تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     09-08-2026

خطرہ تو پتا چلے کہاں سے

معاہدہ درست ہوا ہے لیکن اتنا تو پوچھا جا سکتا ہے کہ حملے کا خطرہ کہاں سے ہے۔نہ صرف کہاں سے بلکہ کس کو ہے؟ترکیہ کے بارے میں اسرائیل میں باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن کوئی حملے کا خطرہ نہیں۔ اسرائیل تو لگا ہوا ہے خونریزی کرنے غزہ اور لبنان میں۔ ترکیہ کی طرف اُس نے نہیں جانا۔ پاکستان کو خطرات لاحق ہیں لیکن وہ اندرونی ہیں۔شورش ہے لیکن ساری شورش سرحدوں کے بیچ میں ہے۔ باہر سے معاونت ہوتی ہوگی لیکن آگ کے شعلے تو اندرون بھڑک رہے ہیں۔ لہٰذا جن خطرات کا پاکستان کو سامنا ہے اُن سے نمٹنے کیلئے ترکیہ اور سعودی عرب نے ہماری مدد کو نہیں آنا۔ہاں‘ یہاں کچھ امداد کی امید تو ہوگی۔ البتہ خطرات کے حوالے سے رہ جاتا ہے معاملہ سعودی عرب کا۔ اس کو خطرہ کہاں سے ہے اور کس سے ؟
تاریخ پر نظر دوڑائیں تو سمجھ آتی ہے کہ اب تک تو امریکہ محافظِ اعلیٰ سعودی عرب کا بنا ہوا تھا اور شاہ عبدالعزیز سے لے کر اب تک ہمارے برادر سعودیوں نے امریکی حفاظت کو ہی مکمل سمجھا ہوا تھا۔ حفاظت کا بھانڈا تو ایران نے پھوڑا اور وہ بھی اس حالیہ جنگ میں۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے ہوئے‘ حملوں میں امریکی اڈے جو اس خطے میں پھیلے ہوئے ہیں اُن کو استعمال کیا گیا۔ حملوں کے جواب میں ایران نے نہ صرف اسرائیل پر میزائل داغے بلکہ علاقے میں تمام امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور تیل اور دوسرے ٹھکانوں پہ بھی حملے کیے۔ ایران نے لگی لپٹی سے کام نہیں لیا بلکہ واضح کیا کہ خطے کے اڈے ہمارے خلاف استعمال ہوئے تو ہم نے جواب ضرور دینا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر دیا جس سے خلیج فارس سے تیل اور گیس کی ترسیل بند ہو گئی۔ یعنی مسئلے کی جڑ تو امریکی اور اسرائیلی حملے تھے۔ وہ ایران پرنہ ہوتے تو ایران کی طرف سے جوابی کارروائی نہ ہوتی۔ اور برادر عرب ممالک ٹارگٹ نہ بنتے۔لیکن جی سی سی کے کسی ملک نے امریکی اور اسرائیلی حملے کے خلاف آواز نہ اٹھائی۔ نہ یہ کہا کہ ہمارے ملکوں میں امریکی اڈوں کو ایران کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ ایران نے جوابی کارروائی کی تو سارے ممالک تلملا اُٹھے کہ یہ کیا غضب ہو گیا او رایران اس جارحیت کا مرتکب کیوں ہو رہا ہے۔
اب بھی بات کرنے کی تو یہ ہے کہ برادر ملکوں کی طرف سے امریکہ کو کہا جائے کہ حضور آپ کی حفاظت اور آپ کے اڈوں کا بہت شکریہ۔ اب برائے مہربانی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑیے‘ اپنی حفاظت کا بندوبست ہم خود کر لیں گے۔ لیکن عجیب معاملہ ہے کہ امریکہ کی وجہ سے برادر ملکوں کو خطرات لاحق ہوئے لیکن پھر بھی امریکہ سے جان چھڑانے کا ارادہ نہیں بن رہا۔ اس مخمصے کا علاج کیا ہے؟ جب کمزوری ارادوں میں گھر کر جائے تو کون سی دوا کام آ سکتی ہے؟
مطلب تو پھر یہ نکلا کہ کوئی نہ کوئی خطرہ کہیں سے ہے تو ایران سے ہے۔ حوثیوں سے بھی خطرہ ہے جن پر ہاتھ ایران کا ہے۔ لیکن ایران سے کوئی خطرہ ہے تو اسے صحیح سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ ایران کی طرف سے تبھی کچھ ہو سکتا ہے اگر وہ پھر سے حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ بات تو واضح ہے خطے اور پوری دنیا میں کہ ایران کی تنصیبات پر حملہ ہوا تو ایران نے آس پاس حملے کرنے ہیں۔ ضرورت تو پھر اس امر کی ہونی چاہیے کہ سعودی عرب اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے امریکہ کو ہوش مندی کی نصیحت کرے تاکہ امریکہ کی طرف سے کچھ مزید بیوقوفی اور جارحیت سرزد نہ ہو۔ حیرت تو اس بات پر بھی ہونی چاہیے کہ برادر جی سی سی ممالک مل کر امریکہ کو متنبہ کرنے سے گریزاں ہیں کہ جارحیت بہت ہو گئی امریکہ اب اپنے گھوڑوں کو لگام دے تاکہ خلیج فارس کے علاقے میں امن کی بحالی ہو سکے۔ امن تباہ کر نے والا امریکہ لیکن جس انداز سے برادر ملکوں کو امریکہ سے مخاطب ہونا چاہیے ایسا وہ نہیں کر رہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے خود امریکہ میں رائے عامہ کا اکثریتی حصہ نالاں ہو رہا ہے۔ ایران جنگ کی مخالفت امریکہ میں بہت بڑھ چکی ہے۔ پہلی دفعہ یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ جو ہمت مسلم ممالک کو دکھانی چاہیے اُس کے آثار نظر نہیں آتے۔ کچھ کرنا تو دور کی بات ہے مذمتی الفاظ بھی ادا نہیں ہوتے۔ اس کا کیا کیا جائے؟
امریکہ سے حاصل کچھ نہیں ہو رہا۔ امریکہ اپنے اڈوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہاہے۔ اُس نے برادر ملکوں کی حفاظت کیا کرنی ہے۔ مزید براں جیسا کہ خبریں آ رہی ہیں امریکہ کے میزائل شکن ہتھیار کم پڑ رہے ہیں۔ ایران کے خلاف پیٹریاٹ اور ٹوماہاک میزائل کچھ زیادہ ہی استعمال ہو گئے لیکن پھر بھی مقاصد حاصل نہ ہوئے۔ آبنائے ہرمز بدستور ایرانی کنٹرول میں ہے اور جو بات چیت ایران اور عمان کے درمیان ہو رہی ہے اُن سے عندیہ یہ مل رہا ہے کہ کنٹرول ایران اور عمان کے پاس ہی رہے گا۔ اس بات پر بھی سوچ بچار ہو رہی ہے کہ جہازوں سے ٹول لیا جائے یا نہیں۔ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے صدر ٹرمپ غصے سے بھرے جا رہے ہیں لیکن دانت پیسنے کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ انتہا کی بمباری ہو چکی لیکن ایران نہیں جھکا اور صدر ٹرمپ سمجھ نہیں پا رہے کہ ایرانی مزاحمت کا ماجرا کیا ہے۔ امریکہ ایران کشیدگی کم کرنے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا‘ اس سے پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان کے لیے یہ بھی اچھا ہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہو گیا۔ اس سے کچھ امید پیدا ہونی چاہیے کہ معاشی لحاظ سے پاکستان کو کچھ فائدہ پہنچ جائے۔ لیکن جہاں پاکستان بیرونی محاذوں پر اتنا سرگرم عمل نظر آتا ہے کچھ دھیان داخلی حالات پر بھی ہو۔ لگتا تو بہت اچھا ہے جب اچھے سوٹوں میں ملبوس وزیراعظم سعودی ولی عہد اور ترکیہ کے صدر کے ساتھ کھڑے ہوں اور دفاعی معاہدے پر دستخط ہو رہے ہوں لیکن دھڑکتے دلوں کا دھڑکنا بڑھ جاتا ہے جب مغربی صوبوں کی صورتحال پر نظر جاتی ہے۔ کچھ تویہاں مداوا ہو‘ کچھ شورشوں اور خلفشاروں کی شدت میں کمی آئے۔بیرونی ثالثی بہت اچھی لیکن کچھ اندرونی ثالثی بھی ہو جائے۔ گھر میں چین نہیں تو باہر کے چین کو کیا کریں۔
مزید کیا کہیں؟ کھل کے بات کرنا آسان نہیں۔ راہیں مشکل ہو گئی ہیں۔ حالات جو ہیں تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ اب تو جس سے بات کریں پریشانی کا پیغام سننے کو ملتا ہے۔ منزل کیا تھی‘ آنکھوں سے کہاں اوجھل ہوگئی؟ حالات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوگا‘ کون کرے گا؟مسیحا کہاں گُم ہوگئے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved