تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     10-08-2026

سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی معاہدہ

یہ لگ بھگ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا مکہ ہے۔ قبیلہ بنو جرہم کا آخری سربراہ عمرو بن الحارث مضاض جرہمی جبل ابوقبیس پر چڑھا کہ مکہ کے حالات معلوم کرے۔ اس نے دیکھا کہ بیت اللہ کے صحن میں اس کے اونٹ ذبح کیے جا رہے ہیں۔ قبیلہ جرہم کی مکہ سے ہمیشہ کی جدائی کا وقت آ گیا تھا۔ اب بنو خزاعہ یہاں کے حاکم تھے۔ عمرو بن الحارث اپنے ساتھیوں سمیت مکہ سے نکلا اور رخصت ہوتے وقت وہ دل گداز شعر کہے جو آج بھی دل چیر دیتے ہیں: کان لم یکن بین الحجون الی الصفا ؍ انیس و لم یسمر بمکتہ سامر
''ایسا لگتا ہے کہ کوہ حجون سے کوہ صفا کے درمیان میرا کوئی دوست نہیں ہے اور نہ کبھی مکہ کی چاندنی راتوں میں کسی نے کبھی کہانیاں سنائی تھیں‘‘
کعبۃ اللہ کے جنوب مشرق میں قریب 400 میٹر کے فاصلے پر وہ بلند پہاڑ ہے جسے جبل ابوقبیس کہا جاتا ہے۔ بیت اللہ سے قریب ترین پہاڑ یہی ہے۔ ابوقبیس سے ایک اور چھوٹی پہاڑی پھوٹتی ہے جس کا دامن ایک طرف ابوقبیس سے ملتا ہے اور دوسری طرف اس کا کچھ حصہ حرم مکہ کی حدود میں ہے۔ یہ صفا ہے۔ وہ خوش قسمت پہاڑ جس کا نام اللہ نے ذکر کیا اور اسے شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔ اسی ابوقبیس اور صفا نے انسانی تاریخ کے کیسے کیسے مناظر دیکھے۔ یہیں ایک ماں بچے کو زمین پر لٹا کر کسی مدد اور پانی کی تلاش میں بے قرار ہو کر پہاڑوں کے درمیان پھرتی تھی۔ پہاڑیوں کے درمیان جہاں سے بچہ نظر آنا بند ہو جاتا وہ حصہ دوڑ کر طے کرتی۔ انہیں پہاڑوں نے اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں سے زمزم پھوٹتے دیکھا۔ انہی نے ابرہہ کے ہاتھی کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ڈھیر ہوتے دیکھے اور اسی صفا پر بنوہاشم کے ایک جوان نے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن حملہ آور ہونے کے لیے تیار ہے تو کیا میری بات پر یقین کرو گے؟ پھر انہوں نے یہی زمین تصدیق کرنے والوں پر اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہوتے دیکھی۔ یہیں صفا کے دہکتے پتھروں پر وہ تصدیق کرنے والے لٹائے جاتے تھے جن کے سوختہ سینوں اور پیٹھوں کی رنگتیں ان کے صبر کی گواہی دیتی تھیں۔ اسی ابوقبیس کے ایک گوشے نے دارِ ارقم دیکھا جہاں کچھ لوگ چھپ کر جمع ہو جایا کرتے تھے۔
ان پہاڑوں نے کیسے کیسے عہد وپیمان ہوتے دیکھے۔ یہیں مکہ کے سرداروں نے بنو ہاشم کے مقاطعے کا عہد کیا۔ یہیں مشرک سرداروں نے محمد (ﷺ) کو ختم کر دینے کا ناپاک منصوبہ بنایا۔ یہیں نوزائیدہ دین کی بنیاد جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر اتفاق کیا گیا۔ لیکن سبھی معاہدے ظلم پر مبنی نہیں تھے۔ یہیں مظلوموں کی مدد اور انصاف کا معاہدہ کیا گیا جس کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے بعد میں فرمایا کہ مجھے یہ معاہدہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ پھر ابوقبیس اور صفا نے بت گرائے جاتے اور کعبۃ المکرمہ کو صاف ہوتے دیکھا۔ یہ تاقیامت تبدیلی تھی۔ زمانہ تیزی سے گزرتا گیا۔ سرداروں کے چہرے بدلتے گئے۔ قومیں آتی‘ مٹتی گئیں۔ ہر دور آتا تو لگتا تھا کبھی ختم نہ ہو گا اور ختم ہوتا تو لگتا کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ مکہ پر بڑی بڑی آزمائشیں گزریں۔ مکہ کے مکین بھوک جھیلتے‘ فاقے کاٹتے تھے۔ اس سنگلاخ‘ بنجر وادی میں جہاں کھیتی کا امکان ہی نہیں‘ ہر چیز باہر سے آتی تھی لیکن اہل مکہ بیت اللہ کا قرب وجوار چھوڑ کر کہیں نہیں گئے۔ انہیں ہر چیز سے زیادہ محبوب یہ گھر تھا۔ چلچلاتی دھوپ مطاف کے سنگ ریزے انگارے بناتی رہی۔ تیز بارشوں کے پہاڑی سیلابی ریلے آتے اور کعبہ کا طواف کرتے گزرتے رہے۔ لیکن ابوقبیس اور صفا اپنی جگہ کھڑے رہے۔
پھر سختی اور تنگی کا یہ دور کٹ گیا۔ سیاہ سیال سونا زمین سے پھوٹتے چشمے کی طرح نکلا اور اپنے مالکوں کو دنیا کے امیر ترین انسان بنا گیا۔ کچھ زمانہ اور گزرا۔ پھر ایک سردار نے سوچا کہ بیت اللہ کے قرب میں ایک محل تو ہونا چاہیے جہاں سے ہمہ وقت کعبہ مشرفہ سامنے رہے۔ وہیں سے وہ خود اس کے مہمان اور دوسرے سردار ہاتھ باندھ کر بیت اللہ کی نماز میں شامل ہو سکیں۔ وہیں ہٹو بچو کی آوازوں کے بغیر مگر پوری حفاظت کے ساتھ رمضان کا آخری عشرہ گزارا جا سکے۔ وہیں اہم معاہدوں پر کعبہ کو گواہ بنا کر دستخط کیے جا سکیں۔ 1980ء میں کوہ صفا اور جبل ابوقبیس کے پتھروں پر یہ محل کھڑا ہو گیا اور اسے قصر الصفا کہا گیا۔ جیسے قبیس نامی ایک شخص پہلے پہلے اس پہاڑ پر گھر بناکر اس کا حصہ بن گیا تھا‘ ویسے ہی قصر الصفا ابوقبیس کا ایک حصہ بن گیا۔
سات اگست 2026ء کو صفا اور ابوقبیس کی تاریخی آنکھوں نے ایک اور بہت منفرد منظر دیکھا۔ جیسے یہ محل آج کے دن کے لیے ہی بنایا گیا ہو۔ دنیا کے تین بڑے اور طاقتور مسلم ملکوں کے سربراہ اور عمائدین محل کے بڑے کمرے میں ایک صف میں ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔ سامنے شیشے کی دیوار کے پار بیت اللہ کی عمارت تھی۔ ایک امام جمعہ کی نماز پڑھاتا تھا اور اس کی آواز پورے حرم اور محل میں گونجتی تھی۔ یہ سربراہ ابھی ابھی ایک غیر معمولی معاہدے پر دستخط کرکے اس نماز میں شریک ہوئے تھے جس نے صرف اسلامی دنیا نہیں پوری دنیا میں لہریں اٹھا دی تھیں۔ مکہ سے اٹھنے والی یہ لہریں اپنے مدوجزر کے ساتھ دنیا میں پھیلتی گئیں اور کہیں خوشی‘ کہیں تکلیف‘ کہیں خوف اور کہیں اضطراب کی مزید لہریں اٹھاتی گئیں۔ ہر جگہ اس کا اثر ایک سا نہیں تھا لیکن اس بات کو سبھی مان رہے تھے کہ یہ بہت غیر معمولی عہد وپیمان ہے۔ سبھی کہہ رہے تھے کہ یہ مکہ دفاعی عہد مستقبل گیر واقعہ ہے۔ یہ وہ واقعہ ہے جو کبھی ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ سات اگست نے اسے ممکن بنا دیا۔
معاہدے کیا ہوتے ہیں؟ چند کاغذات کے مجموعے؟ یہ معاہدہ کہیں بھی ہو سکتا تھا۔ کہیں بھی ان کاغذات پر دستخط کیے جا سکتے تھے۔ لیکن مکہ‘ بیت اللہ‘ ابوقبیس اور صفا کو عینی گواہوں کو طور پر شامل کرنا اس معاہدے کو اہم ترین بناتا ہے۔ یہ گواہ دنیا کے کسی اور شہر میں نہیں مل سکتے تھے۔ تاریخ نے وہ معاہدے بھی محفوظ رکھے ہیں جو کعبہ کی دیوار پر لٹکا دیے جاتے تھے کہ یہی ان کی مضبوطی اور اہمیت کی علامت ہوا کرتی تھی۔ مکہ کا انتخاب علامت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ قول وقرار ان لوگوں کے بیچ ہے جو کعبہ کی طرف رخ کرکے پانچ وقت کھڑے ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک روئے زمین پر اس سے مقدس عمارت موجود نہیں ہے۔ یہاں کیے گئے عہد وپیمان سے پیچھے ہٹنا آسان نہیں۔ عمر بھر کا داغ ساتھ لے کر آتا ہے۔ اس معاہدے کے مضمرات پر بات ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی کہ یہ تینوں ملکوں کی حالیہ تاریخ کا اہم ترین واقعہ ہے۔ اس معاہدے میں شریک ملکوں کی اپنی اپنی طاقت اور اہمیت ہے‘ جسے دنیا خوب سمجھتی ہے۔ سعودی عرب دولت سے چھلکتا ملک ہے جسے اللہ نے معاشی فکر سے بے نیاز کر دیا ہے۔ بہت کم ملک دولت کی فراوانی میں سعودیہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ پاکستان فوجی‘ افرادی طاقت کا وہ ملک ہے جس کی دہشت دشمنوں پر طاری ہے۔ جوہری طاقت سے لیس واحد مسلم ملک۔ حرمین سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے لوگ۔ بے مثال ہنرمند۔ ایسا ملک دنیا میں کوئی اور نہیں۔ اور ترکیہ دفاعی ساز وسامان‘ صنعتی ترقی‘ حربی طاقت اور جغرافیائی قوت سے لیس ایسا ملک جس نے برسوں حرمین کی خدمت کی۔ انہیں سینے سے لگا کر رکھا۔ حرمین کے چپے چپے پر ان کے نقش آج بھی ثبت ہیں۔ آج وہ حرمین کی محبت سے پیچھے کیسے ہٹ سکتے ہیں۔ ترکوں سے زیادہ محبت کرنے والی قوم ہے کوئی اور؟
کچھ معاہدے جنگ کرنے کیلئے نہیں‘ جنگ روکنے کیلئے ہوتے ہیں۔ کچھ عہد ظلم کیلئے نہیں مظلوم کی مدد کیلئے کیے جاتے ہیں۔ کچھ ہتھیار جارحیت کیلئے نہیں حفاظت کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ جنگ روکنے کا معاہدہ ہے‘ ظالم کا ہاتھ روکنے کا معاہدہ ہے‘ باہمی حفاظت کا معاہدہ ہے۔ ایسا معاہدہ جو سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہونا چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved