تحریر : میاں عمران احمد تاریخ اشاعت     10-08-2026

تجارتی خسارہ‘ کپاس اور معیشت

پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بظاہر ایک دفاعی معاہدہ ہے‘ لیکن اس کے معاشی اثرات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ خطے میں استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت سرمایہ کاری‘ برآمدات اور زرمبادلہ کے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ ایسے میں سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات پاکستان کے لیے معاشی آکسیجن ثابت ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کی جی ڈی پی تقریباً ایک کھرب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ ترکیہ کی معیشت بھی 1.3 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی معیشت تقریباً 410 ارب ڈالر کے حجم تک پہنچ چکی ہے۔ تینوں ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 2.7 کھرب ڈالر بنتی ہے جو دنیا کے کئی بڑے اقتصادی بلاکس کے برابر ہے۔سعودی عرب اس وقت پاکستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس سال پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات 691.8 ملین ڈالر رہی ہیں۔ پاکستان کے پاس سعودی مارکیٹ میں اپنی برآمدات بڑھانے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔ دوسری جانب ترکیہ اور پاکستان نے دوطرفہ تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت اس ہدف سے کافی کم ہے لیکن نئی شراکت داری کے بعد صنعتی تعاون‘ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا ممکنہ فائدہ سعودی سرمایہ اور ترکیہ کی صنعتی و تکنیکی مہارت کا امتزاج ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے جبکہ ترکیہ کے پاس دفاعی صنعت‘ انجینئرنگ‘ تعمیرات‘ آٹومیشن اور مینوفیکچرنگ کا تجربہ ہے۔ اگر پاکستان اپنی افرادی قوت‘ جغرافیائی محل وقوع اور خام مال کو اس شراکت داری کا حصہ بنا سکے تو روزگار‘ برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ معیشت صرف معاہدوں سے مضبوط نہیں ہوتی۔ پاکستان ماضی میں بھی کئی بڑے اقتصادی معاہدوں کا حصہ رہا ہے لیکن ان سے مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکا۔ اگر کاروباری ماحول بہتر ہو‘ توانائی کی لاگت کم کی جائے‘ ٹیکس نظام آسان ہو اور سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کیا جائے تو یہ نیا اتحاد اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری‘ ہزاروں نئی ملازمتوں اور برآمدات میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور جنگی ماحول کے باوجود پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3.1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کر رکھاہے۔ ایرانی صدر کے حالیہ دورے میں بھی تجارتی منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ آئندہ چند برسوں میں دونوں ممالک باہمی تجارت میں تقریباً 223 فیصد اضافہ کرنا چاہتے ہیں جو خطے کے موجودہ حالات کے تناظر میں ایک انتہائی بلند مگر اہم ہدف ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران نے 2028ء تک اس ہدف کے حصول کا وقت متعین کیا ہے اور دونوں ممالک کے مابین آزاد تجارتی معاہدے پر بھی مذاکرات جاری ہیں۔ یہ ہدف اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اور ایران تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا میں ایسے بہت کم ہمسایہ ممالک ہیں جن کے درمیان اتنی طویل سرحد ہونے کے باوجود تجارت اتنی محدود ہو۔ پاکستان کی مجموعی سالانہ تجارت 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایران کی تجارت بھی دسیوں ارب ڈالر پر مشتمل ہے لیکن دونوں ممالک کی باہمی تجارت اب بھی صرف تین ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ دونوں ممالک نے گزشتہ چند برسوں میں متعدد سرحدی منڈیوں کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ مند پشین بارڈر مارکیٹ فعال ہو چکی ہے۔اگر سرحدی تجارت کو مکمل دستاویزی شکل دے دی جائے تو صرف بلوچستان اور سیستان بلوچستان کی تجارت ہی سالانہ ایک سے دو ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اصل مسئلہ تجارت بڑھانے کا نہیں بلکہ اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا ہے۔ ایران پرامریکی پابندیوں کی وجہ سے بینکاری چینلز محدود ہیں جس کے باعث کاروباری افراد کو ادائیگیوں اور ایل سیز کھولنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین بڑی مقدار میں تجارت غیر رسمی ذرائع سے ہوتی ہے جو سرکاری اعدادوشمار میں شامل نہیں ہوتی۔ حقیقی سرحدی تجارت سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مالی سال2026-27ء کا آغاز پاکستان کی معیشت کے لیے ایک تشویشناک خبر کے ساتھ ہوا ہے۔ جولائی میں ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں تقریباً 25 فیصد زیادہ ہے۔ جولائی میں برآمدات 2.94 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 6.89 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 3.95 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بظاہر برآمدات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ایک مثبت خبر ہے لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ درآمدات کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تیز ہے۔ جولائی کا خسارہ اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو سالانہ تجارتی خسارہ 45 سے 50 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور روپے کی قدر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں پاکستان کو متعدد مرتبہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔سرکار کا مؤقف ہے کہ درآمدات میں اضافے کی ایک وجہ صنعتی خام مال اور مشینری کی درآمد ہے جو مستقبل میں پیداوار اور برآمدات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر واقعتاً ایسا ہے تو یہ خسارہ وقتی طور پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے‘ لیکن اگر ماضی کو دیکھا جائے تو درآمدات بڑھنے سے برآمدات بڑھنے کی روایت نہیں رہی ہے بلکہ مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ درآمدات کا بڑا حصہ صرف لگژری مصنوعات یا غیر پیداواری شعبوں پر مشتمل رہا ہے۔ اگر مستقبل میں بھی یہی روایت برقرار رہتی ہے تو یہ معیشت کے لیے بڑے خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
ملکی معیشت میں کپاس کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ ٹیکسٹائل صنعت‘ جو ملکی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد حصہ فراہم کرتی ہے‘ اسی فصل پر انحصار کرتی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ نے کپاس کے شعبے میں بحث چھیڑ دی ہے۔پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق 31 جولائی 2026ء تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں سات لاکھ 86 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار خوش آئند ہیں لیکن جب صوبہ وار اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں چار لاکھ 88 ہزار گانٹھوں کے مساوی ترسیل ہوئی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ ہے۔ پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں صرف دو لاکھ 98 ہزار گانٹھوں کے مساوی کپاس پہنچی ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک فیصد کم ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد ایک فیصد کم ہوئی ہے تو پھر پنجاب کی کراپ رپورٹنگ سروسز کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ صوبے میں کپاس کی پیداوار 32 فیصد زیادہ رہی؟ یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں ملک میں ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں سے زائد کپاس پیدا ہوتی تھی لیکن حالیہ برسوں میں پیداوار کئی مرتبہ 50 سے 70 لاکھ گانٹھوں کے درمیان محدود رہی اور کپاس درآمد کرنا پڑی۔ کپاس کی پیداوار کا درست اندازہ لگانے کے لیے صرف سرکاری تخمینوں پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ جننگ فیکٹریوں میں آنے والی پھٹی کے اعدادوشمار زیادہ قابلِ اعتماد سمجھے جاسکتے ہیں کیونکہ وہ عملی پیداوار کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر جننگ فیکٹریوں میں کپاس کم پہنچی ہے تو پیداوار میں غیر معمولی اضافے کے دعوؤں پر سوالات اٹھنا فطری بات ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved