تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     08-08-2026

نظام کی خرابیوں کا علاج

خاکسار گزشتہ ہفتے لاہور سے باہر اور انٹرنیٹ سے دور تھا۔دور دراز پہاڑی جھونپڑے میں کہیں نہ کہیں سے کانوں میں محسن نقوی صاحب کی موجودہ نظام کے خلاف جاری کردہ چارج شیٹ کی بازگشت سنائی دی۔ واپس لاہور پہنچ کر ان کے گزشتہ جمعرات کو اسلام آباد کی اکنامک سمٹ میں کیے گئے خطاب کو زیادہ تفصیل سے پڑھنے اور سننے کا موقع ملا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کسی لگی لپٹی کے بغیر ببانگِ دہل کہا کہ ہمارا سسٹم گر چکا‘ نئے انتظامی یونٹس بنانا پڑیں گے۔ انہوں نے یہ نشاندہی کی کہ ایک چیز ستر‘ اسّی سال سے نہیں چل رہی‘ اس کے پیچھے کوئی وجہ تو ہوگی۔ وزیراعظم بارہ چودہ گھنٹے کام کر رہے ہیں‘وہ 18گھنٹے بھی کام کریں تو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ لیپ ٹاپ دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نوجوان کہیں یا کاکروچ‘ یہ اکٹھے ہو گئے تو پورا سسٹم اُلٹ دیں گے۔ نقوی صاحب کے بقول سیاستدان مل بیٹھیں۔ یہ بحث ابھی تک جاری تھی کہ پانچ اگست بدھ کے روز وزیر داخلہ نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینی مدت پوری کرے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ کے بیانات بلند آہنگ ضرور ہیں مگر ان میں خاصا ابہام بھی ہے۔ انہوں نے بیماری کی علامات دیکھ کر اپنے تاثرات کا تذکرہ کیا ہے مگر نہ بیماری کی درست تشخیص کی ہے اور نہ ہی علاج کی مرحلہ وار ترتیب بیان کی ہے۔ انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کی تجویز کا تذکرہ کیا ہے ‘لیکن جب تک ہماری سوچ اور اپروچ کا زاویہ نہیں بدلتا اور ہمارے سیاستدانوں کا طرزِ عمل تبدیل نہیں ہوتا اس وقت تک حالات میں خاطر خواہ بہتری نہیں آئے گی۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہم دستوری خطِ مستقیم پر چلنے کے بجائے بار بار راستے سے بھٹک جاتے یا بھٹکا دیے جاتے ہیں۔ منیر نیازی نے کہا تھا: منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؍ کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔
جس ملک میں دستور کے بنیادی تقاضے کے مطابق بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہ کرائے جائیں اور نہ ہی انہیں کام کرنے کا موقع دیا جائے‘ جہاں کے سیاستدان یہ کہیں کہ انہیں اقتدار تو ملا ہے مگر اختیار نہیں‘ جہاں کے ووٹرز یہ کہیں کہ انہوں نے ووٹ ضرور دیے ہیں مگر نتیجہ اُن کے ووٹوں کے مطابق نہیں نکلا‘ وہاں سیاست اور گورننس کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے بغیر بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تقسیم برصغیر کے بعد بھارت نے پہلے تین برسوں میں اپنے قد آور سیاسی قائدین کی موجودگی میں اپنا دستور بنا لیا‘ جاگیرداری نظام کو زرعی زمینوں کی حد بندی کے ذریعے درست کر لیا اور اپنے پارلیمانی و انتظامی سسٹم کو بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر لیا۔ ادھر ہم نے ہزاروں جتن کے ذریعے 1956ء میں متفقہ اسلامی و جمہوری دستور بنایا جس کے تحت 1959ء میں عام انتخابات ہونے تھے لیکن ان انتخابات کے انعقاد سے پہلے ہی جنرل ایوب خان نے 1958ء میں مارشل لاء لگا کر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی۔ پھر یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا رہا۔ جنرل ضیا الحق 1977ء میں برسراقتدار آئے اور انہوں نے 1985ء میں پہلے غیر جماعتی انتخابات کرائے۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف کی آمد ہوئی۔ باقی ساری تاریخ ہم سب کے سامنے ہے۔ اگر نئے صوبے بنا دیے جائیں لیکن ملک کا سیاسی کلچر ویسے کا ویسا رہے‘ یعنی بدستور بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں اور عوام کو ان کا حقِ حکمرانی نہ لوٹایا جائے تو اس صورتحال میں عوام بڑے صوبوں کی غلامی سے نکل کر چھوٹے صوبوں کی محکومی میں آ جائیں گے۔ واقعی عام آدمی کو سہولتیں اور حکومت کے ساتھ رابطہ چاہیے‘ اسے پُرتعیش زندگی نہیں دو وقت کی روکھی سوکھی روٹی اور اپنے بچوں کیلئے تعلیم ہی تو چاہیے۔ اسی طرح سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتیں ناپید ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارا موجودہ نظامِ انصاف داد رسی اور حقدار کو فوری طور پر اس کا حق دلانے کی استعداد سے تقریباً محروم ہو چکا ہے۔ جب لوگ اپنے سیاسی نظام سے بیزار اور نظامِ انصاف سے مایوس ہو جائیں تو پھر اُن کی آس امید دم توڑ جاتی اور ریاست کے ساتھ ان کا رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔وزیر داخلہ کے بیانات سے ایک اچھا پہلو یہ نکلتا ہے کہ اوپر کی سطح پر عوام کے دکھوں کے بارے میں بے خبری نہیں۔ اس وقت آسمان کو چھوتی مہنگائی‘ ٹیکسوں کی بھرمار اور بدامنی سے عوام بہت پریشان ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر سر اٹھا رہی ہے۔ ہماری مشرقی و مغربی سرحدیں پُرامن نہیں‘ ہر لمحے وہاں سے مداخلت اور دراندازی کا خطرہ رہتا ہے۔ وزیر داخلہ صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہمیں موجودہ نظام تبدیل کرنا ہوگا ورنہ مزید دس سال بعد بھی وہی مسائل ہوں گے۔ '' نظام‘‘ سے ان کی کیا مراد ہے؟ اگر ''سیاسی نظام‘‘ سے مراد ہمارے بار بار برسراقتدار آنے والے سیاستدانوں کا اندازِ حکمرانی ہے تو یقینا اس کلچر کو فی الفور تبدیل ہونا چاہیے۔انہوں نے سیاستدانوں کے مل بیٹھنے کی بھی بات کی ہے۔تحریک انصاف بھی گرینڈ ڈائیلاگ پر زور دے رہی ہے‘ مولانا فضل الرحمن نے بھی کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ محمود خان اچکزئی علاقائی یا قومیت کی بنیاد پر نہیں ملکی سطح پر مشترکہ اپوزیشن اجلاس بلائیں۔ اگر وہ اس پر آمادہ نہیں ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیاستدانوں کے مشترکہ اجلاس کی ضرورت ریاستی ادارے ہی نہیں‘ سیاسی جماعتیں بھی محسوس کر رہی ہیں۔ قومی سطح پر تمام سٹیک ہولڈرز ماضی قریب اور ماضی بعید کا جائزہ لیں اور وسیع تر خود احتسابی کے بعد آپس میں طے کریں کہ آئندہ 1973ء کے آئین پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
دوسری اہم بات یہ کہ عوام کو اُن کا حقِ حکمرانی لوٹایا جائے۔ قومی حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلے ہر سطح پر بااختیار بلدیاتی اداروں یا شہری حکومتوں کے فری اینڈ فیئر انتخابات کرائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ آئندہ پاکستان میں جس سطح کا جو بھی الیکشن ہو گا‘ وہ صاف اور شفاف ہو گا۔ میں نے امریکہ کی شہری حکومتوں کی خدمات اور اختیارات کو بچشم خود دیکھا ہے۔ وہاں ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھی سٹی کونسل یا بلدیہ کے چیئرمین کو جوابدہ ہوتی ہے۔ وہاں سٹیٹ یا صوبے شاہراہوں‘ بڑے ہسپتالوں‘ اعلیٰ عدالتوں کے ذریعے انصاف کو گھر گھر پہنچانے اور ہائر ایجوکیشن کے اداروں وغیرہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے ہیں۔مشترکہ اجلاس میں اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنے پر باہمی اتفاق ہونا چاہیے۔ اسی اجلاس میں ''کاکروچوں‘‘ کی تربیت گاہوں یعنی سٹوڈنٹس یونینز کی واپسی کا بھی فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خبروں کو کنٹرول کرنے کے بجائے گڈ گورننس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کیا جانا چاہیے۔ ہم نے عرب دنیا میں وہاں کی حکومتوں کی میڈیا کنٹرول پالیسیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے‘ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں ہمارے حکمران بھی میڈیا کے بارے میں اس راستے پر نہ چل پڑیں۔ اس سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے۔ حال ہی میں حکومت پاکستان نے فارن پریس کے رپورٹروں پر این او سی لینے کی پابندی لگائی ہے۔ اس سے بیرونی اشاعتی و نشریاتی اداروں میں پاکستان کے مثبت امیج ابھرنے کی رفتار مدہم پڑ جائے گی۔مشترکہ خود احتسابی کے قومی اجلاس کیلئے پیش کردہ اقدامات کے بعد وفاقی وزیر داخلہ بسم اللہ کریں اور نئے صوبوں کا تجویز کردہ علاج بروئے کار لائیں۔ البتہ نئے صوبے آئین میں دیے گئے طریق کار کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کی دوتہائی اکثریت سے تشکیل پانے چاہئیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved