تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں تاریخ اشاعت     08-08-2026

غزہ میں امن بحال ہو گا؟

چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ غزہ میں حماس نے اپنے آپ کو غیر مسلح کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کے حملوں میں کم از کم 73 ہزار 341 فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے‘ مستقل امن کے قیام میں یہ معاملہ سب سے زیادہ متنازع بنا ہوا تھا۔ ستمبر 2025ء میں صدر ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے میں سفارش کی گئی تھی کہ حماس کو غیر مسلح ہونا پڑے گا اور اس کے بدلے اسرائیل کو نہ صرف غزہ میں اپنے حملے روکنا پڑیں گے بلکہ غزہ کے جن علاقوں پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے انہیں بھی خالی کرنا پڑے گا اور صہیونی فوجوں کو واپس جانا پڑے گا۔ لیکن 10 اکتوبر 2025ء کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل کی طرف سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور ٹرمپ امن منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ تاہم اب حماس کی طرف سے غیر مسلح ہونے کے اعلان سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت روکنے کی امید دوبارہ پیدا ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس اعلان کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ سے اپنی افواج کو واپس بلا لے گا۔ مگر اس اعلان کے ساتھ ہی متعدد امریکی اور یورپی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا اور ان تحفظات میں کافی وزن ہے۔ ان کی موجودگی میں حماس کے غیر مسلح ہونے کے باوجود غزہ میں امن کا قیام مشکل نظر آتا ہے۔
اسرائیل کی طرف سے ابھی تک یہ اعلان نہیں کیا گیا کہ وہ غزہ کے تمام مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلا لے گا۔ اس وقت اسرائیل نے غزہ کے 53 فیصد علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ ان علاقوں میں موجود اپنی افواج کو غزہ میں گھس کر حملوں کیلئے استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل نے یہ یقین دہانی بھی نہیں کرائی کہ غیر مسلح ہونے کے بعد حماس کی قیادت کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ نہیں بنائے گا۔ امریکہ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے کی شرط قبول کرتے ہوئے حماس نے اس یقین دہانی کا مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل حماس کے کارکنوں اور رہنماؤں کو ہدف نہیں بنائے گا مگر اسرائیل نے اس یقین دہانی سے انکار کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے حماس اپنے آپ کو غیر مسلح کرے اس کے بعد اسرائیل کے فوجی انخلا پر غور کیا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے گزشتہ آٹھ دہائیوں کے رویے اور خصوصاً غزہ سے متعلق اس کے حالیہ طرزِ عمل نے بداعتمادی کی ایسی دبیز تہیں جما رکھی ہیں کہ کوئی معاہدہ‘ کوئی وعدہ یا کوئی اعلان فلسطینیوں کو اسرائیل پر بھروسہ کرنے پر مائل نہیں کر سکتا۔ غزہ کی موجودہ صورتحال کو دیکھ لیجیے‘ گزشتہ سال 10 اکتوبر کو امریکہ کی مداخلت سے غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا لیکن گزشتہ گیارہ ماہ میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب اسرائیل نے غزہ کے شہریوں کو فضائی یا زمینی حملوں کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک‘ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں سے 1250فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔صدر ٹرمپ نے حماس کے غیر مسلح ہونے پر آمادگی کو غزہ کیلئے اپنے نام نہاد ''امن منصوبے‘‘ کی بڑی فتح قرار دیا ہے لیکن غزہ کو مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں اسرائیلی جارحیت سے الگ تھلگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے حملے‘ فلسطینیوں کے مکانات‘ جائیداوں د اور زمینوں کو ہتھیانے اور بارود سے مکان اڑانے کے واقعات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یوں تو 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مشرقی بیت المقدس کے ساتھ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے مقامی فلسطینی باشندوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا مگر 7 اکتوبر 2023ء کے بعد مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی زندگی اجیرن کر دی گئی ہے۔ یہودی آباد کاروں کو اسرائیلی فوج کی براہ راست مدد حاصل ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ہیومینی ٹیرین آفس (UNHO) کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023ء کے بعد مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے حملوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ روں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ہر ماہ تقریباً 190 حملوں کی اطلاعات ملی ہیں مگر جس رفتار سے ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے خدشہ ہے کہ 2026ء کے آخر تک اسرائیلی فوج کی مدد سے یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں کی تعداد دو ہزار تک ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ 2024ء میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف بیت المقدس کے مشرقی حصے‘ غزہ اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے اور یہاں تعمیر کی جانے والی یہودی بستیوں کو غیر قانونی‘ بین الاقوامی قانون کے منافی اور ناجائز قرار دے چکی ہے لیکن ان علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی غیر قانونی بستیاں نہ صرف قائم ہیں بلکہ اسرائیلی حکومت ان میں متواتر اضافہ کر رہی ہے۔ اس وقت بیت المقدس کے مشرقی حصے میں فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ اور ان کے مکانات کو مسمار کر کے جو یہودی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں‘ ان میں اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر تعمیر ہونے والی بستیوں میں یہودی آباد کاروں کی تعداد سات لاکھ سے زائد ہے۔ واضح رہے‘ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 34 لاکھ ہے۔ 1993ء میں معاہدۂ اوسلو کے تحت مغربی کنارے‘ غزہ اور مشرقی بیت المقدس پر مشتمل ایک علیحدہ اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا مگر اسرائیل کی نیتن یاہو حکومت نہ صرف اس دو ریاستی فارمولے کے مسترد کرنے بلکہ ان علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کر چکی ہے۔ مغربی کنارے میں آباد فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں‘ ان کے مکانوں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کے واقعات اور انہیں ہر قسم کی شہری سہولتوں سے محروم رکھنے کی اسرائیلی کوششوں کا واحد مقصد دو ریاستی حل کو ناکام بنانا اور مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنا ہے تاکہ گریٹر اسرائیل کے مذموم منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔ لبنان کے جنوبی حصے میں اسرائیلی فوج کی مداخلت اور وہاں پر آباد لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا بھی یہی مقصد ہے۔ غزہ کی طرح لبنان میں بھی اسرائیل جنگ بندی کے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اس سال دو مارچ سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہزاروں لبنانی شہید ہو چکے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسرائیل کے حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
غزہ‘ مغربی کنارے اور لبنان کی صورتحال کو سامنے رکھیں تو حماس کے غیر مسلح ہونے سے بھی فلسطین میں امن قائم ہوتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اسرائیل غزہ میں فلسطینی آبادی پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے‘ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں پر حملوں اور ان کے مکانوں کی تباہی کے واقعات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اسرائیل امریکہ کے دباؤ کے ذریعے حماس کو غیر مسلح کرنے کا مقصد تو حاصل کر لے گا مگر غزہ سے اپنی فوجوں کو واپس نہیں بلائے گا کیونکہ نیتن یاہو کابینہ میں شامل انتہا پسند صہیونی اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل واضح کر چکا ہے کہ جنوبی لبنان کی طرح وہ مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر بھی سکیورٹی زون قائم کرے گا اور حماس کے غیر مسلح ہونے کے بعد ان سکیورٹی زونز میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔ اس لیے جو بات زیادہ قرین قیاس ہے وہ یہ کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے باوجود فلسطین میں جنگ جاری رہے گی۔ حماس کی جانب سے اس رعایت کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوگا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved