جمود فطرت کو پسند نہیں کہ یہ اس کی روح کی نفی ہے۔ ہم کاشتکار لوگوں کو درختوں‘ پودوں اور فصلوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع نصیب ہوتا رہتا ہے۔ ایک ہی زمین‘ ایک ہی موسم اور ایک ہی نوع کی فصل کے نتائج مختلف دیکھنے میں آتے ہیں۔ بوجوہ جہاں کہیں نشوونما رک جائے‘ مٹی میں قدرتی نم ہو لیکن کاشتکار غافل ہو جائے تو کشتِ ویران اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ انسانوں میں بھی ایسا ہی دیکھا ہے۔ جامعات کی طویل زندگی میں ہماری کشت نوجوان تھے۔ سب کا ماحول اور پسِ منظر ایک جیسا تو نہ تھا مگر جب انہیں یکساں مواقع ملے تو سب کے جوہر کھلے۔ کچھ نے اس طرح جلدی بال و پَر نکالے اور محوِ پرواز ہوئے کہ کرشموں کا گمان ہونے لگا۔ ہزاروں زندگیاں بدلتے‘ سنورتے دیکھیں۔ شرط صرف یہ تھی کہ سب کو برابر اور یکساں مواقع میسر آئے۔ وہ سنہری دور تو ہمارے جامعہ پنجاب میں بیتے سالوں کا تھا کہ اکثریت وہاں تعلیم حاصل کرتی تھی۔ دیگر مشہور و معروف کالج بھی تھے جن میں ایک کالج جو لاہور مال روڈ پر آج بھی اپنی مثال آپ ہے‘ مگر آج اُس طرح محض حکمران طبقے کے لیے مخصوص نہیں جس طرح انگریزوں کے دور میں تھا۔ اب وہاں متوسط طبقے کے بچے بھی داخل ہوتے ہیں۔ ہزاروں ایسی مثالیں دنیا میں موجود ہیں کہ جب مختلف سماجی اور معاشی پس منظر کے بچوں کو یکساں‘ ایک جیسی تعلیم دی گئی تو سب کی خوابیدہ صلاحیتوں کو جِلا ملی۔ انسان ذاتی طور پر خوابوں‘ امنگوں‘ لگن اور محنت سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اگر کہیں وہ جذبہ اور تحریک ماند پڑ جائے تو پھر جمود‘ زوال اور شکست کے علاوہ کچھ حصے میں نہیں آتا۔ معاشروں اور آج کی ریاستوں کا حال بھی کوئی مختلف نہیں۔دنیا میں زیادہ تر ایسے ممالک ہیں جہاں انتہائی محدود اقلیتوں نے وسائل اپنے ہاتھ میں لے کر ان پر قبضہ جما رکھا ہے۔ ان میں انقلابیوں سے لے کر خاندانی بادشاہتوں اور ہر نوع کے آمروں کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔ اقتدار کا گھوڑا ہی ایسا ہے کہ ایک دفعہ کوئی اس پر سوار ہو جائے تو اس سے اترنا ایسے حکمرانوں کو خوف میں مبتلا رکھتا ہے۔ اگر کوئی متفقہ طریقہ کار موجود نہ ہو یا اس بارے میں ہیرا پھیری ہوتی ہو تو گرانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا۔ بات صرف شخصی حکومتوں کی نہیں آج بھی دنیا میں ایسے نظاموں کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے حکمران طبقات اپنے درمیان سمجھوتے‘ معاہدے اور اتحاد قائم کرتے ہیں۔ حکمران اگر صرف بالا طبقات سے ہی اوپر آتے رہیں تو سمجھیں اُس معاشرے کی جان اور جسم جمود کے جنوں کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ دوسرے لوگ صرف مزاحمت کی شاعری‘ انقلابی نعروں اور ادھر اُدھر کی سماجی تحریک چلا کر گزارہ کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح معاشروں کا تخلیقی عمل رک جاتا ہے اور اہل قیادت کے امکانات بھی مسدود ہو جاتے ہیں۔ میرے ذہن میں کوئی ایک ملک نہیں بلکہ سامنے خصوصاً مسلم ممالک کی جدید تاریخ کے اوراق کھلے ہوئے ہیں۔ ملائیشیا سے لے کر مراکش تک پھیلی سب مسلم آبادیوں اور معاشروں میں مجموعی طور پر عدم اطمینان اور کشمکش کی کیفیت نظر آتی ہے۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد ترقی‘ خوشحالی اور قومی طاقت کے حصول کی جو امیدیں باندھی تھیں وہ صرف ایک مخصوص طبقے کے مفادات کی نذر ہو گئیں۔ ہمارے ان ممالک میں بھی جب کبھی اور جہاں کہیں قیادت کے لیے یکساں مواقع میسر آئے‘ اس سے معاشرے کے بہترین صلاحیت کے لوگ نکل کر آگے آئے۔ تعلیم‘ بیورو کریسی‘ صحافت اور صنعت و تجارت میں جہاں کہیں برابری اور انصاف کا اصول دیکھا‘ قابل لوگ آگے آئے۔ ایسے ادوار اور مواقع ان ممالک کو کم ہی نصیب ہوئے۔ اکثریت میں آج بھی اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ اس طبقے کا نظریہ یہ ہے کہ سماجی‘ سیاسی اور معاشی طور پر صرف اونچے طبقے کے لوگ ہی ملکوں کا نظام چلانے کی استعداد رکھتے ہیں۔ اپنی برتری جتانے اور عام لوگوں کو کمتر سمجھنے کے رویے انسانی فطرت کی نفی کرتے ہیں۔ اس کے لیے کوئی کھلے مکالمے نہیں ہوتے‘ بلکہ آپ یہ طرزِ زندگی‘ سماجی رویوں اور سب سے بڑھ کر سیاست میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے تو ہم جیسے ممالک جمود کا شکار ہیں۔ آگے بڑھنے کے لیے بار بار وہی لوگ گزشتہ ایک صدی سے سامنے آ رہے ہیں۔ انگریز دور کا وہ زمانہ بھی شامل کر لیں جب انتخابات کا آغاز ہوا تھا‘ وہی دو تین سو خاندان ہمارے حکمران ہیں۔ نظام ہی ایسا بنا لیا کہ صرف وہ اور ان کے گماشتے ہی ایوانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔
تمہید ذرا طویل ہو گئی۔ بات تو میں امریکی ریاست مشی گن میں عبدل السیّد (عبدالرحمن محمد السید) کی سینیٹ کے انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کی نامزدگی کی جیت پر کرنا چاہتا تھا۔ لندن کے میئر صادق خان اور زہران ممدانی سے لے کر السید کی شاندار کامیابی اُن معاشروں کی روشن مثالیں ہیں جہاں سیاسی قیادت کے لیے یکساں مواقع محض زبانی کلامی نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت ہیں۔ لیکن یہاں تک پہنچنے کے لیے تاریخ میں بڑی تحریکیں چلیں‘ جدوجہد ہوئی اور نسل در نسل دانشور متحرک رہے۔ وہ کہانی ایک الگ باب ہے۔ زہران ممدانی کے اسرائیلی وزیراعظم کے بارے میں نظریے سے آپ واقف ہی ہوں گے کہ وہ عزہ میں نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے اور میں اُسے گرفتار کر لوں گا۔ کسی مسلم حکمران کے منہ سے کبھی ایسے الفاظ سنے ہوں تو ضرور آگاہ فرمائیں۔ السید کے خیالات بھی ایسے ہی ہیں۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے‘ مگر یہ بالکل درست ہے کہ اسرائیل کے حامی گروہوں نے 60 سے 65 ملین ڈالر اسے نامزدگی کے انتخابات میں ہرانے کے لیے صرف کیے ہیں۔ مقابلہ اتنا سخت تھا کہ وہ محض اعشاریہ پانچ کی اکثریت سے جیتے ہیں۔ نومبر میں دیکھیں کیا ہوتا ہے‘ کہ اب پوری دنیا کی نظریں اور امریکہ کے ترقی پسند حلقوں کی تمام کاوشیں انہیں جتوانے میں لگی ہوئی ہیں۔ اسرائیلی لابی پیسہ پانی کی طرح بہائے گی‘ جیسے اس نے نیویارک کے میئر کے انتخاب کے دوران کیا تھا۔ مگر عوامی رائے کے سیلاب کے سامنے کوئی بند نہ باندھا جا سکا۔ انسانوں کی برابری‘ انصاف اورحقوق کے لیے امریکہ اور یورپ کی مثالیں جچتی تو نہیں لیکن ایک ضروری نکتہ ان میں کھل کر سامنے آتا ہے‘ وہ یہ کہ نئے خیالات‘ نئے نظریات‘ فلسفے اور تخلیقی عمل برابری کے مواقع کے محتاج ہوتے ہیں۔ زندگی کے ہر میدان میں باصلاحیت قیادت شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہی ابھرتی ہے۔ ہمارے نزدیک ایک مخصوص طبقے کی برتری کا نظریہ فرسودہ‘ دقیانوسی اور احترامِ آدمیت کے تصور کے بھی منافی ہے۔ تاریخ کے جس موڑ پر اور جب کبھی کسی معاشرے اور ملک نے نسل‘ زبان اور سماجی حیثیت پر مبنی اشرافیہ کے حقِ حکمرانی کو آسمانی صحیفے کے بجائے شیطانی طرزِعمل خیال کرکے دور تاریخ کے صحرا میں دفن کیا‘ اس نے ایک دو نسلوں میں ہی ترقی کی نئی مثال قائم کر ڈالی۔ چین اور کسی حد تک جاپان بھی معروف معنوں میں جمہوری ممالک نہیں‘ مگر اپنے مخصوص نظاموں میں قیادت پیدا کرنے‘ صلاحیتیں اجاگر کرنے‘ یکساں مواقع فراہم کرنے اور قابل لوگوں کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کا مستحکم اور منظم انتظام کیا ہوا ہے۔ جسٹس اے آر کیانی نے ایوب خان کے آئین کی مثال جو لائلپور کے گھنٹہ گھر سے دی تھی‘ وہ ان کے بعد ہمارے ملک میں دو چار خاندانوں پر صادق آتی ہے۔ ابھی تو ہم اپنی قسمت سمجھ کر خاموش اور غیر متحرک ہیں‘ ہمارے کاکروچ نجانے کہاں کھو گئے ہیں۔ شاید اُن کا ستارہ بھی گردش میں ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved