مکہ مکرمہ سے خبر آئی کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ان کے قصر الصفا میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اکٹھے ہوئے‘ اور ایک معاہدے پر دستخط کر دیے۔ خانہ کعبہ کے زیر سایہ طے پانے والا یہ ''مکہ دفاعی معاہدہ‘‘ تینوں ملکوں کو یکجان کر دے گا‘ کسی ایک پر بھی کوئی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہو گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور سعودیہ کے درمیان تو دفاعی معاہدہ کب کا ہو چکا تھا‘ وہ یکجان دو قالب تھے ہی‘ اب ترکیہ کا قالب بھی ان کے ساتھ مل گیا ہے۔ اس موقع پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام شعبوں کو مزید وسعت دے کر مضبوط بنایا جائے گا۔ تینوں رہنماؤں نے دستخطوں کے بعد گرم جوشی سے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا‘ اور انتہائی خوشگوار ماحول میں غیررسمی جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دعا کی کہ حرمین شریفین کے سائے تلے طے پانے والا یہ تاریخی معاہدہ آنے والی نسلوں کیلئے امن و استحکام کی ڈھال ثابت ہو۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وزیراعظم کے شانہ بشانہ موجود تھے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار‘ وزیر دفاع خواجہ آصف‘ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی کو بھی اس تاریخی لمحے کا حصہ بننے کی سعادت نصیب ہوئی۔ پُرجوش اور باصلاحیت وزیر اطلاعات نے تو بعدازاں ایک ملی نغمہ بھی جاری کر دیا: ایک اللہ، ایک رسولؐ، ایک قرآن، ایک کلمہ، ایک قبلہ، ایک پہچان... ترکیہ، سعودیہ، پاکستان... ملک بھر میں اس کی گونج سنائی دی یا یہ کہیے کہ درو دیوار اس سے گونج اٹھے۔ اہلِ نظر کو علامہ اقبالؒ بھی یاد آ گئے ؎
مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی
اس میں کوئی شک نہیں کہ پورے پاکستان میں اس پر مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ترکیہ اور سعودی عرب سے بھی ایسی ہی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ تینوں ملکوں کے درمیان مثالی دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں شکست کے بعد سلطنتِ عثمانیہ کا شیرازہ منتشر ہوا۔ فاتحین نے اس بڑی سلطنت کو نسلی‘ لسانی اور اپنی نفسانی ضروریات کے تحت ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تو عالمِ اسلام ناپسندیدہ صورتحال سے دوچار ہو گیا۔ اس کے اثرات اور نتائج اب تک بھگتے جا رہے ہیں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن (پاکستان) حاصل کیا تو بیداری کی ایک نئی لہر شروع ہوئی۔ عالمِ اسلام میں بھی اتحاد کا جذبہ توانا ہوتا گیا۔ ترکیہ نے اپنا اسلامی تشخص بحال کیا‘ سعودی عرب نے اپنے آپ کو منظم اور مستحکم کیا‘ تو پاکستان نے بھی اپنے جوہر آزمانا شروع کر دیے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے قائم ہونے والی ریاست کو ابتدا میں بہت مشکلات سے گزرنا پڑا‘ اس کے باوجود اس نے اپنے آپ کو سنبھالا‘ اور کم و بیش آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد اپنی دفاعی قوت کا لوہا دنیا بھر سے منوا لیا۔ پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ دفاعی پیداوار میں بھی اس نے محیر العقول کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے بھی اپنے آپ کو مسلّح کیا ہے۔ چند ہی ماہ پیشتر بھارتی جارحیت کا جس طرح جواب دیا گیا‘ اس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی دھاک بٹھا دی ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ میں بھی پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں نے کمال کر دکھایا‘ اور عشروں کے دشمنوں کو ایک میز پر لا بٹھایا۔ ترکیہ رجب طیب اردوان کے زیر قیادت ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے۔ اس کی معیشت توانا ہے اور دفاعی پیداوار میں اس کی ترقی روز افزوں ہے۔ سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان کے زیر قیادت تعمیر و ترقی کے نئے سفر کا آغاز کر چکا ہے۔ یہ قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے‘ اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے والے بھی کم نہیں ہیں لیکن یہ حُسنِ تدبیر اور تدبر کی ڈھال کو مضبوط سے مضبوط تر بنا ر ہا ہے۔
تینوں ملکوں کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ نہ صرف تینوں ملکوں کو نیا اعتماد بخشے گا بلکہ ان کے ہمسایہ دوسرے ممالک کو بھی احساسِ تحفظ دے گا۔ اس معاہدے میں شمولیت کے دروازے کھلے ہیں‘ اگر مزید ممالک بھی شریک ہوئے تو یہ ''نیٹو‘‘ کی طرز پر سب کو تحفظ فراہم کر سکے گا۔ نیٹو‘ یورپی ممالک کے مشترکہ دفاع کا نام ہے‘ اسی طرح عالمِ اسلام کے بیشتر ممالک ایک لڑی میں پروئے جا سکتے ہیں۔ ترکیہ کے صدر اردوان نے بجا کہا ہے کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل اور بھارتی نیتاؤں کے ماتھے پر بَل پڑ گئے ہیں‘ اور تو اور ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ بھی بوکھلا گئے ہیں۔ سعودی عرب کو تلقین کر رہے ہیں کہ دفاع مضبوط بنانے کیلئے اپنے آپ کو مضبوط بنانا ہو گا۔ ان حضرت کی تکلیف کا سبب سمجھ میں نہیں آیا کہ اس معاہدے کے دروازے ایران پر بھی کھلے ہیں‘ وہ چاہے تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ اعتماد کے نئے رشتے قائم کر سکتا ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے عزائم اگر جارحانہ نہ ہوں تو انہیں بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں‘ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرنے کیلئے تیار ہوں‘ دوسروں کو جینے کا حق دیں اور اپنی حدود تک اپنے آپ کو محدود کر لیں تو انہیں بھی اطمینان سے سانس لینے کا موقع مل سکتا ہے۔
امید کی جانی چاہیے کہ تینوں ممالک کے درمیان اشتراک معاشی شعبے میں بھی آگے بڑھے گا اور تینوں کیلئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان پر لازم ہے کہ وہ اپنا گھر درست کرے‘ داخلی استحکام کے حصول کیلئے کوشاں ہو اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ''معاشی معرکہ حق‘‘ جیتنے کیلئے قابلِ عمل منصوبے بنائے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سر سہرا باندھیے یا شہباز شریف کے‘ یا دونوں کے سر ملا لیجیے‘ مقامِ شکر یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے سر نہیں آ رہے‘ سر جوڑ کر بیٹھے نظر آتے ہیں۔ صنعتکار اور تاجر فیلڈ مارشل کی طرف دیکھ رہے ہیں‘ وزیراعظم کو آگے بڑھ کر ان کی توجہ حاصل کرنی چاہیے وگرنہ محسن نقوی ایک اور تقریر کر گزریں گے۔
''نیازی برادران‘‘ کی رنجشیں
ایک اچھی بلکہ بہت ہی اچھی خبر یہ ہے کہ جناب حفیظ اللہ نیازی نے جناب عمران خان سے اپنی رنجش کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ عمران خان حفیظ اللہ کے چچا زاد ہیں اور برادرِ نسبتی بھی۔ دونوں کے درمیان گہرے تعلقات رہے ہیں‘ حفیظ اللہ اگرچہ باقاعدہ تحریک انصاف میں شامل نہیں ہوئے لیکن اس کے قیام و انصرام میں ان کا حصہ بہت بڑا تھا۔ جاوید ہاشمی اور شاہ محمود قریشی جیسے جنوں کو اُن ہی نے تحریک انصاف کی بوتل میں بند کیا۔ یہ الگ بات کہ بعدازاں خود ہی اس بوتل کا ڈھکن کھول دیا۔ 2013ء کے انتخابات میں ''نیازی برادران‘‘ یعنی عمران احمد خان نیازی اور حفیظ اللہ خان نیازی میں رنجشیں پیدا ہوئیں تو بڑھتے بڑھتے فاصلوں میں تبدیل ہو گئیں۔ جناب حفیظ‘ حسان خان نیازی کے والد اور نورین خان نیازی کے شوہر ہیں تاہم وہ الگ راستے پر چل نکلے۔ اب جبکہ عمران خان آزمائش میں مبتلا ہیں‘ انہوں نے سفید جھنڈا لہرا دیا ہے۔ اپنی رنجش ختم کر دی ہے۔ یہ ایک قابلِ تقلید مثال ہے‘ اہلِ سیاست کیلئے بھی اور اہلِ اقتدار کیلئے بھی۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا سب کیلئے مفید ہو گا؎
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر‘ رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved