مقدمات کے فیصلے کو مؤخر کرتی چلی جائیں۔ دنیا کی ہر عدالت موجود شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ اس میں غلطی کا اتنا ہی امکان ہے جتنا صحت کا۔ اس لیے یہ مرحلہ تو کبھی آ ہی نہیں سکتا جب اطمینانِ کامل میسر آ جائے۔ فیصلہ علمِ ظن ہی کی اساس پر ہو گا۔ اس لیے فیصلے میں تاخیر کو عدل کا انکار سمجھا جاتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں آپ خود فیصلہ کیجیے کہ سسٹم کیسے چلتا ہے۔
3۔ ایک فائل ایک بڑے افسر کے پاس جاتی ہے۔ اس کا تعلق کسی فرد کے مستقبل کے ساتھ ہے۔ افسر بے پناہ مصروفیت رکھتا ہے۔ کوئی تساہل نہیں‘ نااہلی نہیں۔ معاملہ یہ ہے وہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے کئی دن فائل کو دیکھ نہیں پاتا۔ اس دوران میں متعلقہ آدمی کا مسئلہ گمبھیر ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ بھی فضا میں معلق ہے۔ مثال کے طور پر اس کی ملک سے باہر کسی سفارتخانے میں تعیناتی ہو گئی ہے یا اسے کسی وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کیلئے جانا ہے۔ اس کی پرواز کا دن متعین ہے۔ اسے متعلقہ یونیورسٹی میں ایک خاص تاریخ تک اطلاع کرنی ہے۔ اب افسر صاحب فائل پر منظوری دیں تو وہ اگلا قدم اٹھائے۔ افسر کو فرصت ہی نہیں کہ وہ فائل دیکھے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ اہم قومی مسائل میں مصروف ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سمیسٹر میں داخلے کا وقت گزر جاتا ہے۔ اب اس میں کس کا قصور ہے؟ افسر کو متعلقہ فرد سے کوئی عناد ہے نہ وہ بددیانت یا نااہل ہے۔ اس کے پاس بے شمار کام ہیں اور یہ فائل اس کی ترجیحات میں شامل نہ ہو سکی۔ ذمہ دار کون ہے؟ سسٹم یا فرد؟
یہ واقعات آپ کیلئے نئے نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ سسٹم اسی طرح چلتا ہے۔ بنیادی سوال ایک ہی ہے: مسئلہ سسٹم کے ساتھ ہے یا افراد کے ساتھ؟ ذمہ دار سسٹم ہے یا اس کو چلانے والے؟ اگر لوگ اچھے ہیں مگر سسٹم انہیں اجازت نہیں دیتا کہ وہ دیانت داری سے کام کریں تو پھر سسٹم کو بدلنا چاہیے۔ اس صورت میں یہ بحث اسمبلی میں ہو گی۔ اگر لوگ خراب ہیں تو پھر سسٹم کے بجائے لوگوں کی اصلاح کو ہدف ہونا چاہیے۔ میں نے جو واقعات آپ کے سامنے رکھے‘ یہ کس سمت میں راہنمائی کر رہے ہیں؟ یہ سسٹم کی خرابی بیان کر رہے ہیں یا افراد کی؟ بحث نتیجہ خیز نہیں ہو سکتی ہے‘ اگر اس سوال کا جواب تلاش نہ کر لیا جائے۔
سماج کے اکثر مسائل کے لاینحل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں مسائل کی بنیاد کا علم نہیں ہوتا اور انہیں غلط طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ بچپن میں پڑھی وہ کہانی میں کبھی فراموش نہیں کر پایا جس میں ایک حکیم صاحب نے پیٹ کے درد کیلئے آنکھ میں ڈالنے والی دعا تجویز کی۔ مریض نے دراصل جلی ہوئی روٹی کھا لی تھی‘ جس کے سبب سے اس کے پیٹ میں درد اٹھا۔ حکیم صاحب کی تشخیص یہ تھی کہ اس کی آنکھ درست ہوتی تو اسے جلی ہوئی روٹی دکھائی دے جاتی۔ نہ وہ جلی ہوئی روٹی کھاتا‘ نہ پیٹ میں درد ہوتا۔ اس ملک کو بھی ایسے ہی حکیم کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved