تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     12-08-2026

دوستی کے تقاضے

معاشرے میں رہتے ہوئے انسان اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ قربت محسوس کرتا ہے جبکہ طبیعت اور مزاج کے اختلاف کی وجہ سے لوگوں کے درمیان دوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ مزاج‘ مشاغل اور طبیعتوں کے یکساں ہونے کی وجہ سے اکثر تعلقات شناسائی سے دوستی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بعض لوگ معاشرے میں دوستوں کی رفاقت میں قریبی اعزہ واقارب سے بھی زیادہ سکون اور انسیت محسوس کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جہاں دِلی دوستی ہو وہاں حسد اور بغض نہیں پایا جاتا۔ کتاب وسنت میں دوستوں کے چنائو اور اُن کے حقوق اور فرائض کے حوالے سے بہت مفید اصول وضوابط بیان کیے گئے ہیں۔
کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کے مخالفین سے دوری اختیار کرنی چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الممتحنہ کی آیت: 4 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''(مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کے طرزِ عمل) میں بہترین نمونہ ہے جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو‘ ان سب سے بالکل بیزار ہیں ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں جب تک تم اللہ کی وحدانیت پر ایمان نہ لائو ہم میں (اور) تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہو گئی‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الفرقان میں ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو اپنے دوست کی وجہ سے ناکام و نامراد ہو گیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الفرقان کی آیات: 27 تا 29 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا: ہائے کاش کہ میں نے رسول اللہ کی راہ اختیار کی ہوتی۔ ہائے افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو (وقت پر) دغا دینے والا ہے‘‘۔ ہم آج بھی اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے افراد غلط صحبت کی وجہ سے گمراہی کی دلدل میں اتر جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں دین کا ستہزا کرنے والے لوگوں کو دوست بنانے سے منع کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیات: 57 تا 58 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! ان لوگوں کو دوست نہ بنائو جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنائے ہوئے ہیں (خواہ ) وہ ان میں سے ہوں جو تم سے پہلے کتاب دیے گئے یا کفار ہوں‘ اگر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور جب تم نماز کے لیے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھہرا لیتے ہیں یہ اس واسطے کہ (وہ) بے عقل ہیں‘‘۔
اس کے بالمقابل اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اہلِ ایمان ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کی مددگار ہوتی ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت: 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون) اور دوست ہیں‘ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں‘ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ بہت جلد رحم فرمائے گا بیشک اللہ غلبے والا حکمت والا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ نے اللہ‘ رسولﷺ اور اہلِ ایمان سے محبت اور دوستی اختیار کرنے والے گروہ کو کامیاب گروہ قرار دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص اللہ سے اور اس کے رسول سے اور مسلمانوں سے دوستی کرے‘ وہ یقین مانے کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہے گی‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یوم حشر اہلِ تقویٰ کی دوستی برقرار رہے گی اور باقی تمام دوستیاں مٹ جائیں گی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الزخرف کی آیت: 67 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے‘‘۔
کتاب و سنت میں جہاں دوستی کی بنیاد کا ذکر ہے وہیں دوستوں کے حقوق و فرائض کو بھی واضح کر دیا گیا ہے‘ جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ نیکی کے کاموں میں تعاون اور برائی کے کاموں میں عدم تعاون: دوست کا اپنے دوست پر پہلا حق یہ ہے کہ وہ نیکی کے کاموں میں اس کے ساتھ تعاون کرے اور برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ المائدہ کی آیت: 2 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''نیکی اور پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی امداد کرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زیادتی میں مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بیشک اللہ سخت سزا دینے والا ہے‘‘۔
2۔ اللہ کی اور رسول اللہﷺ کی اطاعت اور اعمالِ صالحہ کی تلقین: دوست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ اپنے دوست کو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور اعمال صالحہ کی انجام دہی کی تلقین کرے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت: 71 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''مومن مرد و عورت آپس میں ایک دوسرے کے (مددگار و معاون اور) دوست ہیں‘ وہ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں‘ نمازوں کو پابندی سے بجا لاتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی بات مانتے ہیں‘‘۔
3۔ دوستوں کے لیے دعا: دوستوں کا انسان پر یہ بھی حق ہے کہ انسان ان کے لیے دعائے خیر کرتا رہے۔ اس حوالے سے طبقات ابن سعد اور سیر اعلام النبلاء میں حضرت ام الدرداءؓ نے حضرت ابوالدرداءؓ کے حوالے سے یہ اثر بیان کیا ہے کہ ''اللہ کی خاطر حضرت ابو الدرداءؓ کے 360 دوست تھے‘ وہ نماز میں ان سب کے لیے دعا کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو فرشتے مقرر فرماتا ہے جو کہتے ہیں: تمہارے لیے بھی اسی طرح ہو۔ تو کیا میں یہ پسند نہ کروں کہ فرشتے میرے لیے دعا کریں‘‘۔
4۔ بیمار پرسی: جب کوئی مسلمان دوست بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کے لیے انسان کو ضرور پہنچنا چاہیے۔ احادیث مبارکہ میں اس کا بہت زیادہ اجر وثواب ذکر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے‘ وہ واپس آنے تک جنت کے باغ میں رہتا ہے‘‘۔
5۔ دوست کے جنازے میں شرکت: اگر دوست کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرنی چاہیے۔ مسلمان کے جنازے میں شرکت کرنا انتہائی اجرو ثواب کا باعث ہے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری وصحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا۔ ہر قیراط اتنا بڑا ہو گا جیسے احد کا پہاڑ‘ اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا‘‘۔
6۔ دوست کے اعزہ واقارب سے حسنِ سلوک: انسان کو اگر کسی سے محبت ہو تو اس کے انتقال کے بعد اس کے اہلِ خانہ اور اعزہ واقارب کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ حضرت سیدہ خدیجہؓ کا ذکر بکثرت فرمایا کرتے تھے اور اگر کبھی کوئی بکری ذبح کرتے تو اس کے ٹکڑے کر کے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی ملنے والیوں (ان کی سہیلیوں) کو بھیجتے تھے۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو دوستی کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved