چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کی وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی الٹی گنتی کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اگلے روز یہ تک کہا کہ یہ نظام ناکام نہیں تھا، اسے ناکام بنایا گیا ہے، (ن) لیگ کا ایک خاص حصہ ایسا ہے جو اپنی ہی جماعت کے منصوبے ناکام بناتا ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ اکتوبر تک تمام سیاسی جماعتوں کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ اب کس کی الٹی گنتی شروع ہوتی ہے اور کس کی نہیں، یہ تو وقت آنے پر ہی پتا چلے گا، فی الحال میں ایک فلسفے کی بات کرنے لگا ہوں۔
یک خلوی جانداروں سے لے کر کثیر خلوی جانوروں تک زندگی کا متنوع دیدہ و نادیدہ جو بھی میلہ لگا ہوا ہے اسے ایک روز ختم ہونا ہے۔ اس حقیقت کو پروردگارِ عالم نے ایک آیت میں بیان کر دیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے: ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے۔ یہ آیت بیان کرتی ہے کہ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان جہنم کی آگ سے بچے، جنت میں داخل ہو جہاں موت کا کوئی عمل دخل نہیں اور جہاں ایک ابدی زندگی نیکو کاروں کی منتظر ہے۔ یہ آیت یاد دہانی کراتی ہے کہ موت کے بعد سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، مستقل زندگی آخرت کی ہے جہاں اعمال کا پورا بدلہ ملے گا۔ اس آیت مبارکہ کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ ہر ذی روح کی الٹی گنتی اس کی پیدائش کے بعد پہلے لمحے سے شروع ہو جاتی ہے۔ اگر کسی ذی روح کی زندگی سو سال ہے تو پہلے گھنٹے میں اس سو سالہ زندگی کا کاؤنٹ ڈاؤن ایک گھنٹہ کم ہو جاتا ہے۔ لوگ سالگرہیں مناتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں مناتے ہیں۔ ایک سال گزرنے کا مطلب تو زندگی کی میعاد میں سے ایک سال کا کم ہو جانا ہوتا ہے۔ لوگ پھر بھی خوشی مناتے ہیں۔ کیا زندگی، چاہے وہ سو سال کی ہی کیوں نہ ہو، میں سے ایک سال کم ہو جانا خوشی کی بات ہے؟
جہاں تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اتحادی حکومت کا تعلق ہے تو اس کے قیام کے فوراً بعد سے ہی یہ کہا جانے لگا تھا کہ یہ حکومت چند ہفتوں یا مہینوں میں ختم ہو جائے گی۔ اپوزیشن کی جانب سے، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر شائع اور نشر ہونے والے بیانات میں اور سوشل میڈیا پر ریلزاور وی لاگز کی صورت میں یہ پیش گوئیاں شروع ہو گئیں کہ یہ حکومت اتنے دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ پیش گوئیوں کی مدت کبھی 90دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی ایک سال طے کی جاتی رہی لیکن پھر ہوتا یہ تھا کہ وہ مدت ختم ہو جاتی رہی اور وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت قائم رہی، جو اَب تک قائم ہے۔ علاوہ ازیں ہر بار جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین سیاسی معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے تو ٹاک شوز میں سوال اٹھایا اور دہرایا جاتا رہا کہ کیا یہ اختلافات اتحادی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں؟ جب پیش گوئی کی ایک مدت گزر جاتی تو توقعات باندھنے والے نئی مدت کی پیش گوئی کر دیتے رہے لیکن یہ سب کچھ اپوزیشن کی جانب سے کیا جاتا رہا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت کی ایک اتحادی جماعت کی جانب سے دوسری اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے لیے الٹی گنتی شروع ہونے کی بات کی گئی ہے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اتحادی حکومت کے خاتمے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی، پھر بھی ان کے سخت بیانات سے کاؤنٹ ڈاؤن کے آغاز کا تاثر ضرور پیدا ہو رہا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا جلد یا بدیر حکومت کا واقعی خاتمہ ہو جائے گا۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد کیا ہو گا؟ آیا نئے انتخابات کرائے جائیں گے یا تحریک عدم اعتماد لا کر اپوزیشن کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی جیسا کہ 2022ء میں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ کیا گیا تھا؟ اڑھائی سال پہلے جب اتحادی حکومت بنی تو ایک تھیوری یہ پیش کی گئی تھی کہ اتحادی حکومت کی دونوں بڑی پارٹیاں آدھی آدھی مدت اقتدار سنبھالیں گی یعنی اڑھائی سال مسلم لیگ (ن) اور باقی اڑھائی سال پیپلز پارٹی، اسی لیے پیپلز پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کے باوجود حکومتی عہدے قبول نہیں کیے تھے۔ یہ تھیوری کتنی درست ہے ابھی اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
اس الٹی گنتی کے بیان کے بعد یہ سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا اب اتحادی حکومت کی دوسری پارٹی اقتدار کے مزے لینے والی ہے؟ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اہم اتحادی نے وزیر اعظم کو دھاندلی زدہ قرار دے دیا ہے، ویسے بھی وزیر داخلہ نے سسٹم کے ناکارہ ہونے کا بیان دیا ہے، ایسے میں وزیر اعظم شہباز شریف اعتماد کا ووٹ کھو چکے ہیں، وہ دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیں یا پھر سسٹم لپیٹ دیں اور نئے الیکشن کی طرف جایا جائے۔ کیا آنے والے وقت میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ شدت اختیار کرنے والا ہے؟
یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ الٹی گنتی کس کی شروع ہوئی ہے؟ حکومت کی یا اپوزیشن کی؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ الٹی گنتی کس تناظر میں شروع ہو چکی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے تو یہ کہا ہے کہ الٹی گنتی والے خود بھی سیدھے ہو جائیں گے اور ان کی گنتی بھی سیدھی ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی وفاق میں اسی تنخواہ پر کام کرے گی۔ یعنی وہی بات کہ کچھ بھی نہیں ہونے والا، اتحادی حکومت کے معاملات اگر اڑھائی سال ٹھیک رہے ہیں تو آئندہ بھی ٹھیک ہی رہیں گے۔ایک بنی بنائی حکومت کو کیسے اٹھا کر ایک طرف رکھا جا سکتا ہے۔ اور ایک اہم سوال یہ ہے کہ نئے صوبے بنانے کی خاطر اتنی بڑی تبدیلی لائی جائے گی؟ ان سوالات کے جواب بھی وقت آنے پر ملیں گے۔ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ہر ذی روح کی پیدائش کے بعد اس کی زندگی کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے، اسی طرح برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت کی بھی ایک میعاد ہوتی ہے اور حکومت کے قائم ہونے کے ساتھ ہی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے کہ حکومت نے پانچ برس ہی رہنا ہوتا ہے۔ جانا تو سب نے ہی ہے، جلد یا بدیر۔ تو اگر جانا ہی ہے تو اس پر پریشان ہونے والی کیا بات ہے۔ جو نئی حکومت آئے گی اس کے جانے کا وقت بھی طے ہو چکا ہو گا کہ الٹی گنتی ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کاؤنٹ ڈاؤن سب کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کاؤنٹ ڈاؤن کی ٹک ٹک کسی کو سنائی نہیں دیتی۔ اسی لیے پتا بھی نہیں چلتا اور وقتِ رخصت آ جاتا ہے۔ جس طرح ایک دن سب کی ٹک ٹک ختم ہو جانی ہے، اسی طرح چائے کی پیالی میں اٹھنے والا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے مابین اختلافات کا یہ طوفان بھی خود بخود تھم جائے گا۔ خاطر جمع رکھیں!
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved