تحریر : ڈاکٹر حسین احمد پراچہ تاریخ اشاعت     11-08-2026

گیارہ اگست 1947ء کا آئینہ

آج 11اگست 2026ء ہے۔ 11 اگست 1947ء کو قیامِ پاکستان کے رسمی اعلان سے تین دن قبل‘ قائداعظم محمد علی جناح نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں فی البدیہہ تقریر کی تھی۔ یہ تقریر ایک آئینہ ہے جس میں آج کے پاکستانی حکمران اور سیاستدان اپنا احتساب بھی کر سکتے ہیں اور اپنی کارکردگی کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔ قائداعظم کے اس تاریخی خطاب کے اہم ترین نکات کو نظر انداز کر کے محض چند جملوں کو سیاق وسباق سے الگ کر کے سیکولرحضرات کنفیوژن پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ان حضرات نے دو قومی نظریہ کیخلاف اپنی دکانداری چمکانے کی کوشش کی۔ ہم اس کا بھی تذکرہ کریں گے مگر پہلے اس تاریخی موقع پر قائداعظم کے خطاب کا خلاصہ ملاحظہ کر لیجئے۔
قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے کہا کہ پاکستان میں آپ کی سب سے پہلی ذمہ داری قانون کی بالادستی اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔ امن وامان کا قیام ازبسکہ ضروری ہے تاکہ عوام کی جان و مال محفوظ رہ سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے رشوت ستانی‘ چور بازاری اور اقربا پروری کو معاشرے کا ناسور قرار دیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے ان تمام مظاہر کا آہنی ہاتھوں سے خاتمہ کرنے پر زور دیا۔ چونکہ مسلمانانِ ہند کیلئے ایک علیحدہ وطن حاصل کیا جا رہا تھا تو قائداعظم نے اقلیتوں کے ممکنہ خدشات کا ازالہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ریاست میں سب برابر کے شہری ہوں گے۔ آپکو اپنے عقائد کے مطابق مندروں‘ مسجدوں‘ گرجوں اور دیگر عبادتگاہوں میں جانے کی آزادی ہو گی۔ اس موقع پر قائداعظم نے رنگ ونسل کے امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر ایک متحد قوم کی حیثیت سے کام کرنے پر زور دیا۔ قائداعظم کے عطا کردہ آئینے میں دیے گئے نکات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے جائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم نے فرمانِ قائد کی لاج کہاں تک رکھی ہے۔ جہاں تک قانون کے سپریم ہونے کا تعلق ہے تو اس دنیا سے قائد کے رخصت ہونے کے بعد ہم نے قانون کو بالادست کے بجائے اپنا زیردست بنا لیا۔ ہمارے بالادست طبقات نے قانون کو موم کی ناک بنا لیا اور اسے حسبِ خواہش جدھر چاہا اُدھر موڑ لیا۔ اس سلسلے میں کبھی منتخب ایوانوں پر ہاتھ صاف کیے گئے‘ کبھی اعلیٰ عدالتوں سے حسبِ منشا فیصلے لیے گئے اور کبھی اُن سے لکھے لکھائے فیصلے صادر کرائے گئے۔ اسی طرح ملک کے اکثر شعبوں میں من مانی کی گئی۔ حتیٰ کہ اسی لاقانونیت کی بنا پر ملک دولخت ہو گیا۔ ابھی چند روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ نے خود اعتراف کیا کہ موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے۔ اگر یہ نظام مزید دس برس بھی اسی طرح چلتا یا سسکتا رہا تو کوئی پرفارمنس نہیں دکھا پائے گا۔ نظام سے متعلقہ سیاستدان اور ریاستی اداروں کے دیگر سٹیک ہولڈرز 11 اگست 1947ء کے روز بانیٔ پاکستان کے عطا کردہ آئینے میں اپنی اپنی کارکردگی کاجائزہ لیں۔
اب آئیے دوسرے نکتے کی طرف جس میں قائداعظم نے بدعنوانی‘ رشوت ستانی چور بازاری اور اقربا پروری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تلقین کی تھی۔ اس سلسلے میں تھرڈ پارٹی آڈٹ کروا لیں‘ ملکی اداروں کے اعداد وشمار کا جائزہ لے لیں یا آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کی رپورٹیں ملاحظہ کر لیں‘ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے بدعنوانی کے ہر شعبے میں عالمی ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ہم ماضی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس سلسلے میں ایک تازہ ترین واقعے کا یہاں ذکر کریں گے۔ یہ روح فرسا بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ 7 اگست کو چیئرمین نیب لیفٹیننٹ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف میں تشریف لائے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئرمین اور چیئرمین نیب کے مابین ہونیوالے سوالات و جوابات سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وطن عزیز کرپشن اور بدعنوانی کے کس درجے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے کرپشن کے سمندر میں پھینک دیا گیا ہے‘ مجھے چار ماہ کا وقت دیا جائے تیل‘ بجلی سمیت سب ٹھیک کر دوں گا‘ بشرطیکہ مجھے اختیار دیں اور ہائی لیول کمیٹی بنائے جائے۔ میرے ہاتھ کھولیں۔ انکا کہنا تھا کہ کرپشن کیسز میں سیاستدان اور گورنمنٹ آفیشلز سب شامل ہیں۔ چیئرمین نیب کی بیان کردہ کرپشن کہانی سن کر چیئرمین کمیٹی اور دیگر ممبران نے کہا کہ آپ کے الفاظ سے تو لگتا ہے کہ پورا ملک ہی کرپٹ ہے۔
قائداعظم نے ملک میں امن وامان قائم کرنے کی نصیحت فرمائی تھی مگر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی پر نظر ڈال لیں یا کراچی کی گلیوں میں روزانہ کی بنیاد پر پیر و جواں اور بچوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے اور شہریوں کو دن دہاڑے شاہراہوں اور گھروں میں لوٹ لینے کے واقعات کو دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ملک امن کا گہوارہ نہیں‘ بدامنی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ہم 11 اگست 1947ء کے فرامین قائد کی مسلسل خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔
اب آئیے اس نکتے کی طرف ہمارے سیکولر دانشور جس سے اپنی مرضی کا مطلب نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ بانیٔ پاکستان نے 11اگست کی تقریر میں دیگر اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا تھا کہ آپ مندروں‘ مساجد یا کسی بھی عبادتگاہ میں جانے کیلئے بالکل آزاد ہوں گے۔ قائداعظم کا یہ فرمان میثاقِ مدینہ کے عین مطابق ہے‘ جسے دنیا کے پہلے تحریری آئین کی حیثیت حاصل ہے۔ ممتاز اسلامی مفکر ڈاکٹر حمید اللہ کے بقول میثاقِ مدینہ میں مدینہ کے تمام شہریوں کو مذہب سے قطع نظر برابر کے شہری حقوق دیے گئے تھے۔ 11اگست 1947ء سے پہلے اور اس کے بعد بانیٔ پاکستان کی تقاریر کو جمع کیا جائے تو الم نشرح ہو جائے گا کہ قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد‘ درجنوں بار قائداعظم نے نوزائیدہ ریاست کو ایک ماڈرن اسلامی جمہوری سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ قائد کے نزدیک اسلامی اور جمہوری اصولوں میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ قائد کے بہت سے ہمعصر اور اُن کے بعد آنے والے اسلامی سکالرز نے اسلامی نظام کی اسی تشریح کو روحِ اسلام کے مطابق قرار دیا ہے۔ بانیٔ پاکستان نے اپنی تقریروں میں کبھی بھی سیکولر ازم کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ نوجوانوں کے اذہان میں تشکیک کے کانٹے بونے اور دو قومی نظریے کے بارے میں کنفیوژن پیدا کرنے کیلئے کچھ افراد سعیٔ لاحاصل کرتے رہتے ہیں۔ تاہم آج کے نوجوان بیدار مغز ہیں اور وہ رات دن بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ حکومت اور انتہاپسند ہندو تنظیموں کا غیر انسانی سلوک دیکھتے ہیں تو انہیں حق الیقین ہو جاتا ہے کہ پاکستان ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قائداعظم کی تقاریر میں اسلامی جمہوری نظام کی اصطلاح بار بار استعمال کی گئی ہے۔ کالم کی تنگ دامانی کے سبب یہاں بانیٔ پاکستان کی صرف ایک تقریر سے چند سطور پیش کر رہا ہوں: نومبر 1945ء میں قائداعظم نے پشاور میں دو ٹوک انداز میں کہا تھا: ''آپ نے سپاسنامے میں مجھ سے پوچھا کہ پاکستان میں کون سا قانون ہو گا۔ مجھے آپ کے سوال پر بہت افسوس ہے۔ مسلمانوں کا ایک خدا‘ ایک رسول اور ایک کتاب ہے۔ اسلام ہی پاکستان کے قانون کی بنیاد ہو گا اور پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے خلاف نہیں ہوگا‘‘۔ قائداعظم کے 11 اگست 1947ء کے عطا کردہ آئینے میں پاکستانی حکمران‘ سیاستدان‘ مقتدر حلقے‘ بیورو کریٹس اور عوام اپنا اپنا جائزہ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ان آٹھ دہائیوں میں فرامین قائد کی مسلسل خلاف ورزیاں کر کے ہم نے کیا کیا نقصانات اٹھائے ہیں۔ آدھا ملک گنوا کر 1973ء میں پاکستان کے سیاستدان ایک ایسا آئین بنانے میں کامیاب ہو گئے جو خاصی حد تک قائد کے وژن کے مطابق ہے۔ اللہ نے پاکستان کو خارجہ امور میں بڑی کامیابی عطا فرمائی ہے۔ آج 11اگست 2026ء کو اگر ہم من حیث القوم 11اگست 1947ء کے آئینے میں اپنا جائزہ لے کر فرامین قائد پر دل و جان سے عملدرآمد کا عہد کرلیں تو خُلد میں قائد کی روح فرحاں و شاداں ہو سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved