ساہیوال جیل میں مجھے جس وارڈ میں قید کیا گیا وہاں ایسی تنہائی اور ویرانی تھی کہ کوئی پرندہ بھی پَر نہیں مار سکتا تھا۔ جیل سے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا مگر اس تنہائی نے ایک عجیب سوہانِ روح میں مبتلا کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا کرم ہے کہ بچپن ہی سے بزرگوں کی تربیت اور گھریلو ماحول کی وجہ سے اس طرح کی کیفیات میں ہمیشہ قرآن کریم کی تلاوت اور مسنون دعائوں سے دل لگا کر اللہ کی نصرت طلب کی ہے۔ سینے میں قرآن محفوظ ہونا ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے۔ کھانا لے کر آنے والے کارندے بھی بات چیت نہ کرتے تھے۔ البتہ ایک جیل افسر جو نوجوان تھے‘ وہ آئے تو انہوں نے ایک دو منٹ کیلئے نرمی سے باتیں کیں اور پھر خدا حافظ کہہ کر واپس چلے گئے۔ اس افسر کا نام شاید 'مہر جہانگیر‘ تھا۔ انہوں نے خود اپنا تعارف کرایا۔ وہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل تھے۔ میں نے ان سے کچھ کہنا چاہا تو انہوں نے کہا: خدا حافظ! پھر ملیں گے۔ اگلے روز وہ دوبارہ آئے اور معمول کا دورہ کرتے ہوئے دو تین منٹ میں حال احوال معلوم کر کے چلے گئے۔ تیسرے روز ان کی آمد پر میں تقریباً اس بات سے مایوس تھا کہ ان سے کوئی بات ہو سکے مگر خلافِ معمول انہوں نے حال احوال پوچھنے کے بعد مزید سوالات بھی کیے‘ جن میں تعلیم‘ آبائی علاقہ‘ خاندانی پس منظر اور پنجاب یونیورسٹی کے انتخابات کو موضوع بنایا گیا۔ مختصر الفاظ میں بارہ پندرہ منٹ باہمی گفتگو ہوئی۔ میں نے قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھی تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ فکر نہ کریں‘ چند دنوں میں یہ مرحلہ ختم ہو جائے گا اور جیل کے کسی دوسرے حصے میں منتقل کر دیا جائے گا۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس سے سخت جگہ بھی جیل میں کوئی ہے؟ جواب ملا کہ ہاں ہے! مگر آپ کو آسان جگہ پر ہی شفٹ کیا جائے گا۔ اگلے روز اس گوشۂ تنہائی سے نکال کر جس حصے میں مجھے لے جایا گیا اس کا نام ''قصوری چکیاں‘‘ تھا۔ ان چکیوں کا تعلق ضلع قصور سے نہیں بلکہ جیل میں بڑے قصور یا جرم کرنے والوں کے حوالے سے یہ نام دیا گیا تھا۔ جیل کی باقی بیرکوں کے مقابلے میں قصوری چکیوں میں زیادہ پابندیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ تاہم آہستہ آہستہ ماحول سے مانوسیت پیدا ہو گئی اور جیل حکام سے اچھے تعلقات کی وجہ سے پابندیاں بھی بتدریج نرم ہونے لگیں۔ اس احاطے میں چالیس چکیاں تھی اور تقریباً 80‘ 85 قیدی بند تھے۔ پہلے دن یہاں آنے پر معلوم ہوا کہ خطرناک قیدیوں‘ جاسوسوں اور منشیات کا دھندہ کرنے والے اسیران کو یہاں رکھا جاتا ہے۔ ہر چکی میں یا تو ایک قیدی ہوتا یا تین‘ دو قیدی کسی چکی میں بند نہیں کیے جاتے تھے۔ اگلے روز صبح آٹھ بجے اعلان ہوا کہ سب لوگ اپنی اپنی چکیوں میں چلے جائیں ''معائنہ‘‘ آ رہا ہے۔ معائنہ بھی جیل کی خاص اصطلاح ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد جیل پروٹوکول اور ضوابط کے مطابق ''باملاحظہ باہوشیار‘‘ کی صدا کے ساتھ بیرونی دروازہ کھلا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر اہلکار آئے۔
میری چکی کے باہر آ کر افسر موصوف نے میرا نام پوچھا۔ پھر حکم دیا کہ قید بامشقت کے قیدی کی حیثیت سے مجھے مشقت کرنا پڑے گی۔ مشقت یہ تھی کہ پرانے کمبل ادھیڑ کر ان کے دھاگے نکالنے اور ان کے گچھے بنانے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ میں ماسٹرز ڈگری ہولڈر ہوں‘ مجھے میرے مناسب حال مشقت دی جائے تو کر لوں گا۔ انہوں نے سنی اَن سنی کر دی۔ میری بات سن کر معائنے کے بعض اہلکار اور پرانے قیدی تعجب کے ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ شاید سوچ رہے تھے کہ اب اس نئے ''مہمان‘‘ کی گت بنے گی۔ اس حکم کے فوراً بعد بوسیدہ اونی کمبل میری چکی کے سامنے رکھ دیے گئے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور ان کا عملہ آگے بڑھ گئے۔ اگلی شام جیل کے ملازمین اونی دھاگے حاصل کرنے کیلئے آئے تو دیکھا کہ کمبل جوں کے توں وہاں پڑے تھے۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو میں نے صاف کہا کہ میں تعلیم یافتہ فرد ہوں‘ میں ایسی مشقت کروں گا جو میری تعلیم کے مطابق ہو‘ مثلاً قیدیوں کو پڑھانا‘ جیل خانے کی لائبریری کو منظم کرنا یا لکھنے پڑھنے کا کوئی دوسرا کام جس کی جیل کے اندر ضرورت ہو۔ اس کے علاوہ کوئی مشقت میرے لیے ممکن نہیں۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں مگر مجھے کوئی پروا نہیں تھی۔ آخر جیل کا عملہ کمبل اٹھا کر لے گیا۔ اس وقت تک اہلکار اور پرانے قیدی‘ جو منشی کہلاتے تھے‘ سبھی میرے لیے اجنبی تھے۔ جب بعد میں وہ مجھ سے بہت مانوس ہوئے تو اس پہلے دن کے بارے میں مختلف انداز میں اظہارِ خیال کیا کرتے تھے۔ ایک قیدی فضل کریم شاد‘ جو بعد میں میرے لیے اخبار لے کر آیا کرتے تھے‘ کہنے لگے کہ آپ نے مشقت سے انکار کیا تو میرا خیال تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل اپنی غضبناک طبیعت کی وجہ سے آگ بگولہ ہو جائیں گے اور آپ کو سخت سزا دیں گے۔ میں فکرمند تھا کہ یہ ایک دبلا پتلا نوجوان ہے۔ اس بے چارے کی ہڈی پسلی ایک ہو جائے گی مگر حیران رہ گیا جب انہوں اپنے عملے سے کہا کہ یہ 'جماعتیا‘ ہے‘ اسے ڈرانا دھمکانا ممکن نہیں‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔
بعد میں جیل حکام کی طرف سے مجھے لائبریری کو منظم کرنے کا کام سونپا گیا۔ میں نے لائبریری میں حالات کا معائنہ کیا اور پندرہ دن میں ہی سب کتب کی عنوانات و موضوعات کے مطابق نئی فہرست مرتب کر لی اور رجسٹر پر بوسیدہ کتابوں کی تفصیل بھی الگ سے لکھ دی۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد روزانہ تو نہیں‘ البتہ کبھی کبھار لائبریری میں جا کر چیک کرتا کہ قیدیوں نے مطالعہ کیلئے جو کتب حاصل کی ہیں وہ مقررہ وقت (پانچ دنوں) کے اندر واپس کی ہیں یا نہیں۔ دو قیدی مستقل طور پر یہاں خدمات سر انجام دیتے تھے۔ میں نے کچھ نئی کتب منگوانے کیلئے ایک فہرست مرتب کر کے دفتر میں ارسال کی۔ کچھ عرصے کے بعد اس فہرست کے مطابق چند ایک کتب کا لائبریری میں اضافہ ہو گیا۔ ان میں ''خطبات‘‘ اور ''دینیات‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر تھیں۔
ساہیوال کے تنظیمی اور جماعت کے ساتھی وقتاً فوقتاً مجھ سے ملاقات کیلئے آتے رہتے تھے۔ اُس زمانے میں جمعیت طلبہ کے ناظم رائو محمد طاہر ساہیوال سے تھے۔ کئی دیگر رفقا بھی جیل میں آتے اور ملاقات کر کے باہر کی بہت سی خبریں سنا دیتے۔ جماعت کے ساتھیوں میں سے ایک مرتبہ پیر محمد اشرف‘ چودھری بشیر احمد اور سید منور بخاری بھی ملاقات کیلئے آئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ اللہ کے فضل سے اب جیل میں ماحول خاصا سازگار اور دوستانہ ہو گیا ہے۔ سرکاری کارندوں اور پرانے قیدیوں کے ساتھ نہ صرف دوستی ہو گئی ہے بلکہ ان کو تحریک اسلامی سے متعارف کرانے کا کام بھی شروع ہو گیا ہے۔ اُس زمانے میں جماعت اسلامی کا نام تو کئی لوگوں نے سن رکھا تھا مگر اس کی دعوت سے زیادہ لوگ واقف نہیں تھے۔ بعض قیدیوں کے بارے میں اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خاصے ذہین ہیں‘ ان پر کچھ کام کیا جائے تو ان کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔
ایک قیدی کا تعلق ضلع جہلم کے ایک گائوں سے تھا۔ وہ ڈکیتی کے کیس میں چودہ سال قید بامشقت بھگت رہا تھا۔ سگریٹ نوشی اور وہ بھی 'بھرا ہوا‘ اس کا مشغلہ تھا۔ مجھے سگریٹ نوشی سے بہت شدید اذیت پہنچتی۔ میں نے اس سے سگریٹ چھوڑنے کا کہا۔ یہ سن کر اس نے جواب دیا کہ میں آپ کے پاس آنا اور اپنی ذمہ داری چھوڑنا تو قبول کر سکتا ہوں مگر سگریٹ چھوڑنا میرے لیے ممکن نہیں۔ میں نے حکمت کے تحت کہا کہ کوئی بات نہیں‘ آپ آتے رہیں اور سگریٹ بھی پیتے رہیں۔ سگریٹ کے دھوئیں سے مجھے ہمیشہ سے شدید نفرت رہی ہے۔ بچپن میں بزرگوں کی محفل میں بیٹھتا تھا جس میں حقہ لازمی ہوتا تھا۔ میں ہمیشہ ذرا فاصلے پر ہی رہتا تھا۔ حالانکہ حقے اور سگریٹ میں بہت فرق ہے۔ حقے کا دھواں پانی میں سے ہو کر آتا ہے گویا کہ وہ دھلا ہوا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اُس وقت امام حسن البنا شہید کی سیرت سے یہ سبق سکھایا کہ اصلاح کیلئے کسی شخص کو اپنے سے دور کرنے کی بجائے اپنے سے قریب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ اصلاح اسی راستے سے ہو گی۔ الحمدللہ! اللہ نے مجھے مایوس نہیں کیا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved