تحریر : شاہد کاردار تاریخ اشاعت     11-08-2026

شرح مبادلہ کی قدر کا تعاقب

پاکستان کا معاشی بحث مباحثہ اب بھی فرسودہ اصطلاحات میں جکڑا ہوا ہے۔ جب بھی روپیہ کمزور ہوتا ہے تو شور مچ جاتا ہے کہ روپے کی قدر مزید کم ہو گئی۔ مبصرین پوچھنے لگتے ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی کتنی جلد ہونے والی ہے۔ پالیسی ساز اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں شرح مبادلہ کا دفاع کیا جانا چاہیے یا اسے مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ گویا ان کے نزدیک شرح مبادلہ محض پالیسی کا ایک آلہ ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں۔ بحث مباحثہ کی یہ زبان خود ایک ایسے دور سے تعلق رکھتی ہے جو بڑی حد تک ستر کی دہائی کے اوائل میں ختم ہو گیا تھا۔ آج بیشتر ممالک اپنی کرنسیوں کو نسبتاً آزادانہ حرکت کرنے دیتے ہیں۔ جب کسی معیشت میں خطرناک حد تک عدم توازن پیدا ہو جائے تو زیادہ تباہ کن بحران سے بچنے کیلئے کرنسی کو لازماً خود کو ہم آہنگ کرنا پڑتا ہے جیسا کہ پاکستان کی اپنی تاریخ بارہا ظاہر کرتی ہے۔ کرنسی کی شرح مبادلہ کوئی انتظامی فیصلہ نہیں ہوتی۔ یہ ایک ملک کی کرنسی کی دوسرے ملک کی کرنسی کے مقابلے میں بازاری قیمت ہوتی ہے۔ یہ قدر کئی عوامل سے طے پاتی ہے جیسے ملکی افراطِ زر کا تجارتی شراکت دار ممالک کے افراطِ زر سے تقابل‘ سود کی شرحوں کا فرق‘ پیداواری صلاحیت‘ آمدنی سے زیادہ حکومتی اخراجات‘ بیرونی ادائیگیوں کا توازن‘ سرمایہ کے بہاؤ اور زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال۔ سب سے بڑھ کر یہ قدر اس توقع سے تشکیل پاتی ہے کہ کاروباری حلقے سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں معیشت کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ روپیہ اس لیے کمزور نہیں ہوتا کہ پالیسی ساز اسے کمزور کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ یہ اس لیے کمزور ہوتا ہے کہ ملک کے معاشی فیصلوں کے سبب موجودہ شرح مبادلہ کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
مرکزی بینک اس صورتحال کو مختلف طریقوں سے سنبھالنے کی کوشش کرتے ہیں‘ جیسے مقررہ شرح مبادلہ‘ کرنسی کو مینج کرکے آزاد چھوڑنا یا مکمل آزاد چھوڑنا۔ ہر طریقہ اپنی الگ مالی ومعاشی پابندیاں عائد کرتا ہے لیکن کوئی بھی طریقہ حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ پہلے وسیع تر معاشی تصویر کو درست کیے بغیر شرحِ مبادلہ پر قابو پا لے۔ پاکستان میں مختلف انتظامات کیے جاتے رہے لیکن کبھی بھی کسی ایک انتظام کو مستقل اختیار نہیں کیا گیا۔ کبھی شرحِ مبادلہ کو سختی سے قابو میں رکھا گیا‘ کبھی اسے بتدریج کمزور ہونے دیا گیا‘ کبھی انتظامی پابندیوں کے ذریعے روکا گیا اور کبھی صرف آئی ایم ایف کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کے تحت اس میں رد وبدل کیا گیا۔ یہ کوئی مربوط حکمتِ عملی نہیں بلکہ بار بار آنے والے بحرانوں کے جواب میں وقتی اور غیر منظم اقدامات ہیں۔
لوگ اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ روپے کی کمزوری ہی پاکستان کی برآمدات میں مشکلات کی بنیادی وجہ ہے۔ حقیقت میں مسابقت کا تعین کرنے والے عوامل کچھ اور ہیں۔ پاکستان کے برآمد کنندگان کو شرحِ مبادلہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے مثلاً مہنگی اور غیر یقینی توانائی‘ زیادہ ٹیکسز‘ غیر متوقع اور پیچیدہ ریگولیشنز‘ بحری نقل وحمل کا فرسودہ نظام اور کسٹم کی غیر مؤثر کارروائیاں۔ روپے کی قدر میں معمولی کمی اس درجے کی ساختی رکاوٹوں کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ شرحِ مبادلہ بیماری نہیں بلکہ معیشت کے چلائے جانے کے انداز کی ایک علامت ہے۔ شرحِ مبادلہ کے استحکام کا انحصار انتظامی مداخلت پر نہیں ہوتا بلکہ اس کیلئے پالیسی پر اعتماد ہونا ضروری ہے۔ مسلسل مالیاتی خسارے‘ جنہیں قرض لے کر پورا کیا جائے‘ افراطِ زر کو ہوا دیتے‘ اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ بالآخر شرحِ مبادلہ اس قابل نہیں رہتی کہ ایک سطح پر رہ سکے۔ مصنوعی طور پر مضبوط کرنسی کو سہارا دینے سے صرف یہ ہوتا ہے کہ ضروری اصلاح کا عمل مؤخر ہو جاتا ہے اور بالآخر اس عمل کی قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ماہرینِ معاشیات ایک نسبتاً پیچیدہ اصطلاح ''حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ‘‘ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک تشخیصی آلہ ہے جو افراطِ زر کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں کا اس کے تجارتی شراکت داروں کی قیمتوں سے موازنہ کرتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا روپیہ مجموعی طور پر اپنی حقیقی قدر سے زیادہ مہنگا ہے یا سستا۔ یہ کوئی جادوئی پیمانہ نہیں جو آپ کو روپے کی درست قیمت بتا دے خصوصاً اس وقت جب حکومت تجارت اور درآمدی قواعد میں بہت زیادہ مداخلت کر رہی ہو۔ اس کی افادیت کا انحصار معیشت کی ساخت پر بھی ہوتا ہے۔ جہاں تجارت آزاد ہو اور قیمتیں منڈی کی قوتوں کے مطابق حرکت کریں وہاں یہ پیمانہ مفید رہتا ہے لیکن جہاں تحفظ دینے والی پالیسیاں‘ درآمدی پابندیاں اور انتظامی ضابطے بڑے پیمانہ پر موجود ہوں وہاں اس کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔ شرحِ مبادلہ کی نسبت معیشت کی مقابلہ کرنے کی صلاحیت کا تعین ٹیکسز‘ اجازت ناموں کی شرائط‘ کسٹم میں تاخیر اور ریگولیٹری رکاوٹوں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ حکومتیں عارضی طور پر ٹیکسز‘ زرِ مبادلہ پر پابندیوں‘ متعدد شرحِ مبادلہ یا درآمدی پابندیوں کے ذریعے حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے اقدامات وقتی طور پر کرنسی پر دباؤ کم کر سکتے ہیں لیکن وہ مقابلہ کرنے کی بنیادی صلاحیت کو بہتر نہیں بناتے۔ اس کے بجائے وہ زرمبادلہ کی قلت پیدا کرتے اور سرکاری اور بازاری شرحِ مبادلہ کے درمیان فرق کو بڑھا دیتے ہیں۔
ملک کئی مرتبہ ایک ہی چکر سے گزرا ہے: شرحِ مبادلہ کا حقیقی قدر سے زیادہ ہونا‘ ذخائر میں کمی‘ درآمدی پابندیاں‘ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی معاونت‘ روپے کی قدر میں کمی اور پھر اگلے بحران سے پہلے عارضی استحکام۔ اسکے بعد اصلاح کا اقدام خوف وہراس اور روپے کی بڑی قدر میں کمی کے ذریعے سامنے آیا۔ ہر مرحلے کو کرنسی کا بحران قرار دیا گیا حالانکہ اگر شرحِ مبادلہ کو مارکیٹ کے مطابق حرکت کرنے دیا جاتا تو بتدریج اصلاح ممکن ہوتی اور بحرانوں کی شدت کم رہتی۔ شرحِ مبادلہ نے صرف ان بنیادی کمزوریوں کو بے نقاب کیا جو بروقت مالیاتی اور ساختی عدم اصلاحات کا نتیجہ تھیں۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ آج کے حالات ماضی کے بحرانوں سے مختلف ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن مجموعی طور پر برقرار ہے‘ ذخائر مستحکم ہو چکے ہیں‘ سرکاری اور غیر سرکاری شرحِ مبادلہ کے درمیان فرق بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے اور درآمد و برآمد کنندگان کو غیر ملکی زر مبادلہ حاصل کرنے میں نمایاں رکاوٹوں کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن اس استحکام کو بنیادی معاشی حالت میں پائیدار بہتری سمجھنا غلطی ہوگا۔ اس استحکام کو جن عوامل نے سہارا دیا ہوا ہے ان میں غیر معمولی حد تک مضبوط ترسیلاتِ زر‘ مسلسل بیرونی قرضے‘ غیر ملکی قرضوں کی مدت میں توسیع‘ کمزور معاشی سرگرمی کے باعث درآمدی طلب میں کمی‘ بلند افراطِ زر کے نتیجے میں گھریلو طلب کے دباؤ میں کمی اور مرکزی بینک کی جانب سے زرِ مبادلہ کے کاروبار سے وابستہ اداروں کو ترسیلاتِ زر باضابطہ بینکاری نظام میں جمع کرانے کی ہدایات۔ ان تمام عوامل کی وجہ سے روپے پر دباؤ کم ہو جاتا ہے لیکن ان سے ملک کی ساختی کمزوریاں ختم نہیں ہو جاتیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فی کس آمدنی میں اضافہ نہیں ہو رہا اور سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب اب بھی کم ہے۔ اگر پاکستان شرحِ مبادلہ کا دیرپا استحکام چاہتا ہے تو ترجیحات بالکل واضح ہیں‘ وہ یہ کہ مالیاتی نظم وضبط بحال کیا جائے‘ افراطِ زر کم کیا جائے‘ سرکاری ملکیتی اداروں میں اصلاحات کی جائیں‘ تجارتی تحفظ کم کیا جائے‘ توانائی کی قیمتوں کو معقول بنایا جائے‘ پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جائے‘ نقل وحمل کے نظام کو جدید بنایا جائے اور ریگولیٹری ماحول کو زیادہ قابلِ پیش گوئی بنایا جائے۔ یہی اصلاحات روپیہ کے استحکام کا تعین کریں گی نہ کہ شرحِ مبادلہ کو قابو میں رکھنے کی کوششیں۔ شرحِ مبادلہ بیماری نہیں یہ محض تھرمامیٹر ہے لہٰذا اس کو توڑ دینے سے بخار ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس کی پیمائش کو بدل دینے سے مریض کی حالت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ روپیہ صرف اُس معیشت کی عکاسی کرتا ہے جو ہم نے تشکیل دی۔ جب تک معیشت زیادہ مسابقتی اور مالیاتی اعتبار سے زیادہ منظم نہیں بنے گی بالآخر مارکیٹ کی قوتیں ہی طے کریں گی کہ شرحِ مبادلہ کہاں جا کر مستحکم ہو گی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved