پاکستان،سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی محاذ پر ایک بڑی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ جنگ و جدل کیلئے نہیں بلکہ جنگ اور جارحیت کا ارتکاب روکنے کیلئے ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلئے مل کر چلنا اور کسی جارحانہ اقدام کی صورت میں تینوں ملکوں کے اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا‘ جس سے مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے نمٹا جائے گا۔ ماہرین اس معاہدے کو صرف دفاعی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھ رہے بلکہ اسے معاشی استحکام سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ اس معاہدے کا ایک فریق پاکستان نیوکلیئر پاور‘ دوسرا سعودی عرب معاشی طاقت اور تیسرا ترکیہ جدید جنگی سازوسامان کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس تناظر میں معاہدے کو خطے میں امن و استحکام اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کا بندوبست بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
مغربی میڈیا اس معاہدے کو خطے میں ایک اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے اس میں پاکستان کے کردار کو کلیدی بتا رہا ہے اور اسکی بنیاد امریکہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کے سفارتی اور ثالثی کردار کو بنا رہا ہے۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار نے اسکی علاقائی اہمیت میں اضافہ کیا ہے اور اب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک اپنی سکیورٹی و سلامتی کیلئے پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ اسی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاہدہ ایک طرف پاکستان کی علاقائی اور دفاعی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے تو دوسری جانب اسکا معاشی حیثیت کے حوالے سے بھی اہم کردار ہو گا۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے‘ اپنی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے اور خطے سمیت دنیا بھر میں امن‘ سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے کام کریں گے۔ مذکورہ معاہدے کا اس حوالے سے تجزیہ ضروری ہے کہ اس کے خطے پر اثرات کیا ہوں گے‘ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول کیلئے معاہدے کے فریق کیا اقدامات کریں گے اور سب سے اہم یہ کہ مذکورہ معاہدے کو امریکہ اور اس کے اتحادی کیسے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ علاقائی خطرات اور خدشات کے پیش نظر ایک سٹرٹیجک اعلان ہے جس کا مقصد خطے میں نیا سکیورٹی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے جسکی وجہ سے بھارت اور اسرائیل پریشان ہیں۔ بھارت اس معاہدے کو اپنے لیے خاص پیغام سمجھ رہا ہے اور اسے سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے کہ کسی جارحیت کی صورت میں ترکیہ اور سعودی عرب بھی پاکستان کیساتھ کھڑے ہوں گے۔ جبکہ اسرائیل اس معاہدے کو اپنے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھتا ہے‘ خاص طور پر جب سعودی عرب اور پاکستان فلسطینیوں کیلئے زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مکہ معاہدے پر دستخط کرنے والے تینوں ممالک کو اسرائیلی توسیع پسندی کے بارے میں تشویش ہے۔ اگرچہ تینوں ممالک روایتی طور پر امریکہ کیساتھ اچھے تعلقات کے حامی ہیں لیکن یہ معاہدہ علاقائی صورتحال میں امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ امریکہ پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سلامتی کے ڈھانچے کی طرف بڑھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔یہ معاہدہ خطے کیلئے ایک نئی سمت کو ظاہر کرتا ہے جس نے بہت سے کھلاڑیوں کو اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکی سکیورٹی یقین دہانیوں پر اعتماد کم ہو رہا ہے‘ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کیلئے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ کویت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کو حتمی شکل دے رہا ہے جبکہ بحرین اور اردن ایسے مذاکرات میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں جس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ علاقائی تعاون کو مزید وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے۔ قطر نے سعودی عرب کی مجوزہ بحری دفاعی اتحاد کی حمایت کی ہے‘ تاہم خلیجی تعاون کے حوالے سے اس کے تحفظات کے باعث وہ اس مرکزی اتحاد کا حصہ بننے میں محتاط نظر آتا ہے۔ متحدہ عرب امارات بھی اس اتحاد سے دور ہے‘ جس کی ایک وجہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گرمجوشی اور تعلقات کی مضبوطی ہے۔ عمان عام طور پر غیرجانبدار پالیسی اپناتا ہے اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے اس اتحاد کا حصہ بننے سے گریز کر سکتا ہے۔ البتہ تمام خلیجی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ خلیجی ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ امریکہ ایران جنگ اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے انہیں اپنی سلامتی کیلئے متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے‘ جس کی وجہ سے یہ معاہدہ عمل میں آیا ہے۔
جہاں تک اس معاہدے میں پاکستان کے کردار کا تعلق ہے تو اس میں پاکستان کا کردار کلیدی اور شراکت دار کا ہے۔ یہ کردار طویل سفارتی تاریخ‘ علاقائی اثر و رسوخ اور منفرد دفاعی حیثیت کا نتیجہ ہے۔ اگرچہ مکہ معاہدے پر دستخط وزیراعظم شہباز شریف نے کیے ہیں تاہم اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی کو معاہدے کی اہمیت و حیثیت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انکی موجودگی پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو دی جانے والی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ملکِ عزیز کی عالم اسلام میں منفرد حیثیت اور اس کی ایٹمی طاقت اس اتحاد کو سٹرٹیجک وزن فراہم کرتی ہے جس سے اجتماعی دفاعی صلاحیت میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس اتحاد کا دفاعی‘ سفارتی اور سٹرٹیجک شراکت دار ہے جو اپنی فوجی طاقت‘ جوہری حیثیت اور علاقائی رسائی کے ذریعے اسے عملی اور مؤثر بناتا ہے۔ پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے علاقائی کشیدگی میں بھرپور سفارتی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان نے ایک قابلِ اعتماد پارٹنر کے طور پر کردار ادا کیا ہے۔ جہاں تک خلیجی ریاستوں کا تعلق ہے تو وہ اپنی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے عالمی اور اجتماعی مشاورت کے بعد کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان اور ترکیہ کیساتھ معاہدے کے بعد بھی سعودی عرب کے امریکہ کیساتھ موجودہ سکیورٹی انتظامات تبدیل ہونے کا امکان نہیں‘ تاہم پاکستان‘ ترکیہ اور مصر سمیت خطے کے دیگر ممالک کیساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں مزید وسعت آنے کے واضح امکانات ہیں۔ ایک ایسے خطے میں امن و استحکام کیلئے یہ پیشرفت ناگزیر ہے جو مسلسل عدم استحکام سے دوچار ہے مگر عالمی معیشت کیلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
طویل مدتی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو ایران کو بھی خلیجی سکیورٹی کے علاقائی ڈھانچے کا حصہ ہونا چاہیے مگر اس منزل پر پہنچنے کیلئے تہران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان باہمی اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون ایک مضبوط اور پائیدار علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہے۔ دونوں ممالک کے سکیورٹی خدشات میں نمایاں مماثلت پائی جاتی ہے اور دونوں ہی اپنے اپنے مفاد میں امن و استحکام اور سلامتی کی مضبوطی چاہتے ہیں۔پاکستان نے ماضی میں خلیجی ممالک کے سکیورٹی خدشات کا بروقت اور ذمہ دارانہ جواب دیا ہے اور کسی پر بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی قیادت نے ان کے پاس جا کر‘ کاندھے سے کندھا ملا کر یہ ثبوت فراہم کیا ہے کہ ہم اچھے وقتوں میں ہی نہیں بلکہ برے وقت میں بھی ساتھ ہیں۔ لہٰذا خلیجی ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ وسیع کرتے ہوئے دفاعی رابطوں اور سفارتی کردار کو فعال بنائیں۔ بدلتے حالات میں پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے درمیان قریبی تعاون نہ صرف دونوں جانب کے مفادات کا تقاضا ہے بلکہ یہ پورے خطے کے پائیدار امن و استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ویسے بھی مکہ دفاعی معاہدہ جنگ یا کسی جارحیت کیلئے نہیں بلکہ انہیں روکنے کیلئے وجود میں آیا ہے۔ حالات و واقعات ثابت کر رہے ہیں کہ یہ جنگ و جدل کا دور نہیں‘ مذاکرات اور ڈائیلاگ کا دور ہے اور مل بیٹھ کر مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved