تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     09-08-2026

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ

مکہ مکرمہ کے الصفا پیلس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی اعلیٰ ترین قیادت کا غیر معمولی اجلاس اورمکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ خطے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب ایردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی اس اعلیٰ سطحی بیٹھک کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی انتہائی حساسیت اور مکمل راز داری تھی۔ روایتی سفارتی برتاؤ کے برعکس اس تاریخی معاہدے کا ایجنڈا اور پیشگی شیڈول ذرائع ابلاغ پر ظاہر نہیں ہونے دیا گیا۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ تینوں ممالک ایک ایسے مضبوط دفاعی بلاک کی بنیاد رکھ رہے تھے جس کے خلاف مخاصم اور بدخواہ عناصر کو قبل از وقت کسی قسم کے دباؤ یا سازش کا موقع نہ مل سکے۔ مکہ دفاعی معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی منظر پر نہیں آئی ہیں تاہم معاہدے کا مرکزی اور اہم پوائنٹ وہ شق ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والے حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ دفاعی اصول خطے میں طاقت کے عدم توازن کو ختم کرنے کیلئے ایک آہنی ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ابھرتے نئے سکیورٹی چیلنجز، امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے تصادم اور اسرائیل کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کے پیش نظر اس معاہدے کی افادیت دوچند ہو جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی حالیہ خونریز جنگوں نے یہ حقیقت عیاں کر دی ہے کہ انفرادی طور پر قائم سکیورٹی ڈھانچے بڑی طاقتوں کے عزائم کا مقابلہ کرنے میں ناکافی ہیں۔ ایران کی اپنے تنازع میں تنہائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف انفرادی قوت پر انحصار کافی نہیں بلکہ ایک مربوط اور قانونی طور پر پابند دفاعی اتحاد ناگزیر ہے۔
سہ فریقی اتحاد محض وقتی اقدام نہیں ہے بلکہ مسلم دنیا کی نمایاں طاقتور ترین ملٹری، ٹیکنالوجیکل اور مالیاتی صلاحیتوں کا ایک وسیع تر اتحاد ہے۔ ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی فوج کا حامل ملک ہے جو اپنی 80فیصد دفاعی ضروریات خود تیار کرتا ہے۔ ترکیہ کے ڈرونز، فضائی ٹیکنالوجی اور بحری جہاز سازی کی صنعت نے اسے عالمی دفاعی مارکیٹ میں ایک اہم قوت بنا دیا ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی واحد جوہری طاقت اور تجربہ کار عسکری فورس رکھتا ہے۔ مئی 2025ء میں بھارت کے خلاف پاکستان کی تاریخی فتح کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ جنگوں میں بالعموم فریقین اپنی مرضی کے دعوے کرتے ہیں اور ہر فریق اپنی فتح کا دعویدار ہوتا ہے مگر مئی 2025 ء کی جنگ میں واحد فاتح پاکستان تھا جس کے شواہد انٹرنیشنل اور غیر جانبدار میڈیا نے دنیا کے سامنے رکھے۔ بھارت کے جدید رافیل طیارے پاکستان نے گرائے‘ مگر امریکی صدر ٹرمپ کئی بار بھارت پر طنز کر چکے ہیں کیا اس سے بڑھ کر پاکستان کی پذیرائی اور بھارت کی رسوائی کی مثال ہو سکتی ہے؟ پاکستان کی مسلح افواج نے دہائیوں سے خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کو تربیتی، تکنیکی اور دفاعی مشاورت فراہم کی ہے جبکہ سعودی عرب خلیج کا سب سے طاقتور ملک، حرمین شریفین کا پاسبان اور عالمی سطح پر ایندھن کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ سعودی عرب اس اتحاد کو وہ معاشی استحکام اور تکنیکی سرمایہ کاری فراہم کر سکتا ہے جو جدید دفاعی صنعتوں کیلئے ناگزیر ہوتی ہے۔
2023ء میں ریاض اور انقرہ کے درمیان ترک ڈرونز کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا معاہدہ اور پاکستان کا تکنیکی تعاون اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان ممالک کا آپسی دفاعی اتحاد عملًا کئی برسوں سے پروان چڑھ رہا تھا جسے اب مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کی صورت میں قانونی و روایتی ڈھانچے میں ڈھال دیا گیا ہے۔ اس سہ فریقی بلاک کی تشکیل سے تل ابیب سے لے کر واشنگٹن تک سفارتی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی قیادت بالخصوص بنیامین نیتن یاہو ماضی میں بھی مسلم بلاک کے قیام کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے جدید ترینF-35 سٹیلتھ طیاروں کی خریداری پر اسرائیل کے تحفظات اور اس کے خلاف لابنگ اسی خوف کا مظہر تھی۔ تاہم امریکی صدر ٹرمپ کا یہ ردِعمل کہ ''کوئی ہمیں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمیں کیا بیچنا ہے‘‘۔ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اپنے قومی و معاشی مفادات کو اسرائیل کے یکطرفہ مطالبات پر ترجیح دے رہا ہے۔پاکستان اور ترکیہ دونوں امریکہ کے روایتی اتحادی ہیں اور اس کے باوجود اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے سخت ترین نقاد ہیں۔ سعودی عرب کا اسرائیل سے متعلق مؤقف بھی واضح اور اصولی ہے۔ اس پس منظر میں یہ اتحاد امریکہ کو بھی باور کراتا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے محض ایک ریاست کی سرپرستی کے بجائے متوازن دفاعی طاقتوں کو تسلیم کرنا ہو گا۔
مکہ دفاعی معاہدہ صرف جنگوں کے خطرات یا طاقت کے مظاہرے تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک اہم پہلو عالمی امن اور مصالحت کاری ہے۔ پاکستان اور ترکیہ نے حالیہ بحرانوں میں جس سفارت کاری کا مظاہرہ کیا عالمی برادری اس کی معترف ہے۔ امریکہ ‘ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔ اسی طرح غزہ بحران کے حل اور فائر بندی کیلئے ترکیہ کا کلیدی کردار مسلم دنیا میں اس کی حیثیت کو مستحکم کر چکا ہے۔ یہ اتحاد دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی ایک بلاک کے طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے عالمی طاقتیں ان کے اجتماعی مؤقف کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوب ایشیائی خطے میں طاقت کا ایک نیا توازن جنم لے رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنگوں کیلئے نہیں بلکہ جنگ کو روکنے کیلئے مؤثر ذریعہ بنے گا۔ اسرائیل جیسے جارحانہ اور توسیع پسند ممالک اب کمزور بستیوں کو اجاڑنے سے پہلے سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں کے مطابق جب ممکنہ جارح کو یہ معلوم ہو کہ اس کا مقابلہ انفرادی ریاست کے بجائے ایک ایٹمی، ٹیکنالوجیکل اور معاشی طور پر مستحکم بلاک سے ہو گا تو وہ پیش قدمی سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس معاہدے کے دور رس معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی پیداوار کی مشترکہ ترسیل‘ مشترکہ فوجی مشقوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے اربوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بچایا جا سکے گا۔ اس سے خلیج اور ایشیا کے درمیان معاشی راہداریوں کو سکیورٹی کی ضمانت ملے گی جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ دورِ حاضر میں مسلم دنیا کی جیوسٹریٹجک اور سکیورٹی حکمت عملی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ اتحاد اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ دفاعی اور معاشی خود انحصاری کے بغیر عالمی نقشے پر اپنی خودمختاری کا تحفظ ممکن نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں تناؤ اور کشیدگی کے نئے باب کھل سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتحاد طاقت اور امن دونوں کی علامت ہوتا ہے۔ یہ پیش بندی خطے کو درپیش غیر متوقع خطرات اور توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے ایک ناقابل تسخیر دیوار ثابت ہو گی اوراس اتحاد سے خطے میں پائیدار امن و استحکام کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved