تشدد نتیجہ ہے‘ انتہا پسندانہ سوچ کا۔ سوچ بیانیے سے بنتی ہے۔ بیانیہ لفظوں سے تشکیل پاتا ہے جو زبان اور قلم سے ٹپکتے اور فضا میں پھیل جاتے ہیں۔ جیتا جاگتا انسان اس فضا میں سانس لیتا ہے۔ یوں اس بیانیے کا زہر اس کے رگ وپے میں سرایت کر جاتا ہے۔ اب اسے کسی تنظیم میں شامل ہو نے کی حاجت نہیں رہتی۔ وہ کسی کالج اور مدرسے میں داخلہ لینے کا محتاج نہیں ہوتا۔ اسے کسی تربیت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اب وہ خود کفیل ہے۔ وہ خود مدرسہ بھی ہے اور مکتب بھی۔ تربیت گاہ بھی اور تنظیم بھی۔
خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ خود رندِ سبو کش
یہ1960 ء کی دہائی کا قصہ ہے۔ ہر سُو مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی 'خلافت و ملوکیت‘ کا چرچا تھا۔ محراب ومنبرکا مرغوب موضوع یہی کتاب تھی۔ گستاخ‘ گستاخ کا شور برپا تھا۔ مصنف خطیبوں کی شعلہ نوائی کا ہدف تھے۔ ابھی جہادی کلچر کو فروغ نہیں ملا تھا۔ اہلِ علم اور مساجد کو یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہ بم دھماکوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ مولانا مودودی کا معمول یہ تھا کہ وہ عصر کی نماز کے بعد‘ اپنے گھر کے لان میں ایک نشست کا اہتمام کرتے تھے جس میں جو چاہے‘ شریک ہو سکتا تھا۔ لوگ مختلف موضوعات پر سوالات اٹھاتے اور علم کے اس سرچشمے سے بقدر ظرف سیراب ہوتے۔
مولانا کے خلاف خطیبوں کا گھولا ہوا یہ زہر ایک نوجوان کے خون میں اس طرح گھل گیا کہ خنجر بکف مولانا کی عصری نشست میں جا پہنچا۔ ارادہ یہ تھا کہ اس گستاخ کا منہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے جو شعائر اسلام کی توہین کرتا ہے۔ وہ ہاتھ کبھی قلم نہ اٹھا سکے جو اس کے خیال میں صحابہ کرامؓ کے خلاف چلتا ہے۔ اس نوجوان نے جب مولانا کی گفتگو سنی تو مخمصے میں پڑ گیا۔ ایک تو مولانا کی دل آویز شخصیت ا ور اس پر مستزاد کوثرو تسنیم میں دھلی زبان جو قرآن و سنت میں بند حکمت کو سہل بناتی جا رہی تھی۔ نوجوان کے اندر سے گواہی آئی کہ یہ زبان اور قلم دین کے خادم تو ہو سکتے ہیں‘ گستاخ نہیں۔ اس نے جو سنا محض افسانہ ہے۔ اسے جو بتایا گیا‘ صرف تعصب ہے۔ اس نے خنجر نکالا‘ مولانا کے سامنے رکھا اور اپنے اس ارادے کو بیان کیا‘ جس کے ساتھ وہ اس مجلس میں آیا تھا۔ اس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی۔ مولانا کی عصری مجالس کی روداد' 5 اے ذیلدار پارک‘ میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ درج ہے۔
اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ کوئی تنظیم قائم ہوئی ہو یا کوئی جتھا بنا یا گیا ہو جس نے مولانا کے قتل کا فیصلہ کیا ہو اور اس نوجوان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ یہ بیانیے کی وہ تلخی تھی جو فضا میں گھول دی گئی تھی۔ لوگوں نے حسبِ توفیق اس سے اثر لیا۔ کسی نے دل میں نفرت کو سینچا۔ کسی نے زبان چلائی اور کسی نے قلم۔ یہ نوجوان زیادہ 'باہمت‘ تھا جس نے خنجر اٹھا لیا۔ انتہا پسندی کا بیانیہ اسی طرح ایک معاشرے کو پُرتشدد بناتا ہے۔ افراد سے نفرت اداروں سے نفرت میں بدلتی اور اداروں سے نفرت‘ ملک سے بغاوت پر اکساتی ہے۔ اصل مجرم وہ ہوتے ہیں جو زبان اور قلم کو تلوار اور تیر میں بدل دیتے ہیں۔ لفظوں سے چرکے لگاتے ہیں اور انسانی نفسیات کو زخمی کر دیتے ہیں۔
پاکستانی عوام آج نفرت کے متعدد بیانیوں کی زد میں ہیں۔ انہیں مذہب میں فروغ دیا گیا اور اب سیاست میں بھی ان کا غلبہ ہے۔ یہ بیانیہ ان لوگوں نے بنایا جنہوں نے پہلے اس نظام کے خلاف نفرت پیدا کی۔ اسے تیزاب سے غسل دینے کی ترکیب پیش کی۔ پھراس نفرت کو افراد کی طرف منتقل کر دیا۔ کہیں ان کے چہروں پہ سیاہی پھینکی گئی۔ کہیں ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا۔ اس کو سیاسی شعور کا نام دے کر اس کی تاویلات کی گئیں۔ ملک سے باہر بیٹھے ہوئے یوٹیوبرز کا حصہ اس بیانیے کے فروغ میں سب سے زیادہ ہے۔ محمد حسین اس بیانیے کا ایک حاصل ہے۔ اس دستِ ہنر نے نہیں معلوم اس طرح کے کتنے شاہکار تخلیق کیے ہوں گے۔
مصلحین کا طریقہ کبھی یہ نہیں رہا۔ پیغمبروں کی سیرت ہمارے سامنے ہے۔ فرعون جیسا کون ہوگا جسے اللہ نے سرکش قرار دیا۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا کہ اس کا سرِ پُرغرور خاک آلود ہو۔ اس کے باوصف‘ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجا تو یہی کہا کہ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنی ہے۔ پیغمبر کبھی سسٹم یا افراد کے خلاف نفرت کا بیانیہ نہیں بناتے۔ وہ خون بہانے کی بات نہیں کرتے۔ مذہب حالتِ جنگ میں بزدلی کو قبول نہیں کرتا لیکن عمومی زندگی میں صبر کو ایک قدر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ صبر بزدلی ہے نہ بے حمیتی۔ یہ حکمتِ عملی ہے جس میں نتائج کو سامنے رکھ کر قدم اٹھایا جاتا ہے۔ یہ ردعمل کی نفسیات سے نکال کر‘ انسان کو مثبت عمل کے راستے پر ڈالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ صابرین کے ساتھ ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں۔ لوگوں کو ریاست اور حکومت سے جائز شکایات ہیں۔ ان کے اظہار پر قدغن نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوری حکومتوں کو ایسی تنقید کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔ شکایات کا مطلب مگر یہ نہیں کہ بعض طبقوں میں افراد یا اداروں کے خلاف نفرت کا بیانیہ بنایا جائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست کا الگ سے کوئی وجود نہیں ہے۔ وہ اداروں کے اجتماع کا نام ہے۔ نفرت انقلابی تحریکوں کا ہتھیار ہے‘ اصلاح پسندوں کا نہیں۔ محمد حسین جیسے کرداروں کا جنم لینا تشویش کی بات ہے اور یہ براہ راست نتیجہ ہے‘ ان نفرت انگز بیانیوں کا جو ایسے کردار پیدا کرتے ہیں۔ ریاست‘ اہلِ سیاست اور اہلِ دانش کو مل کر اس پر غور کرنا ہو گا کہ کیسے نفرت کے اس زہر کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ صرف ریاست کا نہیں‘ معاشرے کا بھی مسئلہ ہے۔ حکومت کے ساتھ‘ معاشرے کو اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ سیاسی جماعتیں‘ میڈیا اوراہلِ دانش سماج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ میری تجویز ہے کہ اس تشدد آمیز بیانیے کے خلاف سیاسی جماعتوں کی ایک گول میز کانفرنس ہونی چاہیے جس میں تحریک انصاف کو بھی شریک کیا جائے۔ بیرسڑ گوہر صاحب نے محمد حسین سے اظہارِ لاتعلقی کیا ہے۔ انہیں ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے‘ ان عناصر سے اظہارِ برأت کرنا چاہیے جو ملک سے باہر بیٹھ کر نفرت آمیز بیانیے کو پھیلاتے ہیں۔ تحریک انصاف کو اس سیاسی مکالمے کا حصہ بنانا چاہیے۔
پُرامن ماحول سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے۔ جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی جیسی جماعتوں کو یہ گلہ رہا کہ وہ گزشتہ انتخابات میں‘ کے پی کے عوام تک پہنچ ہی نہ سکے اور اس کا سبب وہ انتہاپسند گروہ تھے جن سے ان جماعتوں کا کوئی اجتماع محفوظ تھا نہ راہنما۔ وہ اس گلے میں حق بجانب ہیں۔ اگر نفرت کا بیانیہ پھیلا تو کوئی بھی عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس لیے سب کو مل کر اپنے اپنے لب ولہجے کو دیکھنا ہو گا اور اس کے ساتھ فسادی عناصر سے اعلانیہ اظہارِ لاتعلقی کرنا ہو گا۔ محمد حسین کا واقعہ ایک بخار کی طرح ہے جو اس بات کا اظہار ہے کہ جسم میں کوئی ایسی بیماری موجود ہے جو اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر بخار کو نظر انداز کیا گیا تو خطرہ ہے کہ سارا جسم بیماری کی لپیٹ میں آ جائے۔
ہم مذہب میں انتہا پسندی کا نتیجہ دیکھ چکے۔ عجیب بات ہے کہ جو اہلِ دانش مذہبی انتہا پسندی کے خلاف شمشیر بکف تھے‘ وہ سیاسی انتہا پسندی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ سماج کے لیے دونوں کے نتائج ایک جیسے ہیں۔ امن کے لیے‘ سماج کو دونوں سے پاک کرنا ہو گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved