ویسے تو ملتان پر بیرونی حملہ آوروں کی جارحیت کی تاریخ اس سے کہیں قدیم ہے‘ تاہم مستند تاریخِ ملتان 326 قبل مسیح میں سکندر اعظم کے حملے سے شروع ہونے والی بربادی کا سلسلہ جو 1848-49ء میں انگریزوں کی جارحیت اور دیوان مولراج کی شکست پر منتج ہوا‘ بیان کرتی ہے کہ تباہی اور بربادی کی اس ڈھائی ہزار سال پر مشتمل مسلسل اور طویل داستان میں 1398ء میں امیر تیمور گورگانی کی قتل وغارت گری اور پھر 1818ء میں سکھوں کی جانب سے ہونیوالی خونریزی جیسے ہولناک سانحات نے ہماری قوتِ برداشت کو اس قدر مضبوط اور مستحکم کر دیا ہے کہ آج ہم چھوٹی موٹی ناانصافی‘ حق تلفی‘ نظام کی خرابی‘ حقوق کی پامالی اور اس نوع کی دیگر زیادتیوں کو نہ صرف برداشت کر لیتے ہیں بلکہ اب تو ہم نے نسبتاً ایسی معمولی باتوں پر احتجاج کرنا بھی تقریباً چھوڑ دیا ہے۔ ہم شاید اب ایسی چیزوں کو من جانب اللہ اپنا مقدر سمجھ کر قبول کر چکے ہیں۔ حکمران کشمیر کا الیکشن جیتنے کیلئے ہماری دس الیکٹرک بسیں کشمیر بھجوا دیں تو ہماری آہ بھی نہیں نکلتی۔ تخت لاہور‘ ملتان ترقیاتی ادارے سے اربوں روپے منگوا کر ڈکار جائے تو ہمارے ہونٹوں پر حرفِ احتجاج نہیں آتا۔ اہلِ شمال ہم اہلِ جنوب کے حقوق سلب کر لیں تو ہم صبر سے کام لیتے ہیں اور اہلِ سیاست ہمیں بیچ کر کھا جائیں تو ہمارے ماتھے پر بل نہیں پڑتا۔ ہمارا ترقیاتی بجٹ ہضم کر لیا جائے ہمیں رائی برابر دکھ نہیں ہوتا اور ہمارے منصوبے دوسرے شہروں میں منتقل کر دیے جائیں تو ہماری صحت پر رتی بھر اثر نہیں پڑتا۔ سارا شہر اکھاڑ کر رکھ دیا جائے تو ہمیں اس کا درد تک محسوس تک نہیں ہوتا۔ بھلا جو شہر درجنوں بار کھنڈر بنا ہو اس شہر کے باسی ایسی چھوٹی موٹی تباہی کو کیا خاطر میں لائیں گے؟
ڈیڑھ ماہ قبل ملتان کو جس حالتِ بربادی میں چھوڑ کر گیا تھا واپسی پر شہر عین اسی حالت میں ملا ہے۔ یہ بات درست کہ اس بار یہ ساری تخریب برائے تعمیر ہے لیکن تخریب کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے۔ اسے آپ میری خوش فہمی سمجھ لیں یا حماقت‘ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں تو اس شہرِ خرابات کو جو مسائل درپیش ہوتے ہیں یا جو خرابیاں آدھ رستے میں رکی ہوتی ہیں‘ میں ان کے بارے میں گمان کرتا ہوں کہ جب واپس آؤں گا تو سب کچھ ٹھیک ہو چکی ہوں گی۔ گزشتہ کئی عشروں سے اسی خوش فہمی یا حماقت کے زیر اثر جب میں واپس پاکستان آتا ہوں تو حالات جوں کے توں بلکہ بعض اوقات تو پہلے سے بھی زیادہ مائل بہ خرابی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ یہ شہرِ ناپرساں پچھلے کچھ عرصے سے نسبتاً بہتری کی طرف مائل ہے۔ کچھ معاملات میں باقاعدہ بہتری کی صورت دکھائی دے رہی ہے۔ چھوٹی چھوٹی خرابیاں جو عرصہ دراز سے ہم پر مسلط تھیں ان کا کچھ نہ کچھ بندوبست ہوا ہے۔ شہر میں ترقیاتی صورتحال کافی حد تک بہتر ہوئی ہے۔ لیکن عشروں پرانا بلکہ میں تو کہوں گا کہ صدیوں پرانا جو ترقیٔ معکوس کا نظام اس شہر پر حاوی ہے وہ ان تمام کاوشوں سے بچ بچا کر اپنا اثر دکھاتا رہتا ہے۔ ملتان کا ایک بڑا انتظامی افسر اس سلسلے میں کافی بھاگ دوڑ‘ تگ ودو اور کاوشیں بھی کر رہا ہے مگر شاید جڑوں تک پہنچی ہوئی محکمہ جاتی خرابیاں ان تمام کوششوں‘ کاوشوں اور تگ ودو پر حاوی ہیں۔ سو صورتحال بعض معاملات میں خاصی دگرگوں ہے۔
گلگشت کالونی ملتان کی اولین کالونی تھی جو ایک باقاعدہ منصوبے اور نقشے کے مطابق بنائی گئی۔ بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ تب دو باقاعدہ منصوبہ شدہ کالونیاں بنائی گئیں۔ شہر کی ایک سمت میں گلگشت کالونی جبکہ شہر کی دوسری جانب ریلوے لائن کے پار ممتاز آباد کالونی کی تعمیر ہوئی۔ ممتاز آباد کالونی بنیادی طور پر لوئر مڈل طبقے کیلئے ان کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی جبکہ گلگشت کالونی اَپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس طبقے کو مدنظر رکھ کر تعمیر کی گئی۔ گلگشت کالونی میں تب تین چار مختلف بلاک تعمیر کیے گئے۔ بوسن روڈ کے عین اوپر اے بلاک تھا جس میں بعض کوٹھیاں چار کنال بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ بڑی تھیں۔ اے بلاک میں پیچھے والی سمت تھوڑے کم رقبے پر مشتمل پلاٹ تھے۔ اس کے بعد بی بلاک تھا‘ اس سے چھوٹا سی بلاک تھا۔ اب مجھے یاد نہیں‘ شاید آخری سرے پر ڈی بلاک بھی موجود تھا۔ یہ کالونی جو ''پھاٹا‘‘ کے زیر انتظام بنائی گئی تھی ملتان کے معززین‘ پڑھے لکھے‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور کاروباری حضرات کی اولین ترجیح تھی۔ ایمرسن کالج کے بہت سے اساتذہ اس کالونی کے رہائشی تھے۔ میرے گلگشت ہائی سکول کے استاد مشتاق علی خادم کا گھر گردیزی مارکیٹ کے ساتھ بی بلاک میں تھا۔ کیا شاندار رہائشی کالونی تھی جس میں منصوبے کے مطابق تین مساجد‘ تین کمرشل علاقے جن میں مارکیٹیں تھیں‘ موجود تھے‘ تین عدد پارک اس کالونی کا حصہ تھے۔ پھر اس کالونی کو کمرشلزم کی نظر لگ گئی۔ پھاٹا کا نہ کوئی قانون تھا‘ نہ کوئی ضابطہ تھا اور نہ ہی کوئی نگرانی تھی۔ ساری کالونی آہستہ آہستہ کمرشل ہونا شروع ہو گئی۔ پہلے لوگوں نے گھروں میں دکانیں بنائیں‘ پھر گھر دکانیں بن گئے۔ ایک سرے سے دوسرے سرے تک ساری کالونی مارکیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ پوری کالونی میں صرف کمپری ہینسو سکول برائے طالبات کمرشل ہونے سے بچ گیا۔ بصورت دیگر ساری کالونی دکانوں کے جنگل کی شکل اختیار کر گئی۔ اس میں سب سے پوش علاقہ گول باغ کی جنوبی سڑک تھی جس پر ملک کے مشہور برینڈز آنا شروع ہو گئے۔ لوگ اسے ملتان کا ایم ایم عالم روڈ کہتے تھے۔ پھر یہ برینڈ روڈ کے نام سے مشہور ہو گئی۔ فروری 2026ء میں اسکے معاملات کو درست کرنے‘ ٹریفک کا نظام اور پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک منصوبہ شروع کیا گیا۔ آج چھ ماہ ہو چلے ہیں‘ ساری سڑک کھدی پڑی ہے۔ سارا منصوبہ افسروں اور اداروں کا تختہ مشق بنا ہوا ہے۔ ہر قسم کے کاروبار کا بیڑا غرق اور سارے علاقے کا ستیاناس ہو چکا ہے۔ ڈیڑھ دو مہینے پہلے معاملات کو جس نہج پر چھوڑ کر گیا تھا‘ معاملات ویسے کے ویسے ہیں‘ رتی برابر بہتری دکھائی نہیں دے رہی۔
دوسری طرف ناردرن بائی پاس پر سیداں والے چوک سے خانیوال روڈ تک سڑک‘ جسے ملتان ایونیو کا نام دیا گیا ہے‘ اس پر بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ ملتان کا سب سے قدیم اور گنجان آباد کاروباری اور تجارتی مرکز حسینا گاہی پچھلے چار ماہ سے کھدا پڑا ہے۔ سڑک غائب ہے۔ ہر طرف دھول‘ مٹی اور گڑھے ہیں۔ کوئی کسی چیز کا نہ ذمہ دار ہے نہ اس بری حالت کا کوئی حل ہی نکل رہا ہے۔ لوگوں کے کاروبار پچھلے چار پانچ ماہ سے تباہ ہو چکے ہیں۔ محکموں کا یہ عالم ہے کہ نہ ان کے پاس کام کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی کام کرنے کو دل کر رہا ہے۔ عشروں پرانے محکموں کے پاس نہ ان معاملات سے نمٹنے کی کپیسٹی ہے‘ نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی نیت ہے۔ ڈیرہ اڈا سے حسن پروانہ روڈ پر کئی ماہ سے سیوریج ڈالی جا رہی ہے اور بس ڈالی ہی جا رہی ہے۔ یہ معاملات تو تکنیکی بھی ہیں جن میں شاید تھوڑی بہت مشکلات بھی ہوں گی لیکن پیر خورشید کالونی کی سڑک پچھلے پانچ ماہ سے زیر تعمیر ہے۔ دو اڑھائی فرلانگ پر مشتمل یہ لنک روڈ گلگشت کالونی کو شہر کی دوسری سمت سے ملانے کا اہم راستہ ہے۔ بااہل سرکاری محکموں سے چار پانچ ماہ میں محض اڑھائی فرلانگ کی چھوٹی سی سڑک مکمل نہیں ہو پا رہی۔
اہلِ ملتان کیلئے یہ بربادی اور تباہی بہرحال اس بربادی اور تباہی کے سامنے کچھ بھی نہیں جو وہ صدیوں سے بے رحم امیر تیمور‘ وحشی تاتاریوں‘ ظالم سکھوں اور بے درد انگریزوں کے ہاتھوں بھگت کر صبر کرنا سیکھ گئے گئے ہیں۔ سو صدیوں سے استحصال‘ زیادتی‘ حق تلفی اور ظلم کے شکار اہلِ ملتان اب بھی صبر‘ حوصلہ‘ مستقل مزاجی‘ قوتِ برداشت اور تحمل سے یہ سب کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ اہلِ ملتان کی استقامت کی روایت قائم ہے۔ یہ لاہور والی ''سپیڈیں‘‘ ملتان میں کہاں چلی جاتی ہیں۔
ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں؍ تُو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved