تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     11-08-2026

ہم کھرب پتی کیسے ہوئے؟

کس احمق نے یہ فارمولا گھڑا تھا کہ 40سال کی عمر تک اگر آپ امیر نہیں ہو سکے تو اس کے بعد امیر ہونے کا کوئی امکان نہیں!
خوش بختی کا ستارہ کسی بھی وقت پیشانی پر جگمگا سکتا ہے۔ قدرت کیلئے چھپر پھاڑنا کون سا مشکل ہے۔ یہی ہمارے ساتھ ہوا۔ ہم میاں بیوی نے ساری زندگی تنخواہ کا بجٹ بناتے‘ کفایت کرتے اور اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتے گزار دی۔ پنڈی سے مری جانا کون سا مشکل ہے ‘ اس کیلئے بھی پلاننگ کرتے سال پر سال گزر جاتے تھے۔ بچوں کی فرمائشیں پوری نہ کر سکنے پر ہمارا کلیجہ کٹ کٹ جاتا تھا۔ ایک طرف سے ادھار چکاتے تو دوسری طرف چڑھ جاتا۔ یاد نہیں کہ کسی عید پر ہم میاں بیوی نے نیا لباس پہنا ہو۔ پھل خریدتے تو سبزی کیلئے کچھ نہ بچتا۔ سبزی لیتے تو پھل رہ جاتے۔ گوشت کیلئے بڑی عید کا انتظار رہتا۔ یہ تھے ہمارے حالات! ہر حال میں پروردگار کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ جسے تیسے بھی دن گزرے‘ الحمدللہ بچے پڑھ لکھ گئے۔ دو کمروں پر چھت بھی ڈال لی۔
اب جب ہم میاں بیوی ستر سے اوپر کے ہو گئے ہیں تو قسمت نے اچانک پلٹا کھایا ہے۔ یہ خوشخبری ایک دن صبح صبح ایک دوست نے فون پر دی۔ مجھے تو یقین ہی نہ آیا کہ اس عمر میں ہم کھرب پتی ہو سکتے ہیں۔ میں نے اپنی چٹکی لی کہ ہوش میں ہوں یا نہیں۔ خبر سچی تھی‘ اور میں سن کر بھی ہوش میں تھا۔ مگر گڑ بڑ یہ ہوئی کہ گھر آکر اہلیہ کو بتایا تو وہ سنتے ہی بے ہوش ہو گئیں۔ لینے کے دینے پڑ گئے۔ چہرے پر پانی چھڑکا۔ ہسپتال لے جانا پڑا۔ ڈاکٹر نے معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ انہوں نے کوئی ایسی خبر سنی ہے جو ناقابلِ یقین ہے۔ جوش‘ مسرت اور ہیجان کی وجہ سے ان کے حواس پر حملہ ہوا ہے۔ خیر! اللہ نے کرم کیا اور چند گھنٹے ہسپتال میں رہنے کے بعد‘ وہ تندرست حالت میں گھر واپس آ گئیں۔ اب اصل کام ان کی واپسی کے بعد شروع ہوا۔ دولت کی یہ بے تحاشا لیکن غیرمتوقع آمد ہمارے اعصاب اور ہماری ذہانت کیلئے امتحان تھی۔ زندگی بھر کی حسرتوں اور ارمانوں کی ہم نے تلافی کرنا تھی۔ سب سے پہلے ہم نے گاڑی خریدی۔ یہ مرسڈیز کا تازہ ترین ماڈل تھا۔ ہم نے اخبار میں اشتہار دے کر ایک مشاق ڈرائیور کو ملازم رکھ لیا۔ اسے ایک بارعب وردی بھی دلوائی۔ اگلا منطقی مرحلہ اپنے جھونپڑی نما مکان سے نجات حاصل کرنا تھا۔ اس کیلئے ہم نے امیر ترین آبادیوں کا تفصیلی سروے کیا۔ لاہور اور کراچی بھی گئے۔ بالآخر ہمیں تین محل پسند آئے۔ ایک کراچی کی بہترین جگہ ''زمزمہ‘‘ میں تھا۔ یہ چار کنال میں تھا۔ اس میں سوئمنگ پول بھی تھا۔ فرنیچر کا ٹھیکہ ہم نے ملک کی مشہور کمپنی کو دیا جس نے اطالوی سازو سامان سے محل کو آراستہ کر دیا۔ دوسرا محل لاہور میں خریدا۔ یہ ہم نے ایک مشہور سیاستدان کے محل کے مقابلے میں آراستہ کیا۔ سو کنال کے اس محل میں پانچ سو افراد کے بیٹھنے کیلئے ایک ہال بھی تھا۔ اس میں پانچ گیراج تھے۔ بیس باتھ روم تھے اور بیس ہی خواب گاہیں تھی۔ تیسرا محل ہم نے اسلام آباد میں خریدا۔ اس کے تہہ خانے میں پانچ بیڈ روم تھے۔ ملازموں کیلئے اس میں دس کمرے تھے۔ گراؤنڈ فلور سارا بیڈمنٹن کھیلنے کیلئے وقف تھا۔ پہلی منزل پر ہم نے باغ بنوایا۔ یہ بابل کے معلق باغات (Hanging Gardens of Babylon) کا جواب تھا۔ ہمیں یقین تھا کہ اس محل کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ قرار دیا جائے گا۔ اب چونکہ ہمیں اکثرو بیشتر کراچی‘ لاہور‘ اسلام آباد آنا جانا تھا اس لیے ہم نے ایک جہاز بھی خرید لیا۔
ملک کے اندر اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے بعد ہم نے دوسرے ملکوں کا رخ کیا۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہر بچے کو کسی ٹاپ کلاس ترقی یافتہ ملک میں مقیم کریں گے۔ بڑے بیٹے کو ہم نے بہاما میں ایک محل اور ایک یاچ (Yacht) خرید کر دی۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ہم میاں بیوی کا بھی اکثرو بیشتر بہاما ہی میں قیام کا ارادہ تھا۔ منجھلے بیٹے کو ہم نے لاس اینجلس میں مشہور زمانہ بیورلے ہلز میں مکان خرید کر دیا۔ ہالی وڈ کے بڑے بڑے اداکار اور گلوکارائیں اسی آبادی میں قیام پذیر ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے کو ہم نے جنوبی اٹلی کے خوبصورت ترین شہر نیپلز میں آباد کیا۔ اس کا محل سمندر کے کنارے ہے۔ ہم میاں بیوی کبھی کبھی وہاں قیام کرتے ہیں اور مناظرِ فطرت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ رہی بیٹی‘ تو اسے ہم نے بحیرۂ روم میں‘ ہسپانیہ کی حدود میں ایک پورا جزیرہ خرید کر تحفے میں دیا۔ ان جائز خواہشات کو پورا کرنے کے بعد ہم نے بقیہ دولت کا اندازہ لگایا تو ماشاء اللہ اس قدر زیادہ تھی کہ اوپر بیان شدہ محلات وغیرہ خریدنے کے بعد یوں لگتا تھا جیسے سمندر میں سے ایک قطرہ کم ہوا ہو۔ اب ہم نے فلاحی کام کی طرف توجہ کی۔ ہم نے ملک بھر سے ایک لاکھ لائق اور ذہین طلبہ و طالبات کا انتخاب کیا اور ان کی تعلیم کے تمام اخراجات اٹھانے کا بند و بست کیا۔ ہم نے یہ انتظام بھی کیا کہ ہر سال ملک کے ایک ہزار طلبہ و طالبات کو آکسفورڈ‘ کیمبرج‘ لندن سکول آف اکنامکس‘ ہارورڈ اور دیگر مشہور یونیورسٹیوں میں داخل کرائیں گے اور فارغ التحصیل ہونے تک تمام اخراجات خود برداشت کریں گے۔اس کے بعد ہم نے مسلم ممالک کی طرف توجہ مبذول کی۔ ہم نے تمام مسلم ممالک میں تعلیم کے فروغ کیلئے ایک بین الاقوامی کمپنی قائم کی۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی Seed Moneyڈالی۔ اسے چلانے کیلئے بین الاقوامی شہرت کے حامل بہترین منتظم چنے۔ آج کی تاریخ میں یہ کمپنی دو لاکھ مسلمان لڑکوں اور لڑکیوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہی ہے۔ اس کمپنی کا ہیڈ کوارٹر ہم نے سوڈان میں قائم کیا۔ اس کے علاوہ ہم نے پچپن مسلمان ملکوں سے چنے گئے مفلوک الحال افراد کے روزگار کا بھی بندو بست کیا۔
الحمد للہ ہم نے مذہبی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ ہم نے مدارس کی مدد کیلئے فنڈ قائم کیا۔ ملک بھر کی پرانی اور شکستہ مساجد کی تعمیر نو کا بیڑہ اٹھایا۔ جن مدارس کے پاس اپنی عمارتیں نہیں تھیں‘ انہیں عمارات بنا کر دیں۔ مدارس کے اساتذہ کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کیے۔ رمضان المبارک کے دوران مسجد نبوی میں افطار کیلئے سالانہ دس لاکھ ڈالر مختص کیے۔ جو نیک اور پرہیز گار افراد حج اور عمرے کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں ‘ انہیں حرمین شریفین بھیجنے کا انتظام کیا۔ نہ صرف پاکستان سے بلکہ پوری دنیا کے مستحق مسلمان اس مقدس پروگرام میں شامل تھے۔ ہم بچوں کی تفریح سے بھی غافل نہ تھے۔ ہم نے تمام بڑے شہروں میں ڈزنی لینڈ کی طرز پر تفریح گاہیں بنائیں۔ میری اہلیہ نے غریب عورتوں کیلئے ملک میں دستگاری کے پانچ ہزار مراکز قائم کیے۔ ان میں دوپہر کے کھانے کا بندو بست بھی تھا۔ ہر مرکز میں ہر روز ایک بیل ذبح کیا جاتا ہے تاکہ گوشت غریب خواتین کی خوراک کا لازمی حصہ ہو۔
مجھے معلوم ہے کہ پڑھنے والے شدید ذہنی کشمکش میں ہوں گے کہ اس نادار کنبے کے پاس یہ لامحدود دولت کہاں سے آئی؟ تو عزیز قارئین! ہم نے چوری کی ہے نہ ڈاکہ ڈالا ہے۔ ہم نے کوئی بینک بھی نہیں لوٹا۔ نہ ہمارے تیل کے کنوئیں ہیں۔ ہم کبھی حکومت کا بھی حصہ نہیں رہے کہ اس قدر دولت کے مالک بن جاتے۔ اصل میں حکومت نے پنشن میں سات فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ یہ ساری دولت اسی سات فیصد اضافے کی برکت ہے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved